’علیحدگی پسندوں سے بات چیت نہیں ہو گی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption جنوبی کشمیر میں فوجی کمک بڑھائی گئی ہے اور فوج نے جموں خطے سے ’شورش زدہ جنوبی کشمیر میں کئی اضافی کمپنیاں بھیجی ہیں

بھارتی اخبارات کے مطابق وفاقی حکومت کا خیال ہے کہ کشمیر میں جاری شورش میں ’مذہب کا عمل دخل زیادہ ہے‘ اور وہاں تشدد کا راستہ اختیار کرنے والے ریاست کی جمہوری طور پر منتخب حکومت کا تختہ پلٹ کر ایک ’مذہبی حکومت‘ قائم کرنا چاہتے ہیں۔

بھارتی اخبارات میں جمعہ کو سرکاری ذرائع کے حوالے سے کشمیر کے بارے میں جو خبریں شائع ہوئی ہیں ان سے اشارہ ملتا ہےکہ وفاقی حکومت کن خطوط پر سوچ رہی ہے۔

اخبار ہندوستان ٹائمز کے مطابق سرکاری ذرائع نے اسے بتایا ہے کہ ’حکومت علیحدگی پسندوں سے بات چیت نہیں کرے گی کیونکہ وہ پہلے تشدد کے ذریعے ایک منتخب حکومت کا تختہ پلٹنے کی کوششوں کا قلع قمع کرنا چاہتی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption انڈيا کے زیر انتظام کشمیر بھارت کے خلاف احتجاجی مظاہرے، شہر سے گاؤن تک پھیل چکے جس میں خواتین اور بچے سبھی بڑی تعداد میں حصہ لے رہے

لیکن کشمیر سے کل جماعتی وفد کی واپسی کے بعد بدھ کو وفاقی وزیر جتیندر سنگھ نے باضابطہ یہ بات کہی تھی کہ ’تمام سٹیک ہولڈرز (یا فریقین) سے بات چیت کے راستے کھلے ہیں۔‘

کشمیر میں شورش کی تازہ لہر دو مہینے پہلے سکیورٹی فورسز کے ساتھ ایک مقابلے میں حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد شروع ہوئی تھی اور تشدد کے واقعات میں اب تک 70 سے زیادہ لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔

اخبارات میں شائع ہونےوالی خبروں کے مطابق حکومت کو ’101 فیصد یقین ہے‘ کے کشمیر کی موجودہ شورش میں پاکستان کا ہاتھ ہے۔

یہ دعویٰ تو حکومت کی جانب سے پہلے بھی کیا گیا ہے لیکن نسبتاً نئی بات حکومت کا یہ موقف ہے کہ وادی کے مسلمانوں میں ’ریڈیکلائزیشن‘ بڑھ رہی ہے اور وہ تصوف سے ہٹ کر ’وہابی‘ اسلام کا رخ کر رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شورش کی تازہ لہر دو مہینے پہلے سکیورٹی فورسز کےساتھ ایک مقابلے میں حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد شروع ہوئی تھی اور تشدد کے واقعات میں اب تک 70 سے زیادہ لوگ ہلاک ہو چکے ہیں

ٹائمز آف انڈیا نے لکھا ہے کہ ’حکومت سخت موقف اختیار کرے گی، جموں و کشمیر میں وہابی مذہبی حکومت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘

کل جماعتی وفد میں شامل کئی رہنماؤں نے حکومت سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ وہ حالات پر قابو پانے کے لیے تمام فریقین سے بات چیت کرے حالانکہ خود حریت کے رہنماؤں نے سرینگر میں ان سے ملنے سے انکار کر دیا تھا۔

ٹائمز آف انڈیا کے مطابق حکومت کے نظریے سے ’اس بات میں کوئی شبہ باقی نہیں رہ جاتا کہ حکومت شورش سے نمٹنے کے لیے طاقت کا استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گی۔۔۔‘

ایک دیگر خبر میں اخبار کا کہنا ہے کہ جنوبی کشمیر میں فوجی کمک بڑھائی گئی ہے اور فوج نے جموں خطے سے ’شورش زدہ جنوبی کشمیر میں کئی اضافی کمپنیاں بھیجی ہیں۔‘

اخبار کے مطابق ’سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ‘ کے ذرائع نے اسے بتایا ہے کہ وفاقی حکومت نے حالات مزید بگڑنے کی صورت میں فوج کو ’اضافی ذمہ داریاں اور اختیارات‘ دینے کا راستہ بھی کھلا رکھا ہے۔۔۔اور پالیسی کے تحت نیم فوجی دستوں کو براہ راست فوج کی کمان میں دیا جاسکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption حکومت کے موقف سے لگتا ہے کہ فی الحال بات چیت کے راستے بند ہو چکے ہیں اور کشمیر میں موسم بھلے ہی ٹھنڈا ہونے لگا ہو، وہاں گرمی کم ہونے میں ابھی وقت لگے گا

ادھر وزیر اعظم نریندر مودی نےگذشتہ تین چار دنوں میں آسیان اور جی ٹوئنٹی کے سربراہی اجلاسوں میں پاکستان کو ’دہشتگردی کی سرکاری طور پر اعانت کرنے پر‘ نشانہ بنایا ہے۔

لاؤس میں انھوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں ایک ملک ایسا ہے’۔۔۔جس کا کاروبار صرف دہشتگردی ایکسپورٹ کرنا ہے۔۔۔اور اب اسے روکنے کا وقت آگیا ہے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں