عورت پر تیزاب پھینکنے والے کو سزائے موت

انڈیا کے شہر ممبئی میں ایک عدالت نے تین سال پہلے ایک خاتون پر تیزاب پھینکنے والے ایک شخص کو موت کی سزا سنائی ہے۔

23 سالہ پریتی راٹھی پر اس وقت تیزاب پھینکا گیا تھا جب وہ نرس کی حیثیت سے انڈین نیوی میں شامل ہونے کے لیے دِلی سے ممبئی پہنچی تھیں۔

ان کے پڑوسی انکور پنور کا کہنا ہے کہ انھوں نے پریتی راٹھی پر تیزاب اس لیے پھینکا تھا کیونکہ انھوں نے ان کا رشتہ مسترد کر دیا تھا۔

حالیہ عدالتی فیصلہ اس لیے اہم ہے کیونکہ اس سے پہلے اس نوعیت کے مقدمات میں معمولی سزائیں سنائی جاتی ہیں۔

25 سالہ پنور کو منگل کے روز قتل اور دیگر جرائم میں سزا سنائی گئی تھی۔ امید ہے کہ وہ اپنی سزا کے خلاف ایک اعلیٰ عدالت میں اپیل دائر کریں گے۔

جمعرات کے روز عدالت نے قرار دیا کہ یہ جرم جرائم کی بہت ہی مخصوص کیٹیگری میں آتا ہے جس میں موت کی سزا دینا جائز ہے۔

پریتی راٹھی جنہیں 2 مئی 2013 کو ہونے والے تیزاب حملے سے پھیپھڑوں اور آنکھوں میں شدید زخم آئے تھے ایک ماہ بعد انتقال کر گئی تھیں۔

ان کی وفات سے ایک ماہ بعد انڈیا کے سپریم کورٹ نے وفاقی اور ریاستی حکومتوں کو کہا تھا کہ تیزاب کی خرید و فروخت کا کوئی منظم نظام متعارف کرائیں۔

عدالت نے کہا تھا کہ تیزاب صرف ان افراد کو بیچا جائے جن کے پاس شناختی کارڈ موجود ہو۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اب بھی وسیع پیمانے پر اور آسانی سے دستیاب ہے۔

حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ہر سال اس نوعیت کے سینکڑوں حملے ہوتے ہیں لیکن اس شعبے میں کام کرنے والے کارکنوں کا کہنا ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔

متعلقہ عنوانات