بھارت کی سڑکیں دنیا بھر میں سب سے غیر محفوظ

Image caption ممبئی پونے شاہراہ کو محفوظ بنانے کے لیے درکار رقم کی فراہمی پر تنازع ہے

بھارت کی سڑکیں دنیا میں سب سے زیادہ پرخطر اور غیر محفوظ سمجھی جاتی ہیں۔ گذشتہ برس سڑک کے حادثات میں 150,000 افراد ہلاک ہوئے اور دس برس میں ان میں 50 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ وہ سڑکیں تعمیر کرنے کا دنیا کا سب سے بڑا منصوبہ شروع کر کے دو سال میں اس تعداد میں پچاس فیصد کمی لے آئے گی۔

ممبئی شہر میں بھارت کے باقی تمام شہروں کے مقابلے میں سب سے زیادہ حادثات ہوتے ہیں۔ یہاں سڑکوں پر آپ کو پیدل چلنے والوں، سکوٹروں، گاڑیوں، بسوں اور ٹرکوں کا ایک سیلاب ملے گا جو ٹریفک کے اشاروں اور تمام قوانین کی پرواہ کیے بغیر بہتا چلا جاتا ہے۔

ٹریفک پولیس کے اہلکار اس بے ہنگم سیلاب کے سامنے بالکل بے بس نظر آتے ہیں۔

ایک پولیس افسر نے کہا کہ وہ ایک مصروف چوک میں ایک وقت میں زیادہ سے زیادہ خلاف وزری کرنے والے دو ڈرائیوروں کو چیک کر سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ایک طرف سے زور سے ہارن بجتا ہے تو دوسری طرف سے کوئی اپنے انجن کو زور زور سے ریس دینا شروع کر دیتا ہے باقی سب نکل جاتے ہیں۔

Image caption ممبئی کی سڑکوں پر پیدل چلنے والے کے حادثات کا شکار ہونے کی شرح زیادہ ہے

اپنے ٹھنڈے ایئر کنڈیشن آفس میں بیٹھ کر ممبئی کے ٹریفک پولیس کے کمشنر میلند بھرمبے کہتے ہیں کہ سب کچھ جلد ٹھیک ہو جائے گا۔

سی سی ٹی وی کیمروں پر خطرناک چوکوں اور شاہراوں کی نگرانی کرتے ہوئے انھوں نے کہا ان کیمروں کی مدد سے انھیں قانون پر عملداری اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کو روکنے میں بڑی مدد ملے گی۔

انھوں نے کہا کہ اس کے علاوہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر سخت سزائیں اور جرمانے عائد کرنے سے ڈرائیوروں کے روئیوں میں بڑی تبدیلی آئے گی۔

ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیاں اور ان کو روکنے میں ناکامی اس سارے مسئلے کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔ اس مسئلہ کا ایک اور پہلو سڑکوں پر دن بدن گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد ہے۔ ہر ایک سیکنڈ کے بعد ایک نئی گاڑی اس سیلاب کا حصہ بن رہی ہے۔ اس طرح ہر روز نو ہزار نئی گاڑیاں سڑکوں پر آ رہی ہیں اور سال میں یہ تعداد 30 لاکھ ہو جاتی ہے۔

اس کی وجہ سے سڑکیں کم پڑتی جا رہی ہیں۔ یہ ممکن نہیں رہا کہ گاڑیوں کے درمیان محفوظ فاصلہ برقرار رکھا جائے جہاں ذرا سی جگہ ملتی ہے وہاں کوئی گاڑی گھسا دیتا ہے۔

ممبئی میں یہ مسئلہ اور زیادہ پیچیدہ اس وجہ سے ہو جاتا ہے کہ شہر تین اطراف سے سمندر میں گھرا ہوا ہے اور اسے وسعت دینے کی گنجائش بہت کم باقی رہ جاتی ہے۔

حکام ماضی میں گاڑیوں کا دباؤ کم کرنے کے لیے فٹ پاتوں کو کاٹ کاٹ کر سڑکوں کو وسیع کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔

پیدل چلنے والوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم ’مساوی حقوق‘ کے رکن بینو ماسکرہینس کا کہنا ہے کہ حکومت اب بھی یہی سوچتی ہے کہ مسئلہ یہ ہے کہ کس طرح لوگ اپنی گاڑیوں میں جلد سے جلد ایک جگہ سے دوسری جگہ چلے جائیں۔

Image caption حکومت نئی سڑکیں بنانے کے ایک بڑے منصوبے پر کام کر رہی ہے

انھوں نے کہا کہ حقیقت میں بیشتر حالات میں یہ فاصلے پیدل بھی طے کیے جا سکتے ہیں۔ وہ ممبئی میں پلے بڑھے ہیں اور وہ سکول پیدل جاتے تھے۔ ان کی بیٹی اب گاڑی میں سکول جاتی ہے کیونکہ پیدل چلنا اب بہت خطرناک ہو گیا ہے۔ فٹ پاتھ اگر کہیں باقی ہیں تو وہ اتنی بری حالت میں ہیں کہ لوگوں کو سڑک پر چلنا پڑتا ہے۔ اس لیے اس میں کوئی خیرانگی کی بات نہیں کہ ممبئی میں ہونے والے حادثات میں مرنے والے 60 فیصد افراد پیدل چلنے والے ہوتے ہیں۔

شہر سے باہر بھی خطرہ ہے۔

انڈیا کی پہلی ایکسپریس وے ممبئی اور پونے کے درمیان سنہ 2002 میں تعمیر کی گئی تھی۔ اس کی تین لین ہیں اور اس کے علاوہ تیز رفتار گاڑیوں کے لیے علیحدہ لین ہے۔ شہر کی بھیڑ سے اس شاہراہ پر کچھ سکون ملتا ہے۔ لیکن اس پر حادثات کی تحقیق کرنے والے انڈیا کے چند ماہرین میں ایک روی شنکر راجرامان کے ہمراہ سفر کرکے ذہن میں ایک خوف بیٹھ جاتا ہے۔ انھوں نے ہزاروں کی تعداد میں حادثات کی تحقیق کی ہے اور وہ ممکنہ خطرات کی نشاندہی کرتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ بہت سے انجینئرنگ کے نقاص ہیں جن کی وجہ سے سڑکوں پر اموات ہو رہی ہیں۔ انڈیا میں ڈرائیوروں کو خبردار کرنے کے لیے وہ شاہراہوں کے کنارے پر ہیں، چھوٹے چھوٹے ابھار والی پٹی کے بجاے کالے اور نیلے رنگ کے پتھر لگائے ہیں جو کنکریٹ میں پیوست ہوتے ہیں۔

شنکر کہتے ہیں کہ اگر آپ ان سے ٹکرا جائیں گے تو آپ کی گاڑی الٹ سکتی ہے۔ اس کے علاوہ خطرناک موڑوں یا پہاڑوں پر سڑک کے کنارے کوئی رکاوٹیں نہیں ہیں یا ریلنگ نہیں لگائی گئی جس کی وجہ سے آپ کی گاڑی معمولی سی غفلت سے سڑک سے کھائیوں میں گر سکتی ہے۔

یہ حادثات اکثر پیش آتے ہیں۔ یہ ایکسپریس وے صرف 94 کلو میٹر طویل ہے لیکن اس پر ہر سال 150 افراد حادثات کا شکار ہو جاتے ہیں۔

Image caption ممبئی کی سڑکوں پر سائیکل رکشوں اور دیگر روائتی ذرائع کی وجہ سے بھی مسائل ہیں

شنکر نے کہا کہ یہ تعداد بہت زیادہ اور تشویشناک ہے۔

شنکر اور ان کے ساتھیوں نے جو جے پی ریسرچ میں کام کرتے ہیں اس شاہراہ پر دو ہزار ایسی جگہوں کی نشاندہی کی جہاں بہت معمولی سے تبدیلیوں جیسے کہ محفوظ رکاوٹیں یا نشانات لگانے سے قیمتی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔

شنکر کے مطابق روڈ انجینیئر ان چھوٹے چھوٹے نقائص کو دور کرنے کے بارے میں سنجیدہ نہیں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اُن کا ان مسائل پر جھگڑا ہوتا رہتا ہے۔ ’ہم کہتے ہیں کہ آپ کتنے اور لوگوں کے مرنے کا انتظار کریں گے اور پھر ان باتوں کا خیال کریں گے۔‘

اس سارے پس منظر میں نریندر مودی کا سڑکوں کو وسیع کرنے کا انڈیا کی تاریخ میں سب سے بڑا منصوبہ کچھ اطمینان بحش نہیں ہے۔ اگلے چند برس میں وہ دنیا کے قطر سے بڑے رقبے پر سڑکیں تعمیر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور ہائی ویز اور ایکسپریس ویز بنانے پر خصوصی طور پر زور دیا جا رہا ہے۔

ایک نجی ادارے سیف لائف انڈیا کے سربراہ پیوش تیواری کہتے ہیں کہ جنگی بنیادوں پر سڑکوں کو محفوظ بنانے کے لیے قانون سازی اور جدید روڈ بلڈنگ کوڈ لاگو کیے بغیر سڑکیں تعمیر کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہو گا اور مودی کی نئی سڑکوں سے مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو گا۔

ہر دو کلو میٹر سڑک کی تعمیر سے ایک ہلاکت کے حساب سے اضافہ ہوگا۔ یہ انڈیا میں سڑک کے حادثات میں اموات کی اوسط ہے۔ اوسطً ہر سال ہر دو کلو میٹر پر ایک ہلاکت ہوتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر ان معمولی نقائص کو دور نہیں کیا جاتا تو ایک لاکھ کلو میٹر سڑک کی تعمیر سے سڑک کے حادثات میں ہلاک ہونے والوں کی کل تعداد میں ہر سال پچاس ہزار کا اضافہ ہو گا۔ انھوں نے کہا یہ سادہ سا حساب ہے۔

پیوش تیوری کا خیال ہے کہ نئی سڑکوں کے بنانے سے زیادہ لوگ مریں گے۔ مودی حکومت کا اصرا ہے کہ نئی سڑکیں زیادہ محفوظ ہو گی۔

مودی حکومت کے ٹرانسپورٹ کے وزیر نتن گڈکری کا کہنا ہے کہ وہ رولا انجینیئرنگ اور ٹریفک کے سگلنز کے نظام کو بہتر بنا رہے ہیں۔

دوسرے شعبوں میں بھی بہتری لائی جا رہی ہے۔ ممبئی ٹریفک پولیس کے کمشنر جب یہ کہتے ہیں کہ چند برس میں واضح تبدیلی آئے گی تو ان کے ذہن میں پارلیمنٹ کے سامنے پیش کردہ نیا موٹر وہیکل بل ہے جو اگر منظور ہو جائے تو ٹریفک خلاًف ورزیوں پر جرمانے بڑھ جائیں گے، گاڑیوں کی رجسٹریشن زیادہ مشکل ہو جائے گی اور پرانی گاڑیوں کو چلانے کے قابل قرار دینے کا ٹیسٹ زیادہ سخت ہو جائے گا۔

Image caption پولیس کمشنر کو یقین ہے کہ جلد صورت حال میں بہتری آئے گی

اس سال کے اوائل میں ایک اور قانون منظور کیا گیا تھا جس کے تحت سڑک کے حادثات میں زخمی ہونے والے افراد کی مدد کرنے والے لوگوں کو قانونی اور دیگر پریشانیوں سے بچانا مقصود تھا۔ اس قانون کے تحت اب زخمیوں کو ہسپتال پہنچانے والوں کو پولیس شک کی نظر سے نہیں دیکھے گی اور زخمیوں کے علاج پر اٹھنے والے اخراجات کا ذمہ دار قرار نہیں دیا جائے گا۔

دنیا بھر میں سڑک پر حادثے کی صورت میں لوگ مدد کے لیے آگے بڑھتے ہیں۔ لیکن انڈیا میں ایسا نہیں ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں سب سے زیادہ اور سب سے اندھوناک ٹریفک حادثات ہوتے ہیں وہاں زخمیوں کو سڑکوں پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔

سڑک کے حادثات میں زخمی ہونے والے بہت سے لوگوں کو بروقت طبی امداد فراہم کرنے سے بچایا جا سکتا ہے۔

حادثات میں زخمی ہونے والوں کی زندگی بچانے کی جدوجہد کرنے والے ممبئی کے نیرو سرجن ڈاکٹر عادل چھاگلا ایسے رضاکاروں کے ساتھ کام کر رہے ہیں جو ممبئی کے جنوب میں ہائی وے 66 پر ہنگامی طبی مراکز تعمیر کر رہے ہیں تاکہ حادثات کی صورت میں زخمیوں کو شہر تک طویل سفر سے بچایا جا سکے۔

Image caption پیوش تیواری شاہراہوں کو بہتر بنانے کے بہت سے طریقے تجویز کر چکے ہیں

پہلا ایسا مرکز نصف سے زیادہ تعمیر ہو چکا ہے۔ یہ دھان کے کھیتوں کے قریب ایک سر سبز ٹیلے کے پہلو میں قائم کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر چھاگلا کہتے ہیں کہ اس میں ہر روز کم از کم دو حادثات کے زخمیوں کو لایا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ اگر ہر پچاس سے سو کلو میٹر کے فاصلے پر ایمبولینس سروس اور ہنگامی طبی مرکز قائم ہو جائیں تو اس سے بہت زیادہ فرق پڑ سکتا ہے۔

ڈاکٹر چھاگلا نے سنہ 1980 میں کام شروع کیا تھا اور اس کے بعد سے اب تک سڑک کے حادثات میں 300 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

انھوں نے کہا کہ وہ اس سارے عرصے میں انتظار کرتے رہے کہ صورت حال بہتر ہو گی لیکن ایسا نہیں ہوا اور انھوں نے مجبواً یہ فیصلہ کیا کہ انھیں اب کچھ کرنا چاہیے۔

Image caption شاہراہوں کے ساتھ ساتھ طبی مراکز بنانے سے زخمیوں کی زندگیوں کو بچایا جا سکتا ہے

ممبئی پونے کے درمیان شاہراہ کو چلانے والی سرکاری کارپوریشن کا کہنا ہے کہ وہ سنہ 2020 تک اس شاہراہ کو حادثات سے مکمل طور پر محفوظ بنا دے گی۔

اس کارپوریش نے روی شنکر راجارامن کی طرف سڑکوں کو محفوظ بنانے کے بارے میں تبدیلیوں کو منظور کر لیا ہے۔

یہ سڑک ریاستی حکومت کے ملکیت ہے لیکن اس پر ٹول ٹیکس ایک پرائیوٹ کمپنی اکھٹا کرتی ہے۔ دونوں ایک دوسرے پر سڑک کو محفوظ بنانے کی ذمہ داری ڈالتے رہتے ہیں۔ اس ایکسپریس وے کے ذمہ دار ایک سرکاری اہلکار کا کہنا ہے کہ اس کو محفوظ بنانے اور اس کے نقائص دور کرنے کے لیے درکار رقم کے لیے اگر مقدمہ بھی کرنا پڑا تو وہ بھی کیا جائے گا۔

ابھی اس تنازع کا فیصلہ ہونا باقی ہے اور ہر روز اس سڑک سے جس ہر خطرات موجود ہیں ایک لاکھ گاڑیوں گزرتی ہیں۔ گذشتہ ہفتے اس سڑک پر چھ اموات ہوئی تھیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں