BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Sunday, 03 April, 2005, 11:58 GMT 16:58 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
پاپائیت کی ڈیڑھ ہزار سالہ تاریخ
 

 
 
ویٹیکن
پوپ کے انتخاب کے لیے کارڈینلز کا اجتماع پوپ کے محل کے ایک ہال میں ہوتا ہے جسے’ کانکلیو‘ کہا جاتا ہے
پاپائے روم یا پوپ کے عہدے کی تاریخ ڈیڑھ ہزار سال پرانی ہے۔ عیسائیوں کے عقیدے کے مطابق حضرت عیسی کے مصلوب ہونے اور ان کی حیات نو کے بعد ، کئی سو سال تک مسیحیت کا کوئی مرکزی نظام نہیں تھا۔

اس زمانے میں مسیحیت کے پانچ اہم مراکز تھے۔ یروشلم ، اسکندریہ، انتاکیہ ، قسطنطنیہ اور روم۔ روم کو اس لحاظ سے اہمیت حاصل ہوئی کہ یہ سلطنت روما کا دارالحکومت رہا ہے اور روم کے بشپ کو یورپ کے عیسائیوں میں اہم مذہبی حیثیت حاصل تھی۔

شہنشاہ کانسٹنٹائن کے زمانہ میں روم کے بشپ کو پاپائے روم یا پوپ کہا جانے لگا۔ شہنشاہ کانسٹنٹائن جب اپنا دارالحکومت روم سے قسطنطنیہ لے گیا تو پوپ کا مرکز روم ہی میں رہا اور یوں پوپ اور مملکت کے درمیان ایک واضح حد فاصل قائم ہوگئی اور پوپ کو ایک منفرد حیثیت حاصل ہوگئی۔

نو روز کا سوگ
پوپ کی تدفین کے بعد نو روز تک ان کا سوگ منایا جاتا ہے اور اس کے بعد نئے پوپ کے انتخاب کا عمل شروع ہوتا ہے

پوپ کو حضرت عیسی کے حواری سینٹ پیٹر کا جانشین تصور کیا جاتا ہے اور روم میں مسیحیت کے مرکز کے قیام کے لیے انجیل سے یہ توجیح پیش کی جاتی ہے کہ حضرت عیسٰی کا یہ قول تھا کہ ’میں ایک چٹان پر اپنا کلیسا تعمیر کروں گا‘ اور چونکہ پیٹر کے معنی چٹان کے ہیں لہذا یہ کہا جاتا ہے کہ حضرت عیسی کا اشارہ سینٹ پیٹر کی جانب تھا۔

یہ بھی روایت ہے کہ سینٹ پیٹر روم آئے تھے اور یہیں انہوں نے جام شہادت پیا تھااور ویٹیکن میں سینٹ پیٹرس بیسیلیکا گرجا گھر کے نیچے دفن ہیں۔ چنانچہ اس بناء پر روم کو مسیحیت اور پوپ کا مرکز بنایا گیا۔

پوپ اور حکمرانوں کے درمیان کشمکش

پوپ کے عہدہ کے تانے بانے ، یورپ کی تاریخ سے ایسے گتھے ہوئے ہیں کہ یورپ کی تاریخ سے پاپائے روم کو جدا نہیں کیا جا سکتا۔ صدیوں تک پاپائے روم اور بادشاہوں کے درمیان ایک دوسرے پر بالادستی کی کشمکش رہی ہے اور ایک عرصہ تک پوپ کا تقرر بادشاہوں کی مرضی کے مطابق ہوتا رہا۔

تیرہویں صدی میں پوپ بونی فیس ہشتم نے یہ دعویٰ کیا کہ بنی نوع انسان کے مذہبی اور دنیاوی امور پر پوپ کو مکمل اختیار حاصل ہے اور یہ بات انہوں نے منوا لی کہ پوپ سنیٹ پیٹر کے جانشین ہونے کے ناطے کسی کے سامنے جواب دہ نہیں اور نہ کوئی ان کا محاسبہ کر سکتا ہے۔

آنجہانی پوپ جان پال دوم ، ساڑھے چار سو سال بعد پہلے غیر اطالوی پوپ تھے

یہی وجہ ہے کہ آج پوپ کو پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ایک ارب سے زیادہ رومن کیتھولک عیسائیوں پر مکمل بالادستی حاصل ہے اور ساری دنیا میں رومن کیتھولک آرچ بشپس اور بشپس پر مکمل اختیار ہے۔

پوپ کو کارڈینلز کی تقرری کا بھی کلی اختیار ہے جو نئے پوپ کا انتخاب کرتے ہیں۔ ایک مقصد اس روایت کا یہ ہے کہ نیا پوپ ایسا شخص منتخب ہو جو رواں پوپ کی پالیسیوں اور موقف میں تسلسل برقرار رکھ سکے۔

پوپ جان پال دوم نے موجودہ ایک سو پینتیس کارڈینلز میں سے ایک سو اٹھائیس کارڈینلز خود مقرر کیے تھے اور انہوں نے ایک اور شرط نئے پوپ کے انتخاب کے لیے یہ رکھی کہ کاڈینلز میں سے صرف وہ کارڈینلز نئے پوپ کا انتخاب کریں گے جن کی عمر اسی سال سے کم ہے۔

پوپ کا انتخاب

نئے پوپ کا انتخاب اس قدر خفیہ ہوتا ہے کہ کارڈینلز کو بھی اس کا علم نہیں ہوتا کہ کس نے کس کے حق میں ووٹ دیا۔

نئے پوپ کے انتخاب سے پہلے ایک قدیم رسم چلی آرہی ہے کہ پوپ کے انتقال کے بعد پوپ کے چیمبرلین ، سیکریٹری ، پوپ کا تین بار پیدائشی نام لے کر چاندی کے ایک چھوٹے سے ہتھوڑے سے پوپ کی میت کے سر پر تین ضربیں لگاتے ہیں اور ان کے منہ پر ایک جال ڈالتے ہیں یہ جاننے کے لیے کہ واقعی پوپ کا دم نکل چکا ہے اور وہ انتقال کرگئے ہیں۔

پوپ کے انتقال کے بعد ان کے کمرے سے ان کی میت لے جائے جانے کے بعد ان کا تمام سامان وہاں سے نکال لیا جاتا ہے اور کمرے کو نئے پوپ کے انتخاب تک مقفل کر دیا جاتا ہے- اسی کے ساتھ انکی انگوٹھی اور سرکاری نشانیاں تلف کر دی جاتی ہیں تاکہ کوئی نقلی پوپ انہیں استعمال نہ کرسکے۔

پوپ کی تدفین کے بعد نو روز تک ان کا سوگ منایا جاتا ہے اور اس کے بعد نئے پوپ کے انتخاب کا عمل شروع ہوتا ہے۔

ساری دنیا سے کارڈینلز پوپ کے محل کے ایک ہال میں جمع ہوتے ہیں۔ اس اجتماع کو ’ کانکلیو‘ کہا جاتا ہے۔ اس ہال کو مقفل کردیا جاتا ہے اور نئے پوپ کے انتخاب سے پہلے کسی کارڈینل کو باہر رابطہ کی اجازت نہیں ہوتی۔

پوپ جان پال دوم نے موجودہ ایک سو پینتیس کارڈینلز میں سے ایک سو اٹھائیس کارڈینلز خود مقرر کیے تھے

پہلے کارڈینلز کی کوشش ہوتی ہے کہ مکمل اتفاق رائے سے نیا پوپ منتخب کیا جائے۔ جب یہ ممکن نہیں ہوتا تو پھر خفیہ بیلٹ کے ذریعہ دو تہائی اکثریت سے نیا پوپ منتخب کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ہر روز دو بار بیلٹ ہوتے ہیں اور اگر تیرہ روز تک یہ ممکن نہ ہو تو پھر سادہ اکثریت سے نئے پوپ کے بارے میں فیصلہ کیا جاتا ہے اور جیسے ہی یہ کسی فیصلہ پر پہنچتے ہیں تو خفیہ رائے شماری کی تمام پرچیاں نذر آتش کر دی جاتی ہیں۔ پھر پوپ کے محل کی چمنی سےسفید دھواں اٹھتا ہے یوں سینٹ پیٹر سکوائر میں جمع منتظر افراد اور پوری دنیا کو یہ نوید ملتی ہے کہ نیا پوپ منتخب کر لیا گیا ہے جس کے بعد نیا پوپ سینٹ پیٹر کے گرجا گھر کی بالکونی پر نمودار ہوتا ہے۔

آنجہانی پوپ جان پال دوم ، ساڑھے چار سو سال بعد پہلے غیر اطالوی پوپ تھے۔ ان کا تعلق کمیونسٹ پولینڈ سے تھا اور اسی بناء پر ان کے انتخاب کو بڑی حد تک سیاسی کہا جاتا تھا۔

انہوں نے اپنے دور کے اوائل میں پولینڈ جا کر کمیونزم کو چیلنج کیا۔ پولینڈ پہلا کمیونسٹ ملک تھا جہاں کمیونزم کے خلاف بغاوت ہوئی اور کمیونسٹ حکومت کا خاتمہ ہوا۔ یہ مشرقی یورپ میں سویت یونین کے اثر کے خاتمے اور بالاخر خود سویت یونین کی مسماری کی شروعات تھیں۔

رومن کیتھولک فرقہ کے روحانی سربراہ اور کمیونزم کے درمیان سویت یونین کے قیام کے اوائل سے سخت کشمکش رہی ہے حتی کہ پوپ پائس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ دوسری عالم گیر جنگ کے دوران وہ نازی ازم سے زیادہ کمیونزم کو خطرہ سمجھتے تھے اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ہٹلر کی مذمت نہیں کی۔ اسی طرح اسپین میں جہاں فاشسٹ آمر فرانکو کے خلاف کمیونسٹ برسر پیکار تھے پوپ پائس نے فرانکو کی حمایت کی۔

پوپ جان پال دوم اس لحاظ سے تاریخ میں یاد رکھے جائیں گے کہ انہوں نے پہلے کمیونزم کے خلاف جنگ لڑی اور اس کے بعد انہوں نے سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف لڑائی لڑی۔ وہ خاص طور پر مغربی جمہورتیوں میں اخلاقی اقدار کے انحطاط کے خلاف سرگرم تھے۔

انہیں اس لحاظ سے بھی یاد رکھا جائے گا کہ انہوں نے پوری دنیا میں خاص طور پر لاطینی امریکا اور افریقہ میں رومن کیتھولک عقیدہ کو فروغ دیا- ان سے پہلے پوپ پال جن کا دور سن انیس سو تریسٹھ سے انیس سو اٹھہتر تک رہا ہے پہلے پوپ تھے جنہوں نےہوائی جہاز میں سفر کیا- پوپ جان پال دوم نے اپنے چھبیس سالہ دور میں ایک سو پندرہ ملکوں کے ایک سو ستر سفر کیے۔

روسی کلیسا پوپ کو یکسر تسلیم نہیں کرتا

گو اس وقت دنیا میں ایک ارب تیس کروڑ رومن کیتھولک ہیں لیکن ان کے مقابلے میں روسی آرتھوڈاکس ، یونانی آرتھوڈاکس کلیسا اور پروٹسٹنت کلیسا کافی مقبول اور مضبوط کلیسا ہیں۔

پروٹسٹنٹ کلیسا پوپ کو ایک اہم پیشوا مانتا ہے اور اب ان کے بیچ اتنی مخاصمت نہیں جتنی کہ چند صدیوں پہلے تھی لیکن روسی اور یونانی کلیسا پوپ کو یکسر تسلیم نہیں کرتے۔

 
 
پاپائے روم جان پال دوئم (مرحوم) جانشین کون؟
پاپائے روم کا جانشین کیسے منتخب ہوگا؟
 
 
رومپاپائے روم کا سوگ
پاپائے روم جان پال دوئم کا سوگ تصویروں میں
 
 
پوپآپ کی رائے
آپ پوپ کو کیسے یاد رکھنا چاہیں گے؟
 
 
پوپ جان پال دوئم پوپ جان پال دوئم
پوپ کی زندگی تصویروں میں
 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد