’رفال طیاروں سے ہتھیاروں کی دوڑ بڑھےگی‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption رفال طیارہ جوہری میزائل ڈیلیور کرنے کے قابل ہوتا ہے اور جو خوبیاں اس جہاز میں پائی جاتی ہیں وہ دیگر جہازوں میں نہیں ہوتی ہیں

فرانس کے رفال جنگی طیاروں کے سودے کے لیے انڈیا اور فرانس کے درمیان جمعے کو ایک معاہدے پر دستخط ہوگئے ہیں۔ انڈیا نے پہلے 18 طیاروں کا سودا کیا تھا لیکن اب اس فرانس سے 36 طیارے لینے کو کہا ہے۔

بھارت کے دفاعی تجزيہ کار راہول بیدی نے اس سودے کے متعلق بی بی سی ہندی سروس سے تفصیلی بات کی اور کہا کہ اس سے جنوبی ایشیا میں ہتھیاروں کی ریس بڑھ جائے گی۔

جب جنگی طیاروں کی خریداری کے لیے ٹینڈر نکالا گیا تھا تو مقابلے میں کل چھ کمپنیوں کے طیارے تھے لیکن بھارتی فضائیہ نے رفال کو سب سے بہتر پایا۔

راہول بیدی کے مطابق حکمت عملی کے اعتبار سے بھارت کے لیے اتنے جنگی طیارے بھی ناکافی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب 126 طیاروں کے سودے کی بات چل رہی تھی تب اس وقت یہ سودا ہوا تھا کہ 18 طیارے بھارت خريدےگا اور 108 طیارے بنگلور کے بھارتی ایروناٹکس لمیٹڈ میں اسیمبل ہونے تھے۔ لیکن یہ سودا ہو نہیں سکا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اتنے جدید جنگی طیارے فی الحال بھارت کے دو اہم پڑوسی حریف ملک پاکستان اور چین کے پاس بھی نہیں ہیں

اپریل 2015 میں ایک بار پھر موجودہ مودی حکومت نے پیرس میں یہ اعلان کیا کہ بھارت 126 طیاروں کے سودے کو منسوخ کر رہا ہے اور اس کے بدلے 36 طیارے براہ راست فرانس سے خرید رہا ہے اور انڈیا خود ایک بھی رفال طیارہ نہیں بنائے گا۔

راہول بیدی کا کہنا ہے کہ رفال طیارہ جوہری میزائل ڈیلیور کرنے کے قابل ہوتا ہے اور جو خوبیاں اس جہاز میں پائی جاتی ہیں وہ دیگر جہازوں میں نہیں ہوتی ہیں۔ اس کے اندر جس طرح کے ہتھیاروں کی استعمال کرنے کی صلاحیت ہے وہ دنیا میں سب سے زیادہ آسان ہے۔

ان کے مطابق اتنے جدید جنگی طیارے فی الحال بھارت کے دو اہم پڑوسی حریف ملک پاکستان اور چین کے پاس بھی نہیں ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نئے معاہدے کے تحت یہ کلاز بھی ہے کہ اگر ان 36 طیاروں کے علاوہ بھارت 18 اور طیارے لینا چاہتا ہے تو وہ اسی قیمت پر دستیاب ہوں گے

رفال طیارہ میراج 2000 کا اعلیٰ درجے کا نیا ورژن ہے۔ بھارتی ايئرفورس کے پاس اس وقت 51 میراج 2000 ہیں اور انھی میراج 2000-5 میں اپ گریڈ کیا جا رہا ہے۔ اس سے ان کی صلاحیت کافی حد تک بڑھنے والی ہے۔

اس فیصلے سے بھارتی ایئر فورس کو بہت طاقت ملے گی کیونکہ اس کو کافی تعداد میں ایسے جدید طیاروں کی ضرورت ہے۔

راہول بیدی نے بتایا کہ بھارت نے پہلے میراج 2000 کے دو سكواڈرن لیے تھے اور دس برس کے بعد اس میں ایک مزید سكواڈرن کا اضافہ کر دیا گیا تھا۔ ہو سکتا ہے کہ رفال کے معاملے میں بھی ایسا ہو۔ ایک سكواڈرن میں 16 سے 18 طیارے ہوتے ہیں۔

اس نئے معاہدے کے تحت یہ کلاز بھی ہے کہ اگر ان 36 طیاروں کے علاوہ بھارت 18 اور طیارے لینا چاہتا ہے تو وہ اسی قیمت پر دستیاب ہوں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption رفال کے آنے کے بعد ممکن ہے کہ جنوبی ایشیا میں ہتھیاروں کی دوڑ میں اضافہ ہوجائے

غور طلب بات یہ ہے کہ فرانس کے ساتھ جو یہ سودا ہو رہا ہے وہ بھارت اور فرانس کی حکومتوں کے درمیان ہو رہا ہے۔ یہ معاہدہ رفال بنانے والی کمپنی داسسو کے ساتھ نہیں ہو رہا ہے۔ بھارت کو داسسو کو 15 فیصد ایڈوانس (تقریباً ساٹھ ہزار کروڑ روپے) دینے ہوں گے تب جا کر ان طیاروں پر کام شروع ہوگا۔

سودا پکّا ہونے کے بعد طیارے کی پہلی کھیپ آنے میں ڈھائي سے تین سال کا وقت لگ جائےگا۔ بھارت کے علاوہ داسسو کے پاس اس وقت قطر اور مصر کے آرڈر بھی ہیں۔ اس طرح بھارت فراہمی کی فہرست میں تیسرے نمبر ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں