لاہور سے دہلی، دوستی بس میں صرف دو مسافر

Image caption لاہور بس سروس خالی چل رہی ہے منگل کو صرف دو مسافر تھے

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں اوڑی کے فوجی کیمپ پر شدت پسند حملے کے بعد دہلی اور لاہور کے درمیان چلنے والی بسیں تقریباً خالی نظر آ رہی ہیں۔

منگل کی شام ساڑھے پانچ بجے لاہور سے دہلی کے ڈاکٹر امبیڈکر بس ٹرمینل پہنچنے والی بس میں صرف دو مسافر تھے۔ ایک مقامی اہلکار کے مطابق منگل کی صبح لاہور جانے والی بس بھی خالی تھی۔

لاہور سے اس بس کے ذریعے دہلی آنے والے محمد عابد اور ان کی اہلیہ نے امبیڈکر بس اڈے پر بی بی سی کو بتایا: ’جب ہم نے دہلی کا ٹکٹ خریدا تو ہم صدمے میں آ گئے کیونکہ بس میں ہمارے علاوہ اور کوئی نہیں تھا۔‘

انھوں نے بتایا: ’جب ہم پچھلی بار آئے تھے تو بس پوری طرح بھری ہوئی تھی لیکن اس بار بس خالی تھی۔‘

لیکن بس میں گزارے اپنے 12 گھنٹے کے طویل سفر کے بارے میں انھوں نے کہا: ’ہم انتہائی سکون سے انڈیا آئے۔ اس سروس کو جاری رکھنا چاہیے۔‘

دہلی لاہور بس سروس سنہ 1999 میں شروع کی گئی تھی جب اٹل بہاری واجپئائی انڈیا کے وزیر اعظم تھے۔ لیکن سنہ 2001 میں انڈین پارلیمان پر حملے کے بعد کچھ عرصے کے لیے یہ بس سروس روک دی گئی تھی۔

جب بھی انڈیا میں اوڑی جیسے حملے ہوتے ہیں بعض حلقوں کی جانب سے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو توڑ لینے یا محدود کر لینے کا مطالبہ ہوتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دہلی لاہور بس سروس سنہ 1999 میں شروع کی گئی تھی

دہلی ٹرانسپورٹ کارپوریشن کے چیف جنرل منیجر اے کے گوئل نے بی بی سی کو بتایا کہ کسی زمانے میں منافع بخش رہنے والی یہ بس سروس گذشتہ ایک سال سے خسارے کا سودا ثابت ہو رہی ہے۔

اے کے گوئل کہتے ہیں: ’سنہ 2014 میں واہگہ میں ہونے والے حملے کے بعد یہ بس اب لاہور شہر تک نہیں جاتی، بس پاکستان کے واہگہ علاقے تک جاتی ہے۔ دہلی سے تو اچھی تعداد میں لوگ پاکستان جاتے ہیں لیکن وہاں سے دو، چار، پانچ لوگ ہی انڈیا آتے ہیں، اس لیے یہ اب منافع بخش نہیں رہی۔‘

بس کی سکیورٹی کے پیشِ نظر تقریباً تین گھنٹے پہلے ہی ٹرمینل کے دونوں دروازوں کو بند کر دیا جاتا ہے اور اندر جانے پر پابندی عائد کر دی جاتی ہے۔

بس اڈے کے اندر دہلی پولیس کے جوان تعینات تھے اور لاہور سے آنے والی بس کا انتظار کر رہے تھے۔

Image caption بس کی سکیورٹی کے پیشِ نظر تقریبا تین گھنٹے پہلے ہی ٹرمینل کے دونوں دروازوں کو بند کر دیا جاتا ہے

اوڑی حملے کے بعد پاکستان سے اس بس میں سفر کرنے والے میاں بیوی بھی مجبوری کے تحت ہی آئے ہیں۔

کچھ وقت پہلے دہلی کے اپالو ہسپتال میں محمد عابد کے جگر کی پیوندکاری ہوئی تھی۔ محمد عابد اپنی بیوی کے ساتھ ہسپتال میں چیک اپ کروانے دہلی آئے ہیں۔

ایسے ماحول میں دونوں پہلے تو بات کرنے میں تھوڑا جھجھكے لیکن بعد میں راضی ہو گئے۔

محمد عابد تیسری بار اپنی بیوی کے ساتھ دہلی آئے ہیں۔ وہ آٹھ دن دہلی میں ایک گیسٹ ہاؤس میں رہیں گے۔ ان کا انڈیا میں کوئی رشتہ دار نہیں ہے۔

ہر سال پاکستان سے بڑی تعداد میں لوگ علاج کے لیے انڈیا آتے ہیں۔

محمد عابد کے مطابق دونوں ممالک کے لیے یہ بس سروس بہت ضروری ہے اور ان کے لیے بطور خاص جو ہوائی جہاز سے انڈیا آنے کا خرچ برداشت نہیں کر سکتے۔

لیکن ایسے وقت جب دونوں ممالک کے درمیان اوڑی حملوں کی وجہ سے تعلقات تلخ ہیں، انڈیا آنے کا تجربہ کیسا ہے؟

اس پر محمد عابد کی بیوی نے بتایا: ’یہاں آ کر ہمیں ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ انڈیا اور پاکستان کا جھگڑا چل رہا ہے لیکن یہ صرف خالی کیوں آئی ہے، یہ بھی ہمیں سمجھ میں نہیں آ رہا ہے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں