افغانستان کی مصنوعات کو بھارت جانےسے نہیں روکا: پاکستان

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption افغانستان کی مصنوعات واہگہ باڈر کے ذریعے انڈیا برآمد ہوتی ہیں

پاکستان نے کہا ہے کہ واہگہ باڈر کے ذریعے افغان مصنوعات انڈیا برآمد کرنے پر کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی ہے اور واہگہ کے راستے افغان مصنوعات مسلسل انڈیا جا رہی ہیں۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ پاکستان نے افغانستان کی مصنوعات کے لیے اپنی بندرگاہوں اور سرحدوں کو بند نہیں کیا ہے۔

٭پاکستانی تجارتی گاڑیوں کے افغانستان سے گزرنے پر پابندی

٭پاک افغان ’باب دوستی‘ آمدورفت کے لیے کھل گیا

ترجمان نفیس زکریا نے بی بی سی کی سارہ حسن کو بتایا کہ ہم پاکستان افغان عوام کے ساتھ اپنا وعدے کو پورے کرتے ہوئے تجارتی راہداری میں سہولت فراہم کر رہے ہیں۔‘

انھوں نے واضح کیا کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ معاہدے کے تحت انڈیا کی مصنوعات پاکستان کے راستے افغانستان برآمد نہیں کی جا سکتی ہیں۔‘

افغانستان کے صدر اشرف غنی نے کہا تھا کہ پاکستان نے واہگہ بارڈر سے افغان اشیا لے جانے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

انھوں نے پاکستان کو متنبہ کیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے پابندی کے بعد افغانستان بھی پاکستانی مال بردار گاڑیوں کے افغانستان کے راستے وسطی ایشیائی ممالک جانے پر پابندی عائد کر دے گا۔

Image caption افغان حکومت نے یہ احکامات پاکستان کی سرحد پر موجود افغان حکام تک پہنچا دیے ہیں

پاکستان کی وزارتِ تجارت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ افغان مصنوعات کے لیے واہگہ باڈر بند نہیں ہوا ہے۔

پاکستان کی وزارتِ تجارت کے ترجمان محمد اشرف نے بتایا کہ افغان پاکستان تجارتی راہداری کے منصوبے کے تحت افغانستان کی برآمدی مصنوعات پاکستان کے واہگہ باڈر کے ذریعے انڈیا جاتی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’ہماری طرف سے افغانستان کی مصنوعات کی واہگہ کے راستے انڈیا برآمد میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور افغان مصنوعات واہگہ کے راستے انڈیا برآمد ہو رہی ہیں۔‘

سنیچر کو افغان صدارتی محل کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہاگیا ہے کہ وسطی ایشیائی ریاستوں میں جانے والی پاکستانی مال گاڑیوں کو ملک سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان صدر اشرف غنی نے یہ اعلان پاکستان کی جانب سے افغانستان کی مصنوعات خاص طور پر میوہ جات واہگہ بارڈر سے انڈیا برآمد پر پابندی کے ردِ عمل میں کیا ہے۔

افغانستان کے صدارتی محل کے ایک ترجمان شاہ حسین مرتضوی نے بی بی سی افغان سروس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے چمن بارڈر کو اس وقت بند کیا جب میوہ جات برآمد کرنے کا وقت تھا۔

انھوں نے کہا کہ چمن باڈر بند ہونے کے سبب افغانستان کے تاجروں کو بہت نقصان ہوا تھا۔

مرتضوی کے مطابق افغان صدر نے بھارت سے اس معاملہ پر بات کی جس کے بعد انڈیا نے افغانستان سے آنے والے میوہ جات پر ٹیکسوں کی چھوٹ دینے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption گذشتہ ماہ بلوچستان کے علاقے چمن میں کشیدگی کے بعد پاکستان نے چمن کی سرحد کو بند کر دیا تھا

یاد رہے کہ افغانستان کی مصنوعات واہگہ باڈر کے ذریعے انڈیا برآمد ہوتی ہیں۔

گذشتہ ماہ بلوچستان کے علاقے چمن میں کشیدگی کے بعد پاکستان نے چمن کی سرحد کو بند کر دیا تھا جبکہ اس سے پہلے طورخم باڈر بھی کافی دن تک بند رہا تھا۔ باڈر بند ہونے کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی نقل و حمل بھی منقطع تھا۔

افغانستان کی برآمدی مصنوعات چمن اور طورخم باڈر کے ذریعے پاکستان آتی ہیں جہاں سے وہ پاکستانی ٹرکوں کے ذریعے واہگہ جاتی ہیں۔

یاد رہے کہ پاکستان افغانستان تجارتی راہداری کے معاہدے کے تحت انڈیا کی برآمدی مصنوعات واہگہ کے راستے پاکستان سے ہوتے ہوئے افغانستان برآمد نہیں کی جا سکتی ہیں۔

افغانستان میں آٹا اور دیگر زرعی اجناس پاکستان سے درآمد کرتا ہے۔

افغان صدراتی ترجمان شاہ حسین مرتضوی کا کہنا ہے کہ گو کہ افغانستان کی مارکیٹوں میں سب سے زیادہ پاکستانی اشیا موجود ہیں تاہم اب افغان حکومت نے متبادل راستوں پر غور کرنا شروع کر دیا ہے اور ’اب افغانستان ایک لینڈ لاک کنٹری نہیں رہا۔‘

افغانستان کا دیرینہ مطالبہ ہے کہ پاکستان واہگہ کے ذریعے انڈین برآمدی مصنوعات افغانستان آنے کی اجازت دے لیکن پاکستان کا کہنا ہے کہ تحارتی راہداری معاہدے کے تحت پاکستان اس بات کا پابند نہیں کہ وہ انڈین مصنوعات کی افغانستان برآمد کو بھی یقینی بنائے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں