آل انڈیا ریڈیو کا بلوچی ویب سائٹ متعارف کروانے کا اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption آل انڈیا ریڈیو کی بلوچی سروس مئی 1974 سے کام کر رہی ہیں تاہم حال ہی میں پاکستان میں مقامی ذرائع ابلاغ میں یہ غیر درست خبر سننے میں آئی کہ بھارت کی حکومت نے حال ہی میں بلوچی سروس کا آغاز کیا ہے۔

ہندوستان کے سرکاری نشریاتی ادارے آل انڈیا ریڈیو (اے آئی آر) نے جمعے سے ایک بلوچی ملٹی میڈیا ویب سائٹ اور ایک موبائل ایپ لانچ کرنے کا اعلان کیا ہے لیکن اس کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کا تعلق بلوچستان کی صورتحال کے بارے میں وزیر اعظم نریندر مودی کے حالیہ بیانات سے نہیں ہے۔

آل انڈیا ریڈیو پہلے سے ہی شارٹ ویو پر بلوچی زبان میں ایک گھنٹے کا پروگرام نشر کرتا ہے۔

نریندر مودی نے گزشتہ ماہ کشمیر کی صورتحال پر ایک کل جماعتی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئِے کہا تھا کہ بھارتی حکومت بلوچستان اور گلگت بلتستان میں حکومت پاکستان کی جانب سے ہونے والی مبینہ زیادتیوں پر دنیا کی توجہ مرکوز کرائے گی اور اسے اپنی کارروائیوں کاجواب دینا ہوگا۔

اس کے بعد نریندر مودی نے 15 اگست کو قوم سے خطاب کرتے ہوئے بھی غیر معمولی طور پر بلوچستان کا ذکر کیا اور کہا کہ وہاں کے لوگوں نے یہ معاملے اٹھانے پر ان کا شکریہ ادا کیا ہے۔

اس کے بعد سے بھارتی ذرائع ابلاغ میں بلوچستان کے بارے میں بہت سی خبریں، تجزیے اور بلوچ قوم پرست رہنماؤں کے ساتھ انٹرویو شائع ہوئے ہیں۔

لیکن آل انڈیا ریڈیو کے سٹیشن ڈائریکٹر امن جیوتی مجومدار نے بی بی سی کو بتایا کہ نئی بلوچ ویب سائٹ اور موبائل اپلیکشن کا تعلق حکومت کی نئی پالیسی سے نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’آل انڈیا ریڈیو کی خارجی سروسز ڈویژن 27 زبانوں میں پروگرام نشر کرتا ہے۔۔۔ادارے میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینے کا ایک پروگرام پہلے سے جاری ہے جس کے تحت اب تک 12 ویب پیج لانچ کیے جاچکے ہیں۔ بلوچی زبان کا نیا ویب پیج اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔‘

Image caption اس سال مارچ میں پاکستانی فوج نے کلبھوشن یادو نامی انڈین جاسوس بھی میڈیا کے سامنے پیش کیا تھا

ان کا کہنا ہے کہ اس ویب سائٹ کے ذریعہ دنیا کے کسی بھی کونے میں رہنے والے لوگ اس پروگرام کو سن پائیں گے۔

ریڈیو کا موجودہ پروگرام 1974 میں شروع کیا گیا تھا اور امن مجومدار کے مطابق اس میں عالمی خبروں، تجزیوں اور تبصروں کے علاوہ ہندوستانی جمہوریت، ترقیاتی معاملات،خواتین کے حقوق اور انڈیا میں بلوچ طالب علموں کے لیے دستیاب مواقع جیسے موضوعات پر بات کی جاتی ہے۔

لیکن وہ اس تاثر کو مسترد کرتے ہیں کہ اس پروگرام کو پروپیگنڈا کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ہمارا مقصد پروپیگنڈا نہیں بلکہ ہندوستان کے نظریے کو صحیح انداز میں دنیا کے سامنے پیش کرنا ہے۔‘

پاکستان کا الزام ہے کہ انڈیا بلوچ قوم پرستوں کی مدد کرتا ہے اور وہاں جاری مسلح تحریک میں اس کا ہاتھ ہے۔ وزیر اعظم کی جانب سے بلوچستان کا ذکر کیے جانے کے بعد پاکستان نے کہا تھا کہ ان کے اس بیان سے بلوچستان میں ہندوستان کی مداخلت ثابت ہوگئی ہے۔

اس سال مارچ میں پاکستانی حکام کی جانب سے ایک مبینہ انڈین جاسوس کا ویڈیو بیان میڈیا کے سامنے پیش کیا گیا تھا جس میں کلبھوشن یادو نامی شخص نے اعتراف کیا تھا کہ وہ انڈین بحریہ کے حاضر سروس افسر ہیں اور وہ انڈیا کی ایجنسی را کے لیے پاکستان میں جاسوسی کر رہے تھے۔

خیال رہے کہ انڈیا کی حکومت نے اعتراف کیا کہ کلبھوشن یادو بھارتی بحریہ کے ملازم رہ چکے ہیں تاہم ان کا موقف ہے کہ وہ سابق افسر تھے جن کا بھارتی حکومت سے اب کوئی تعلق نہیں۔

اگرچہ بلوچستان کبھی باضابطہ طور پر انڈیا کی خارجہ پالیسی کا حصہ نہیں تھا لیکن اب یہ صورتحال بظاہر بدل رہی ہے اور بدھ کے روز انڈیا کے مستقل مندوب نے اقوام متحدہ میں بھی بلوچستان میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کا معاملہ اٹھایا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں