’انڈیا میں جوابی فوجی کارروائی کے لیے بڑھتا دباؤ‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کشمیر میں اڑی کے مقام پر گذشتہ روز کے حملے کے جواب میں انڈیا موثر کارروائی پر غور کر رہا ہے

انڈیا کے زیر انتطام کشمیر کے اوڑی سیکٹر میں فوج کے کیمپ پر شدت پسندوں کے حملے کے بعد انڈیا میں جوابی فوجی کاروائی کے لیے دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔

اتوار کے حملے میں کم از کم 17 بھارتی فوجی مارے گئے ہیں۔ انڈیا نے اس حملے کے لیے پاکستان کو براہ راست ذمے دار قرار دیا ہے۔ پاکستان نے اس الزام کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔

٭ کشمیر: انڈین فوج کے ہیڈ کوارٹر پر حملہ، 17 فوجی ہلاک

٭ ’پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کیا جانا چاہیے‘

وزیراعظم مودی نے کہا ہے جو بھی اس حملے کے ذمےدار ہیں وہ بچ نہیں سکیں گے۔ کئی دیگر وزیروں کی طرف سے بھی سخت بیانات دیے گئے ہیں۔

وزیراعظم کے دفتر کے ایک اہم وزیر جیتیندر سنگھ نے کہا کہ اس حملے کے جواب میں کوئی کاروائی نہ کرنا بزدلی ہو گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption وزیر دفاع منوہر پریکر حملے کے بعد کشمیر جا کر صورت حال کا جائزہ لیا

اخبارات نے فوجی ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ’عسکری ماہرین پاکستان میں شدت پسندوں کے مبینہ ٹھکانوں اور پاکستان کی بعض فوجی چوکیوں پر محدود نوعیت کے حملے کرنے کے امکانات سمیت کئی طرح کی فوجی کارروائیوں کے امکانات پر غور کر رہے ہیں۔‘

انڈیا میں کئی عشروں میں پہلی بار سیاسی اور فوجی سطح پر اس نکتے پر اتفاق رائے ہوتا نظر آ رہا ہے کہ اوڑی کے حملے کے بعد انڈیا موثر جوابی کارروائی کرے اور پاکستان کو انڈیا کی جانب سے واضح پیغام ملنا چاہیے۔

ٹی وی چینلوں پر سابق فوجی جرنیلوں اور عسکری ماہرین اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ ’انڈیا پاکستان کے خلاف نہ صرف موثر فوجی کارروائی کرے بلکہ ایسی فوجی کارروائی جسے پورا انڈیا اور پوری دنیا دیکھے۔‘

اس طرح کی سنگین صورتحال ممبئی حملے کے دوران پیدا ہوئی تھی۔ اس وقت وزیر اعظم منموہن سنگھ نے پاکستانی خطے میں شد ت پسند تنظیم لشکر طیبہ کے مبینہ ٹھکانے پر فضائی حملہ کرنے کے بارے میں غور کیا تھا لیکن جوابی کارروائی کے آپشن سے وزیراعظم کو مبینہ طور پر اس وقت پیچھے ہٹنا پڑا جب فوج اور خفیہ ایجنسیوں نے اس طرح کی کسی کارروائی کے کامیاب ہونے کے بارے شبہات ظاہر کیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption انڈین میڈیا میں پاکستان کے خلاف کارروائی کی بات زور و شور سے اٹھائی جا رہی ہے

و

زیر اعظم نریندر مودی نے ڈھائی برس کے دوران پاکستان سے تعلقات بہتر کرنے کی کئی بار اہم کوششیں کیں۔ لیکن اس مدت میں شدت پسندوں کے ہر حملے کے بعد پاکستان سے انڈیا کے تعلقات نہ صرف بتدریج خراب ہوتے گئے بلکہ بات چیت اور امن کے تمام راستے رفتہ رفتہ مسدود ہوتے گئے۔

اوڑی کا حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں گذشتہ ڈھائی مہینے سے شدید کشیدگی کا ماحول ہے۔ کشمیر وادی دو مہینے سے زیادہ عرصے سے ہڑتالوں، احتجاجی مظاہروں اور کرفیو میں محصور ہے۔ اس دوران 80 سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں جبکہ ہزاروں زخمی ہیں۔

پاکستان کشمیر کی اس صورتحال کو اقوام متحدہ میں بین الاقوامی برادری کے سامنے پیش کرنے کی تیاریاں کر رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے اپنا روس اور امریکہ کا دورہ ملتوی کر دیا ہے

وزیر اعظم نواز شریف امریکہ پہنچ چکے ہیں۔اوڑی کے حملے نے انڈیا کے لیے عالمی ادارے میں اپنے دفاع کے لیے یہ جواب فراہم کر دیا ہے کہ پاکستان نہ صرف اس حملے کے لیے ذمےدار ہے بلکہ وہ بتانے کی کوشش کر ے گا کہ پاکستان کس طرح مختلف شدت پسند تنظیموں کے ذریعے انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں شورش پیدا کر رہا ہے۔

ٹکراؤ کی صورتحال پیچیدگی اختیار کر رہی ہے۔ انڈیا نے اپنے سفارت کاروں سے کہا ہے وہ دنیا کے اہم دارالحکومتوں میں انڈیا کی پوزیشن اور موقف کی وضاحت کریں۔

اوڑی حملے کے بعد تحمل، بات چیت اور امن کی باتیں اب پس منظر میں چلی گئی ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں