جنگ سے پہلے امن کے بہت سے راستے ہیں

Image caption ان حالات میں بہتر یہی ہو گا کہ دونوں ملکوں کی قیادت پختگی کا ثبوت دیتے ہوئے مستقبل میں دہشت گردانہ حملوں کو روکنے کے موثر طریقہ کار پر غور کرے

گذشتہ اتوار کی صبح بھارت کے زیر انتطام کشمیر کے اوڑی قصبے میں ایک فوجی چھاؤنی پر شدت پسندوں کے حملے میں 18 فوجی مارے گئے تھے۔ ان پر حملہ علی الصبح کیاگیا اس وقت ان میں سے بیشتر سو رہے تھے۔

ہلاک ہونے والے فوجیوں کی آخری رسوم ادا کی جا چکی ہیں۔ ان کا تعلق ملک کے کئی الگ الگ علاقوں سے تھا۔ چونکہ یہ سبھی محاذ پر لڑنے والے فوجی تھے اس لیے سبھی کم عمر اور نوجوان تھے۔

٭اوڑی کی اہمیت کیا ہے؟

٭ جارحانہ سفارت کاری کا فائدہ کس کو؟

٭ انڈیا اپنی ہی شعلہ بیانی میں پھنس گیا

یہ فوجی عموماً دور دراز کے دیہات اور چھوٹے چھوٹے قصبوں سے آتے ہیں۔ ان کا تعلق اکثر نیم دیہی علاقوں کےنیم متوسط طبقے سے ہوتا ہے۔ شدت پسندوں کے حملے میں ہلاک ہونے فوجی اپنے پیچھے بیوہ کے علاوہ چھوٹے چھوٹے بچے چھوڑ گئے ہیں۔ یہ فوجی سرحد پر مرنے کے لیے نہیں گئے تھے۔ فوج ان کی روزی تھی اور وہ سرحدوں پرایک بہتر زندگی کے لیے گئے تھے۔ ان کی ہلاکتوں سے بہت سے گھر اجڑ گئے ہیں۔

ان پر حملہ کس نے کیا؟ کیوں کیا؟ یہ صرف حملہ آور اور ان کے منصوبہ ساز ہی بتا سکیں گے لیکن اس حملے کے بعد بھارت اورپاکستان کے درمیان کشیدگی اتنی بڑھ چکی ہے کہ بالکل جنگ کا سا ماحول ہے۔ جنگ کی مشقیں ہو رہی ہیں اور دونوں ممالک ایک دوسرے کی دفاعی طاقت کا اندازہ لگا رہے ہیں۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ڈھائی مہینے سے احتجاج اور مظاہروں میں تقریباً 90 کشمیری نوجوان مارے گئے جب کہ 12 ہزار زخمی ہوئے ہیں۔ شورش زدہ وادی کے بیشتر علاقوں میں کرفیو لگا ہوا ہے۔

لوگ کس حال میں ہیں، زخمیوں کی کیا حالت ہے؟ زندگی کس طرح چل رہی ہے؟ موجودہ کشیدگی میں یہ سوالات بھارتی میڈیا اور سیاسی بحث میں کہیں نہیں ہیں۔

اس سے پہلے 2008 میں بھی کشمیریوں نے علیحدگی پسندوں کی کال پر مظاہرے اور احتجاج کیا تھا، اس وقت تقریباً 70 نوجوان مارے گئے تھے۔ اسی طرح 2010 میں 126 نوجوان اور بچے مظاہروں کے دوران سکیورٹی فورسز کےہاتھوں مارے گئے۔ کشمیر کی کشیدگی کی بھاری انسانی قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے۔ خدشہ یہ ہےکہ کشمیر کی گلیوں اور سڑکوں پر ہونے والے مظاہرے کہیں دو ملکوں کےدرمیان جنگ کی شکل نہ اختیار کر لیں۔

کشمیر کی صورتِ حال پر نیویارک ٹائمز نےاپنے اداریے میں لکھا ہےکہ اگر بھارت نے اوڑی حملے کے جواب میں کوئی فوجی کارروائی کی تو یہ وزیراعظم مودی کی اقتصادی اور ترقیاتی پالیسیوں کےلیے تباہ کن ثابت ہو گی۔

اخبار نے مزید لکھا ہے کہ پاکستان اس حقیقت سےانکار نہیں کر سکتا کہ وہ ایسے شدت پسندوں اور تنطیموں کی پشت پناہی اور اعانت کرتا رہا ہے جو خطے کے سیاسی استحکام کو مسلسل نقصان پہنچا رہے ہیں۔ باہمی اعتبار اوراعتماد کی بحالی کے لیے پاکستان کو ان عناصر کا خاتمہ کرنا ہی ہو گا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ دونوں ملکوں میں ایسے عناصر موجود ہیں جو جنگی جذبات کو ہوا دے رہے ہیں۔ جس نے بھی اوڑی پرحملہ کیا اور اس کی منصوبہ سازی کی وہ بھی دونوں ملکوں کے درمیان جنگ کےخواہاں ہیں۔ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہو سکتی۔

اوڑی کے حملے پر بھارت میں بہت شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

بھارت میں اس بات پر بھی ناراضی ہے کہ پاکستان ممبئی حملے کےقصورواروں کو بھی سزا نہیں دے سکا۔ دونوں ملکوں کےتعلقات اس وقت انتہائی پیچیدگی اختیارکر چکے ہیں۔ اب حالات بھی ایسے نہیں ہیں کہ امریکہ اور یورپی ممالک کشیدگی کے خاتمے کے لیے دونوں ملکوں پر دباؤ ڈال سکیں۔ ان حالات میں بہتر یہی ہو گا کہ دونوں ملکوں کی قیادت پختگی کا ثبوت دیتے ہوئے مستقبل میں دہشت گردانہ حملوں کو روکنے کے موثر طریقہ کار پر غور کرے۔

سب سے پہلے وہ پوری دیانت داری سے اوڑی کے حملہ آوررں کی شناخت کریں، اور اگر وہ کسی تنطیم سے وابستہ تھے تو اس کے خلاف ضروری قانونی کارروائی کا آغاز کریں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں