’مودی خطرناک تنازعے کی راہ ہموار کر رہے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

دفاعی تجزیہ کار ایک عرصے سے خبردار کرتے چلے آئے ہیں کہ مستقبل کی جنگیں پانی پر لڑی جائیں گی۔

حالیہ ہفتوں میں جنوبی ایشیا میں ہونے والے کئی تنازعے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ یہ پیشن گوئی درست ثابت ہو رہی ہے اور اس کے نہ صرف اس خطے بلکہ عالمی امن پر دور رس اثرات پڑ سکتے ہیں۔

*’انڈیا کو پانی کی جنگ مہنگی پڑے گی‘

* خون اور پانی ساتھ ساتھ نہیں بہہ سکتے: مودی

انڈین وزیرِ اعظم نریندر مودی نے پیر کے روز تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ’خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے۔‘ اس کے بعد انھوں نے اعلان کیا کہ وہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان پانی کی تقسیم کی کمیٹی کا اجلاس معطل کر رہے ہیں۔

یہ پانی کی بطور سفارتی اسلحہ استعمال کی ڈرامائی مثال ہے۔

ایٹمی اسلحے سے لیس دونوں ملکوں کے تعلقات ویسے تو ہمیشہ سے خراب رہے ہیں، لیکن اس وقت اس خراب کی بھی خراب ترین سطح آ گئی ہے۔

18 ستمبر کو چار مسلح جنگجوؤں نے دونوں ملکوں کی سرحد سے قریب ایک انڈین فوجی کیمپ پر حملہ کر کے 18 فوجیوں کو ہلاک اور متعدد کر زخمی کر دیا۔

حملے کے بعد مودی نے زبردست گھن گھرج بھرا ردِعمل دکھایا۔ اسی دوران جنگ کے نعرے بھی لگے، لیکن پاکستان کے خلاف نہیں۔

’میں پاکستانی عوام کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ انڈیا تم سے جنگ کے لیے تیار ہے۔ اگر آپ کے پاس طاقت ہے تو سامنے آؤ، اور غریبی سے لڑو۔ پھر دیکھیں کون جیتا ہے۔ اور دیکھیں کہ پہلے انڈیا جیتتا ہے یا پہلے پاکستان جیتتا ہے؟‘

یہ ایک ماہرانہ خطاب کے ساتھ ساتھ ماہرانہ سیاسی چال بھی تھی، جس میں انڈین رہنما نے خاموشی سے یہ تسلیم کیا تھا کہ انڈیا پاکستان سے نمٹنے کے لیے برداشت کی پرانی حکمتِ علمی جاری رکھے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption اڑی فوجی کیمپ پر حملے میں 18 انڈین فوجی مارے گئے تھے

تاہم مودی کو واضح طور پر سخت گیر دھڑوں کے جذبات کا خیال بھی رکھنا تھا، اور وہ چیز تقریر کے دوسرے حصے میں نظر آئی۔

اس سے پہلے بھی پانی کا بہاؤ روکنے کی بات کی جاتی رہی ہے لیکن اس طرح سے نہیں۔

دونوں ملکوں کے درمیان دریائے سندھ کے دریائی نظام کی تقسیم کا 56 سال پرانا سندھ طاس معاہدہ اپنی نوعیت کے کامیاب ترین معاہدوں میں سے ایک ہے۔

یہ سخت جان معاہدہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان تین جنگیں، متعدد جھڑپیں اور درجنوں تنازعات سہہ چکا ہے۔ اسی لیے مودی کے اس حکم کو پاکستان میں جارحانہ اقدام سے تعبیر کیا گیا ہے کہ انڈیا سندھ طاس معاہدے کا بھرپور استعمال کرے گا۔

دہلی کا کہنا ہے کہ اس نے سندھ کے ایک معاون دریا جہلم پر ڈیم کی تعمیر شروع کر دی ہے۔ اس کے علاوہ وہ آب پاشی، ذخیرہ اندوزی اور پن بجلی پیدا کے منصوبے بھی بڑھا دے گا۔

ان منصوبوں پر بہت خرچ آئے گا اور کئی برس یا شاید عشرے صرف ہوں گے، تاہم پیغام واضح ہے کہ ہم پاکستان کے خلاف جنگ لڑنے کے لیے ہتھیاروں کے علاوہ دوسرے راستے بھی اختیار کر سکتے ہیں۔

مودی کو امید ہے کہ ہتھیار اٹھانے کی نسبت ڈیموں کی دیوار کھڑی کرنا کم خطرناک ہے، لیکن ان کے اپنے ملک کے مشاہدے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بات درست نہیں ہے۔

13 ستمبر کو انڈیا کا ٹیکنالوجی کا گڑھ بینگلور ٹھپ ہو کر رہ گیا تھا اور اس دوران دو لوگ مارے گئے اور سو سے زیادہ زخمی ہوئے۔ اس کی وجہ دریائے کاویری کے پانی کی تقسیم پر کرناٹک اور تامل ناڈو ریاستوں کے درمیان جھگڑا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اس جھگڑے کی چنگاری انڈین سپریم کورٹ کا وہ حکم نامہ تھا جس میں کہا گیا تھا کہ کرناٹک اپنی جنوبی ہمسایہ ریاست کرناٹک کو پانی فراہم کرنے کے لیے ڈیم کھول دے۔

سندھ کی طرح کاویری کے پانی کی تقسیم پر بھی ایک عرصے سے جھگڑا جاری ہے جس میں حالیہ دنوں میں شدت پیدا ہو گئی ہے۔

جنوبی ایشیا کے دوسرے علاقوں میں اس سال اچھی برسات ہوئی ہے، تاہم کاویری کا علاقہ بڑی حد تک اس سے محروم رہا ہے۔ اس کے بعد کرناٹک نے سخت قدم اٹھاتے ہوئے اپنے ڈیموں کا پانی چھوڑے سے انکار دیا۔ اس کا دعویٰ تھا کہ اگر اس نے پانی تامل ناڈو کو دے دیا تو اس کے اپنے شہری پیاسے رہ جائیں گے اور فصلیں اجڑ جائیں گی۔

تاہم سپریم کورٹ نے اسے ایسا کرنے کا حکم دے ہی دیا۔ جس کے بعد ہنگامے شروع ہو گئے۔

ان حالات میں بین الاقوامی آبی تنازعے حل کرنا آسان نہیں ہے۔ خاص طور پر عالمی موسمیاتی تبدیلی کے زمانے میں، جب ہر جگہ پانی کی قلت پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

دنیا میں دوسری جگہوں پر ملکوں کے درمیان پانی پر جھگڑے جاری ہیں۔ مصر، ایتھیوپیا اور سوڈان دریائے نیل کے پانی پر ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہیں۔

دوسری طرف ترکی اور عراق دریائے دجلہ کے پانیوں پر دست و گریبان ہیں، اور اسرائیل اور اس کے ہمسائے دریائے اردن کے پانی کی تقسیم پر رسہ کشی میں مصروف ہیں۔

خدشہ یہ ہے کہ ایک کامیاب بین الاقوامی معاہدے کو خطرے میں ڈال کر مودی دونوں ملکوں کے درمیان ایک اور خطرناک تنازعے کی راہ ہموار کر رہے ہیں، اور ساتھ ہی ساتھ دنیا کے لیے ایک بری مثال بھی قائم کر رہے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں