انڈیا وائرل بخار کی گرفت میں

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

انڈیا میں ہر دوسرے روز تواتر سے کسی شہری قصبے یا دیہاتوں میں وائرل بخار کی خبریں سننے کو ملتی ہیں۔ لوگ ہر جگہ بیمار ہیں۔

دارالحکومت دہلی میں مچھروں کے ذریعے پھیلنے والی بیماری چکنگنیا پھیلا ہوا ہے۔ قریب ہی واقع ہریانہ میں ملیریا۔ جنوب کی جانب جائیں تو بنگلور چکنگنیا اور ملیریا دونوں ہی بیماریاں پھیلی ہوئی ہیں۔ کولکتہ میں ڈینگی جبکہ اتر پردیش کے ہسپتالوں میں لوگوں کی بڑی تعداد بخار کے باعث پڑے ہیں۔

تو کیا انڈیا میں بخار کی وبا پھیلی ہوئی ہے؟

دہلی میں واقع انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر) کے مطابق ان کی ملک بھر میں 40 لیبارٹریز میں ایک ماہ میں ایک ہزار تک خون کے نمونے ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔

جنوری سے اب تک 12 فیصد نمونوں میں ڈینگی پایا گیا ہے جو کہ پچھلے سال کے مقابلے میں پانچ فیصد زیادہ ہے۔ اور جولائی سے اب تک 10 فیصد میں چکنگنیاپایا گیا ہے۔ اور بارشوں کے بعد سے ان لیبارٹریز میں خون کے نمونوں کے ٹیسٹ کرنے کی تعداد بھی دگنی کر دی گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ SPL

ڈینگی اور چکنگنیادن کے وقت مچھروں سے پھیلنے والی بیماریاں ہیں۔ مون سون کی طویل بارشیں اور کھڑے پانی میں مچھروں کی افزائش ہوئی۔ علاج نہ ہونے پر ڈینگی مہلک بیماری ہے جبکہ چکنگنیا مغدور کر دیتی ہے اور جوڑوں میں شدید درد ہوتا ہے۔

آئی سی ایم آر کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر سومیا سوامینتھن کا کہنا ہے ’اس سال ڈینگی اور چکنگنیا میں اضافہ ہوا ہے۔‘

لیکن صرف اتنا ہی نہیں ہے۔

وزارت صحت کے مطابق انڈیا بھر میں جنوری سے اب تک ڈینگی کے باعث 70 لوگ ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 36 ہزار افراد متاثر ہوئے ہیں۔ سب سے زیادہ کیس مغربی بنگال، اڑیسہ، کرناٹک اور کیرالہ سے رپورٹ ہوئے ہیں۔

دوسری طرف اس سال چکنگنیا کے 14 ہزار چھ سو پچاس کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔ ان میں سے 9427 کیس کرناٹک میں اور پھر دہلی اور مغربی مہاراشٹر میں۔

انڈیا میں اس سال ملیریا سے 119 اموات ہو چکی ہیں جبکہ آٹھ لاکھ کیس رپورٹ کیے گئے ہیں۔

وبا

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

یہ بات ذہن میں رکھیں کہ یہ اعداد و شمار سرکاری ریکارڈ کے مطابق اور ہزاروں جیسے کیس بھی ہوں گے انڈیا میں جو رپورٹ ہی نہیں کیے گئے۔

تو کیا یہ وائرل بخار وبا کی صورت اختیار کر گیا ہے؟

ان کیسوں میں اضافے کی بڑی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ شہروں اور قصبوں میں لیبارٹریوں میں ٹیسٹ زیادہ کیے جا رہے ہیں۔ بیماریوں میں اضافہ تو ہو ہی رہا ہے۔ جیسے 2010 میں ڈینگی کے 28292 کیس رپورٹ ہوئے جو کہ 2015 میں ایک لاکھ تک پہنچ گئے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہر سال ڈینگی کے باعث 110 سے لے کر 242 اموات ہوتی ہیں۔

غیر متوقع بارشیں

ڈاکٹر سومیا کاکہنا ہے ’بارشیں غیر متوقع ہو گئی ہیں۔ مچھروں نے اپنے آپ کو شہری ماحول کے مطابق ڈھال لیا ہے۔ سارا سال تعمیراتی کام ہوتا ہے جس کے باعث پانی جمع ہو جاتا ہے اور مچھروں کی افزائش ہوتی ہے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں