انڈیا میں ریل کے کرایوں میں اضافے پر تنقید

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

انڈین ریلویز کی جانب سے تین پریمیئر ٹرین سروسز کی جانب سے نئے کرائے جاری کرنے کے فیصلے پر سوشل میڈیا کے صارفین نے غصے کا اظہار کیا ہے۔

حکام نے اعلان کیا ہے راجدھانی، شتابدی اور ڈیورانٹو ایکسپریس سروسز کے پہلے دس فیصد ٹکٹوں کے موجودہ کرائے برقرار رہیں گے۔ اس کے بعد ہر دس فیصد فروخت کی جانے والی ٹکٹوں پر دس فیصد کرایہ بڑھایا جائے گا۔ انھوں نے اسے ’فلیکسی فیئر‘ کا نام دیا ہے۔

اس کے بعد سے ہر دس فیصد بکنے والوں برتھوں پر کرایہ دس فیصد بڑھتا جائے گا، اور حتمی کرایہ موجودہ کرائے سے ڈیڑھ گنا زیادہ تک ہو جائے گا۔

متعدد افراد نے انڈین ریلویز کے اس فیصلے پر تنقید کی ہے۔

انڈین ریلویز کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ اقدام ’تجرباتی‘ ہے اور وہ مسافروں کی جانب سے ملنے والے ردِ عمل پر غور کریں گے۔

خیال رہے کہ انڈیا کی سرکاری ریلویز کی 12 ہزار سے زائد ٹرینوں کے ذریعے روزانہ دو کروڑ 30 لاکھ مسافروں سفر کرتے ہیں تاہم یہ محکمہ بھاری سبسڈی کی وجہ سے خسارے کا شکار ہے۔ سنہ 2014 میں انڈین ریلویز کو پانچ ارب کا نقصان ہوا تھا۔

انڈیا میں تین پریمیئر ٹرین سروسز کی مانگ تیز اور آرام دہ سفر کی وجہ سے زیادہ ہے۔ یہ تینوں سروسز ملک کے زیادہ تر علاقوں کا فاصلہ دیگر ٹرینوں کے مقابلے میں جلدی طے کرتی ہیں۔

اس منصوبے کے مخالفین کا کہنا ہے کہ انڈین ریلویز کی جانب سے نئے کرایوں میں اضافے کے اعلان کے بعد ملک میں چلنے والی کم خرچ ایئر لائنوں کے مقابلے میں ان ٹرینوں کا سفر مہنگا ہونے کا خدشہ ہے۔

انڈیا میں جمعرات کو ٹوئٹر پر ہیش ٹیگ ’سرج پرائسنگ‘ ٹرینڈ کرتا رہا۔

متعدد ٹوئٹر صارفین نے انڈین ریلویز کے وزیر سریش پرہبو اور وزیرِ اعظم نریندر مودی سے اس فیصلے پر نظر ثانی کرنے کے لیے ٹویٹس کیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں