’ویزے کی شرط رکھی تو رسد بند کر دیں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پاکستان افغانستان کا واحد پڑوسی ملک ہے جس کے شہر زمینی راستے سے افغانستان کی شہری علاقوں کے انتہائی قریب ہیں

پاکستان اور افغانستان کی ٹرانسپورٹ یونینز نے طورخم سرحد کے راستے پاکستان میں داخل ہونے والی مال بردار گاڑیوں کے عملے کے لیے پاکستانی ویزوں کی شرط پر مذاکرات کی ناکامی کے بعد اگلے ماہ سے سامان کی سپلائی بند کرنے کی دھمکی دی ہے۔

خیبر ٹرانسپورٹ یونین کے صدر شاکر آفریدی نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی حکام نے افغانستان سے آنے والی مال بردار گاڑیوں کے عملے کے لیے اگلے ماہ سے پاسپورٹ اور ویزے کی شرط لازمی کردی ہے، تاہم ٹرانسپورٹر اس فیصلے کو ماننے کےلیے تیار نہیں اور نہ ان کے لیے اس پر عمل درآمد کرانا ممکن ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس ضمن میں گذشتہ روز طورخم سرحد پر پاکستانی حکام اور ٹرانسپورٹ یونینز کے عہدیداوں کا ایک جرگہ منعقد ہوا لیکن مذاکرات ناکام ہوگئے ہیں۔ اس جرگے میں افغانستان کے ٹرانسپورٹ یونینز کے عہدیداروں نے خصوصی طورپر شرکت کی تھی۔

شاکر آفریدی مطابق دونوں ممالک کے ڈرائیور اور کلنیرز حضرات عرصہ دراز سے بغیر ویزوں کے سرحد کے آر پار سفر کرتے رہے ہیں اور ان پر اچانک ویزے اور پاسپورٹ کی شرط لاگو کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔

شاکر آفریدی کا مزید کہنا تھا کہ افغان ٹرانسپوٹروں نے بھی دھمکی دی ہے کہ اگر ان پر ویزے اور پاسپورٹ کی شرط لازمی کر دی گئی تو ردعمل کے طور پر وہ افغان علاقوں میں پاکستانی گاڑیوں کا داخلہ بند کردیں گے۔

انھوں نے کہا کہ دونوں پڑوسی ممالک کو چاہیے کہ ٹرانسپوٹروں کو کچھ وقت دیں اور اس مسئلے کا فوری طور پر قابل عمل حل تلاش کرنا چاہیے تاکہ یہ معاملہ خوش اسلوبی سے طے ہوں۔

شاکر آفریدی نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے اپنے فیصلے پر نظر ثانی نہ کی تو وہ مجبوراً اگلے ماہ سے افغانستان کے لیے سامان کی ترسیل بند کر دیں گے اور پھر یہاں سے کوئی چیز سرحد پار نہیں جائیگی۔

انھوں نے کہا کہ زیادہ تر قبائلی افراد ٹرانسپورٹ کے کاروبار سے منسلک ہیں جو پہلے ہی دہشت گردی کے باعث مالی بدحالی کا شکار ہیں اور ایسے میں ان پر مزید رزق کے دروازے بند کیے جا رہے ہیں۔

خیال رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان عرصہ دراز سے تجارتی مراسم قائم ہیں۔

پاکستان افغانستان کا واحد پڑوسی ملک ہے جس کے شہر زمینی راستے سے افغانستان کی شہری علاقوں کے انتہائی قریب ہیں۔

ٹرانسپوٹروں کا کہنا ہے کہ پہلے روزانہ سرحد کے دونوں جانب پانچ سو سے سات سو کے قریب مال بردار گاڑیوں کی آمد و رفت ہوتی تھی لیکن سرحد پر حالیہ پابندیوں کی وجہ سے ان میں کافی حد تک کمی آئی ہے جس سے دوطرفہ تجارت بھی کم ہوگئی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں