پانی پر دو ریاستوں میں ٹھن گئی

بھارت کی ریاست کرناٹک کے شہر بنگلور میں ایک درینہ تنازع پر مظاہرے اور پرتشدد واقعات ہونے لگے ہیں۔ معاملہ ہے پانی کا۔ مظاہرین ملک کی عدالتِ عظمیٰ کے اس فیصلے سے ناخوش ہیں جس میں کرناٹک کی ریاست کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ کاویری دریا کا پانی ہمسایہ ریاست تمل ناڈو کے ساتھ بانٹ کر استعمال کریں۔ ہمارے نامہ نگار نے تازہ ترین صورتحال سے ہمیں آگاہ کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ kashif masood
Image caption ستمبر کے آغاز میں سریم کورٹ نے کرناٹکا کو دس روز تک 12000 مربع فٹ فی سیکنڈ پانی دریا میں چھوڑنے کا حکم دیا

پیر کی دوپہر جنوبی بنگلور میں بناشنکاری کے علاقے میں ایک سکول بس آ کر رکتی ہے۔ شراب کے نشے میں دھت تین مرد بس پر چھڑتے ہیں اور باآوازِ بلند پوچھتے ہیں ’ کونسا بچہ کرناٹک کا ہے اور کونسا تمل ناڈو کا؟‘

بس پر بیٹھے دس سے چودہ سال عمر کے تقریباً پندرہ طالبعلم حیران ہو جاتے ہیں۔ ان کے سکول نے انھیں شہر میں خراب حالات کے پیشِ نظر جلدی گھر بھیج دیا تھا۔

بچوں میں سے ایک کے والدین نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ خوش قسمتی سے اس موقعے پر بس کے ڈرائیور نے عقلمندی کا ثبوت دیا۔ ڈرائیور نے ان مردوں سے کہا کہ بس پر تمام بچے بنگلور سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے خاندان والے کاویری کے معاملے میں کرناٹک کی حمایت کرتے ہیں۔

رسائی کی جنگ

غروبِ آفتاب تک بنگلور میں آسمان گہرے دھوئیں سے بھرا ہوا تھا۔ مظاہرین نے 35 بسوں کو صرف اس لیے آگ لگا دی تھی کیونکہ وہ ایک ایسی ٹریول ایجنسی کی ملکیت تھیں جس کا مالک تامل تھا۔

اس ماہ کے آغاز میں انڈیا کی سپریم کورٹ نے حکم جاری کیا تھا کہ 20 ستمبر سے کرناٹک کاویری دریا میں کم از کم 12000 مربع فٹ پانی تمل ناڈو کے لیے چھوڑنا ہوگا۔ دونوں ریاستوں کا کہنا ہے کہ انھیں فوری طور پر آب پاشی کے لیے پانی درکار ہے اور یہ تنازع کئی دہائیوں سے جاری ہے۔

کرناٹک کا کہنا ہے کہ ناکافی بارشوں کی وجہ سے کاویری میں پانی انتہائی کم ہوگیا ہے اور ریاست میں آب پاشی کے 42 فیصد ذخائر سوکھے پڑے ہیں چنانچہ وہ تمل ناڈو کو پانی نہیں دے سکتے جس کے بعد تمل ناڈو نے عدالتِ عظمیٰ میں 50000 مربع فٹ فی سیکنڈ کا دعویٰ کر دیا۔

ستمبر کے آغاز میں سریم کورٹ نے کرناٹک کو دس روز تک 12000 مربع فٹ فی سیکنڈ پانی دریا میں چھوڑنے کا حکم دیا جو کہ دریا کا تقریباً ایک چوتھائی پانی ہے۔

تمل ناڈو کا کہنا ہے کہ انھیں آب پاشی کے لیے پانی چاہیے جبکہ کرناٹک کا دعویٰ ہے کہ بنگلور اور دیگر شہروں میں پینے کے پانی تک کی قلت ہے۔

ادھر تمل ناڈو کے کسان مختص پانی کے حصے سے بھی ناخوش ہیں۔ مقامی تنظیم ساؤتھ انڈیئن فارمرز اسوسی ایشن کے صدر پی آیاکانو کا کہنا ہے کہ یہ تو ایسے ہے جیسے ہاتھی کا پیٹ بھرنے کے لیے ایک کبوتر دیا گیا ہو۔

بڑھتا ہوا فساد

عدالت سے ناخوش ہونے کے بعد اب کرناٹک میں جذبات ابل رہے ہیں۔ سب سے زیادہ نقصان بنگلور میں ہوا ہے جہاں فسادات کی وجہ سے متعدد دفاتر بند اور پبلک ٹرانسپورٹ معطل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کرناٹکا میں تامل ناڈو کی نمبر پلیٹوں والے ٹرکوں اور بسوں کو آگ لگائی گئی

شہر میں ہنگامی قوانین نافذ اور 15000 سے زیادہ پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

پیر کو پولیس نے جب مظاہرین پر فائرنگ کی تو ایک شخص ہلاک ہوا۔ تمل ناڈو کی نمبر پلیٹوں والے ٹرکوں اور بسوں کو آگ لگائی گئی ہے۔ سکول اور کالج سمیت متعدد دفاتر بند ہیں۔

کرناٹک کی حمایت کرنے والے کارکنان نے ایک طالب علم کو اس لیے تشدد کا نشانہ بنایا کیونکہ اس نے فیس بک پر کنادا فلمی ستاروں کی جانب سے اس معاملے کے لیے ہڑتال کے اعلان کا مذاق اڑایا۔

ادھر تمل ناڈو میں کرناٹک کے ایک رہائشی کے ریستورانٹ پر پٹرول بم پھینکے گئے جبکہ کرناٹک کی نمبت پیلٹ والی گاڑی کے ایک ڈرائیور کو بھی مار پیٹ کر زخمی کیا گیا۔

بنگلور میں اسی معاملے پر تامل مخالف 1991 میں بھی فسادات ہوئے تھے۔ اس وقت کی اطلاعات کے مطابق تقریباً دو لاکھ تامل افراد نے شہر چھوڑ دیا تھا۔

دونوں ریاستوں کی حکومتیں تو اس معاملہ کو حل نہیں کر سکیں ہیں اور وفاقی حکومت بھی بس نام کی ہی منصف بن کی رہ گئی ہے۔ اب سپریم کورٹ پر ہی انحصار ہے کہ وہ اپنے اس فیصلے پر عملدرآمد کے ساتھ ساھت امن کیسے قائم کرتی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں