انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں کئی ہزار گرفتاریاں

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کشمیر وادی میں اب انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے لیے مظاہرے ہو رہے ہیں

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں حالات اب بھی مکمل طور معمول پر نہیں آئے ہیں اور مظاہروں کا سلسلہ ابھی جاری ہے اور ہر دن اوسطا 50 افرادگرفتاری ہو رہی ہے۔

پولیس ترجمان کے مطابق منگل کو 64 افراد کو گرفتار کیا گیا۔

کشمیر وادی میں گذشتہ آٹھ جولائی کو شدت پسند برہان وانی کی ایک تصادم میں ہونے والی موت کے بعد سے مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور بدامنی کی صورتحال ہے۔

پولیس کے مطابق اب تک 3500 سے زیادہ لوگوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے جن میں علیحدگی پسند بھی شامل ہیں۔

گرفتار کیے جانے والے لوگوں پر مظاہروں کے دوران تشدد کرنے، لوگوں کو تشدد پر مشتعل کرنے اور انڈیا مخالف نعرے لگانے کے الزامات لگائے گئے ہیں۔

انڈیا کے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے صورتحال کو معمول پر لانے کے لیے 11 ستمبر کو ایک معینہ مدت طے کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption تقریبا ڈھائی ماہ سے وادی کے بیشتر علاقوں میں کرفیو جاری ہے

انھوں نے کہا تھا کہ ایک ہفتے کے اندر اندر کشمیر میں حالات معمول پر آجائیں گے اور اس کے لیے سکیورٹی فورسز کو چھوٹ دی گئی تھی۔

اس وقت کہا گیا تھا کہ وادی میں سکول کھلیں گے اور تجارتی سرگرمیاں بھی شروع ہو جائیں گی لیکن ایسا اب تک نہیں ہو سکا ہے۔

علیحدگی پسندوں اور مظاہرین کے خلاف شروع کی جانے والی مہم اب بھی جاری ہے۔ حالات معمول پر نہ آنے کی صورت میں حکومت ہند کے خلاف لوگوں میں غصہ بڑھ رہا ہے۔

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی وادی میں مظاہروں کا دور جاری ہے۔

پہلے مظاہرے برہان وانی کی موت کے خلاف ہو رہے تھے لیکن اب صورت حال بدل گئی ہے۔ اب انسانی حقوق کی بات زیادہ اٹھائی جا رہی ہے۔

سکیورٹی فورسز رات کے وقت کسی جگہ چھاپہ مار کارروائی کرتی ہیں، گرفتاریاں ہوتی ہیں اور دوسرے دن صبح لوگ باہر آکر گرفتاریوں کے خلاف احتجاج کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مظاہرے اور کرفیو کا یہ سلسلہ ایک خود ساختہ عسکریت پسند رہنما برہان وانی کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد شروع ہوا تھا

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم کولیشن آف سول سوسائٹیز کے ترجمان خرم پرویز کو حراست میں لیے جانے کے خلاف درخواست پر منگل کو عدالت میں سماعت ہوئی۔

انھیں کپواڑہ جیل میں رکھا گیا ہے۔ خرم پرویز معذور ہیں اور ان کے وکلا نے انھیں حراست میں لیے جانے کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔

وکلا کا کہنا ہے کہ انھیں جس جیل میں رکھا گیا ہے وہ معذور افراد کے لیے معقول نہیں ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں