’اوڑی میں حملے پر جذباتی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حملے کے بعد سپیشل فورسز کو ہیلی کاپٹرز سے وہاں اترا گیا اور تقریبا چار گھنٹے جاری رہنے والے تصادم کے بعد حملہ آوروں کو خاموش کیا گیا

انڈیا کے وزیرِ مملکت برائے امورِ خارجہ وی کے سنگھ کا کہنا ہے کہ موجود حالات میں کوئی بھی جذباتی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا اور انڈیا اوڑی کیمپ میں ہونے والے حملے کا مناسب منصوبہ بندی کے بعد جواب دے گا۔

انھوں نے یہ بات انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے اوڑی سیکٹر میں شدت پسند حملے کے تناظر میں پیر کو نئی دہلی میں ہونے والے اہم اجلاس کے بعد کہی۔

٭ کشمیر: انڈین فوج کے ہیڈ کوارٹر پر حملہ، 17 فوجی ہلاک

٭ ’پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کیا جانا چاہیے‘

٭ ’کشمیر کے لیے آزاد، منصفانہ بین الاقوامی مشن ضروری‘

انڈیا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق پیر کو مزید ایک فوجی جوان کی ہلاکت کے بعد فوجی کیمپ پر اتوار کی صبح ہونے والے حملے میں ہلاک ہونے والے انڈین فوجیوں کی تعداد 18 تک پہنچ گئی ہے۔

اس حملے کی تحقیقات کرنے کے لیے ایک وفاقی ٹیم بھی پیر کو اوڑي سیکٹر پہنچ رہی ہے جو اس شدت پسند حملے سے منسلک شواہد اکٹھا کرے گی۔

بھارتی فوج نے اس حملے کے لیے پاکستان میں واقع شدت پسند گروپ جیش محمد کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔

دوسری طرف پاکستانی حکومت کے ترجمان نے بی بی سی سے بات چیت میں انڈیا کے ان دعووں کو پوری طرح سے مسترد کر دیا ہے کہ اس حملے سے ان کے ملک کا کوئی تعلق ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سابق آرمی چیف وی کے سنگھ نے کہا کہ ’ہم ٹھنڈے دماغ اور مناسب منصوبہ بندی کے بعد نپا تلا جواب دیں گے۔ مجھے یقین ہے کہ وزیرِاعظم کے بیان کے بعد سخت اقدامات کیے جائیں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جان کربی نے کہا کہ امریکہ دہشت گردی کے خلاف بھارت کے ساتھ اپنے مضبوط تعاون کے عہد کا پابند ہے

انڈین ذرائع ابلاغ کے مطابق وی کے سنگھ نے یہ بھی کہا ہے کہ فوجی اڈے پر حملے کی وجہ بننے والی ’خامیوں‘ کی تحقیقات بھی ضروری ہیں۔

’میں چونکہ فوج کو قریب سے جانتا ہوں اس لیے میرے خیال میں جو کچھ وہاں ہوا اس کا تجزیہ ضروری ہے۔ اس بات کی تحقیقات کی جانی چاہییں کہ یہ واقعہ کیسے پیش آیا اور خامیاں کہاں کہاں تھیں۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’فوج کو مستعد رہنے کی ضرورت ہے جبکہ اقدامات جذبات کی رو میں بہہ کر نہیں کیے جانے چاہییں۔ ان کے لیے دماغ ٹھنڈا رکھنے اور مناسب منصوبہ بندی ضروری ہے۔‘

اجلاس کے بعد وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے وزیر دفاع منوہر پاریکر، وزیر خزانہ ارون جیٹلی کے ساتھ وزیراعظم نریندر مودی سے شدت پسندوں کے حملے کے بعد کی صورتحال پر تبادلہ خیال بھی کیا۔

انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے اس حملے کے بعد کہا تھا: ’میں اپنے ملک کو یہ بھروسہ دلاتا ہوں کہ اس بزدلانہ حملے کے پس پشت جو لوگ ہیں انھیں سزا ضرور ملے گی۔‘

پی ٹی آئی کے مطابق وزیر داخلہ کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووال سمیت دفاع، فوج، اور نیم فوجی فورسز کے اعلیٰ افسران شامل تھے جنھوں نے راج ناتھ کو سکیورٹی کی صورتحال سے آگاہ کیا۔

ذرائع کے مطابق شدت پسند حملے سے پیدا ہونے والے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ممکنہ حکمت عملی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption رنویر سنگھ کا کہنا ہے کہ زیادہ تر فوجیوں کی موت آگ میں جھلسنے سے ہوئي ہے

ادھر امریکی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ 18 ستمبر کی صبح کشمیر میں انڈیا کے فوجی کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے کی سخت مذمت کرتا ہے۔

وزارتِ خارجہ کے ترجمان جان کربی نے محکمے کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا: ’ہم حملے کا شکار ہونے والے افراد اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔ امریکہ دہشت گردی کے خلاف انڈیا کے ساتھ اپنی مضبوط شراکت کے عہد کا پابند ہے۔‘

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے بھی اڑي میں ہونے والے شدت پسند حملے کی سخت مذمت کی ہے۔

بان کی مون نے ہلاک ہونے والے فوجیوں کے خاندانوں سے گہری ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

بان کی مون کے ترجمان نے ان کا بیان پڑھتے ہوئے کہا کہ’اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل امید کرتے ہیں کہ اس واقعے کو انجام دینے والوں کی نشاندہی کی جائے گی اور انھیں سزا دی جائے گی۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں