عید کے دن کرفیو، ڈرون سے نگرانی، دو ہلاک درجنوں زخمی

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کشمیر میں چپے چپے پر سکیورٹی اہلکار کو تعینات کیا گيا ہے

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں عیدالاضحیٰ کے موقعے پر علیحدگی پسندوں کی جانب سے اقوام متحدہ مبصر کے دفتر تک مارچ کی اپیل کے پیش نظر وادی کے تمام دس اضلاع میں کرفیو لگا دیا گیا ہے اور موبائل اور انٹرنیٹ خدمات کو معطل کر دیا گیا ہے۔

دریں اثنا خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق منگل کی صبح سکیورٹی اور مظاہرین کے درمیان خونریز تصادم میں دو افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔

٭ کشمیر میں فوج کی تعداد بڑھانے پر غور

٭ ’علیحدگی پسندوں سے بات چیت نہیں ہو گی‘

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق سکیورٹی فورسز نے شمالی کشمیر کے بانڈی پورہ اور جنوب میں شوپیاں کے علاوہ سرینگر مظاہرین پر آنسو گیس کے گولے داغے ہیں اور انھیں منتشر کرنے کے لیے چھرّوں کا استعمال کیا ہے۔

یہ فیصلہ پیر دیر رات جموں کشمیر پولیس کے ہیڈ کوارٹر پر سکیورٹی کے متعلق جائزہ اجلاس میں کیا گیا۔

وادی میں پُر تشدد مزاحمت کے آغاز کے بعد پہلی بار عید کے موقعے پر کرفیو لگایا گیا ہے۔ لوگ گھروں میں بند ہیں۔ سڑکوں پر سناٹا چھایا ہوا ہے۔ کوئی باہر نہیں نکل رہا ہے۔

کسی بھی عید گاہ میں عید کی نماز نہیں پڑھی گئی۔ حضرت بل اور جامع مسجد بند ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption کرفیو کے سبب لوگ گھروں میں نظر بند ہیں

رواں سال جولائی میں حزب مجاہدین کے مبینہ کمانڈر برہان وانی کی ایک تصادم میں موت کے بعد سے کشمیر وادی میں تشدد اور مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔

تشدد اور مظاہروں میں اب تک 70 سے زیادہ لوگوں کی موت ہو چکی ہے اور سینکڑوں سکیورٹی اہلکار سمیت ہزاروں لوگ زخمی ہوئے ہیں۔

منگل کو وادی میں سکیورٹی کے پیش نظر اور لوگوں پر نظر رکھنے کے لیے ڈرون اور ہیلی کاپٹرز تعینات کیے گئے ہیں۔ وادی میں ڈرون کا استعمال پہلی بار ہو رہا ہے۔

کئی علاقوں میں ہائی ریزوليوشن کیمرے لگائے گئے ہیں۔ اس کا مقصد لوگوں کو مشتعل کرنے والوں کی شناخت کرنا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سڑکوں پر سناٹا چھایا ہوا ہے

شہروں اور دیہی علاقوں میں پولیس سمیت سکیورٹی فورسز کی تعداد بڑھا دی گئی ہے اور سڑکوں پر گشت کا عمل تیز ہے۔

جنوبی کشمیر کے کئی اضلاع میں فوج گشت کر رہی ہے اور ہیلی کاپٹروں سے نگرانی کی جا رہی ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے سکیورٹی فورسز کو ہدایت دی تھی کہ عید الاضحی کے موقعے پر علیحدگی پسندوں کو کسی بھی طرح کے مارچ کی اجازت نہیں ہوگي۔ اس کے بعد ہی یہ اقدام کیے گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption انڈین وزیر داخلہ کے بیان کے بعد سکیورٹی کے اتنے سخت انتظامات کیے گئے ہیں

عیدالاضحیٰ کے دن علیحدگی پسندوں کے سری نگر میں مارچ نکالنے کی اپیل کے بعد اس ریلی کو ناکام بنانے کے لیے انتظامیہ نے یہ اقدام اٹھائے ہیں۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق انتظامیہ نے وادی میں اگلے 72 گھنٹوں کے لیے بی ایس این ایل کے پوسٹ پیڈ کنکشن کے علاوہ تمام کمپنیوں کی موبائل اور انٹرنیٹ خدمات کو منقطع کر دیا ہے۔

بی ایس این ایل کو بھی اپنی براڈبینڈ سروسز بند کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں