BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Wednesday, 08 October, 2003, 14:00 GMT 18:00 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
اعظم طارق کی جانشینی
 

 
احتجاج اور تشدد
اعظم طارق کی موت جماعت کے لئے ایک المیہ ہے

کالعدم سپاہ صحابہ پاکستان کے سربراہ اور نئی جماعت ملت اسلامیہ کے مرکزی کنوینر مولانا اعظم طارق کے قتل کے بعد ان کی جماعت کی مجلس شوری نے ان کی جگہ کمالیہ سے تعلق رکھنے والے دیوبندی عالم مولانا محمد احمد لدھیانوی کو قائم مقام مرکزی کنوینر مقرر کیا ہے جن کی شہرت اعتدال پسند رہنما کی ہے۔

مولانا لدھیانوی فیصل آباد کے قریب واقع قصبہ کمالیہ کی غلہ منڈی میں واقع ایک مدرسہ جامعہ فاروقیہ کے سربراہ ہیں اور اس سے پہلے جمعیت طلبائے اسلام، جمعیت علمائے اسلام اور کالعدم تنظیم سپاہ صحابہ پاکستان میں سرگرم تھے۔ وہ سپاہ صحابہ پاکستان کے تحصیل کمالیہ کے صدر اور بعد میں اس تنظیم کے پنجاب کے صدر رہ چکے ہیں۔

ملت اسلامیہ پاکستان کے مرکزی ترجمان مجیب الرحمان انقلابی نے بی بی سی کو بتایا کہ چالیس سالہ مولانا لدھیانوی ایک خوش مزاج اور خوش لباس سخصیت ہیں۔ وہ ایک عالم دین اور اعتدال پسند طبعیت کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔ ان کے والد بھی ایک عالم دین تھے اور ان کا تعلق ہندوستان کے ضلع لدھیانہ سے ہے۔

ملت اسلامیہ پاکستان ایک سیاسی جماعت کے طور پر ابھی رجسٹرڈ نہیں ہوئی ہے اس لیے اس کا باقاعدہ سربراہ نہیں ہے بلکہ اعظم طارق اس کے مرکزی کنوینر تھے اور ان کے علاوہ دس معاون کنوینر کام کررہے تھے۔

ترجمان کے مطابق سولہ ستمبر کو مرکزی شوری نے اس نئی جماعت کے منشور اور دستور کی حتمی منظوری دی تھی اور اب عیدالفطر کے موقع پر اس کی رکنیت سازی کی جانی تھی جس کے بعد جماعت کے سربراہ کا باقاعدہ انتخاب عمل میں آتا۔

ترجمان کے مطابق مولانا اعظم طارق کے قتل کے بعد خالی ہونے والی جھنگ کی قومی اسمبلی کی نشست پر ضمنی انتخاب سے پہلے ملت اسلامیہ پاکستان کے نئے سربراہ کا باقاعدہ انتخاب مکمل کرلیا جائے گا۔

ملت اسلامیہ پاکستان کے قائم مقام سربراہ مولانا لدھیانوی سپاہ صحابہ کی روایت کے مطابق اپنا شہر کمالیہ چھوڑ کر جھنگ میں متنتقل ہوجائیں گے جہاں جماعت کا مرکزی ہیڈ کوارٹر ہے اور جماعت اپنے سربراہ کو ایک اڑھائی مرلہ کا مکان اور ایک گاڑی مہیا کرتی ہے اور جماعت کا سربراہ اگر قتل ہوجاۓ تو اسے سپاہ صحابہ تحریک کے بانی حق نواز جھنگوی کے پہلو میں جامعہ محمودیہ میں دفن کیا جاتا ہے۔

سپاہ صحابہ کے اب تک چار سربراہ قتل ہوچکے ہیں جن میں حق نواز جھنگوی، ایثارالحق قاسمی، ضیاالرحمان فاروقی اور اعظم طارق شامل ہیں۔

مولانا اعظم طارق کے بعد سندھ میں کالعدم سپاہ صحابہ کے رہنما اور ملت اسلامیہ کے سرپرست اعلی مولانا شیر حیدری اس جماعت کے اہم رہنما ہیں۔

دوسری طرف پنجاب کے عبدالخالق رحمانی بھی، جو واہ کینٹ سے تعلق رکھتے ہیں اور نوجوان رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں، بھی نئی جماعت کی سربراہی کے لیے امیدواروں میں سمجھے جاتے ہیں۔

مولانا اعظم طارق کے بارے میں عام خیال یہ تھا کہ وہ نئی جماعت کو شیعہ مخالف تنظیم کے بجائے ایک مرکزی دھارے کی مذہبی جماعت کے طور پر قائم کرنا چاہتے تھے۔ ان کے قتل سے اس تنظیم کے سخت رویہ کے حامل لوگوں کے سامنے آنے کا امکان تھا۔ تاہم مجلس شوری نے مولانا لدھیانوی کا تقرر کرکے جماعت کی آئیندہ پالیسی کو اعتدال پسندی کی طرف گامزن رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔

 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد