http://www.bbc.com/urdu/

Friday, 29 April, 2005, 06:51 GMT 11:51 PST

صفدر ہمدانی
بی بی سی اردو سروس، لندن

تارکین وطن کی منفرد لائبریری

گزشتہ ایک ماہ میں مجھے مختلف مواقع پر کوئی تین مرتبہ ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن جانے کا اتفاق ہوا اور ہر مرتبہ میرے دوستوں اور میزبانوں نے میرے مزاج کو جانتے ہوئے مجھ سے کوپن ہیگن کی تارکین وطن کی منفرد لائبریری کو دیکھنے کا مشورہ دیا لیکن ہر مرتبہ وقت کی تنگی آڑے آئی۔

تاہم چند روز قبل آخر کار میں اپنے قلمکار اور محقق دوست نصر ملک کے ہمراہ کوپن ہیگن کی معروف ٹیلیگرافک روڈ پر ڈنمارک کے تارکین وطن کی لائبریری کے صدر دفتر کی عمارت کے باہر کھڑا تھا۔ وسیع و عریض مختلف عمارتوں اور دفاتر پر مشتمل اس ادارے سے ڈنمارک کی ہر ایک لائبریری کو ملک میں موجود تارکین وطن کے لیے انکا مطلوب ادب اور سمعی اور بصری مواد مہیا کیا جاتا ہے۔

اس مواد میں مختلف موضوعات کی ہزاروں کتابوں کے علاوہ موسیقی اور فلموں کی کیسٹیں اور سی ڈیز شامل ہیں۔ یہاں اقلیتوں کے لیے ان کی اپنی زبان میں وافر مقدار میں ادب و موسیقی موجود ہے۔

اگر چہ اسی قسم کی مخصوص لائبریریاں سکینڈے نیویا کے دیگر ممالک ناروے اور سویڈن میں بھی ہیں لیکن ان دونوں ممالک میں ان کا قیام ڈنمارک کی لائبریری سے متاثر ہو کر عمل میں آیا اور دوسرے ڈنمارک کی یہ لائبریری اپنی کتابوں اور سمعی و بصری مواد کے وسیع ذخیرے کی وجہ سے ان سے منفرد ہے۔

ڈنمارک کی پانچ اعشاریہ چار ملین کی آبادی میں اس وقت غیر ملکیوں کی تعداد نو فیصد ہے اور ان میں تارکین وطن اور انکی اولادوں کی تعداد چار لاکھ تنتالیس ہزار کے قریب ہے۔

قومیت کے اعتبار سے ترکی، جرمنی، عراق، ناروے، سویڈن اور بوسنیا کے بعد پاکستان اور پھر ایران کا نمبر آتا ہے۔ غیر سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ڈنمارک میں پاکستانیوں کی تعداد کوئی پنتیس ہزار کے قریب ہے جن کی اکثریت گجرات اور سیالکوٹ سے ہے جبکہ بھارت سے آنے والے تارکین وطن کی تعداد فقط ساڑھے تین ہزار ہے۔

گریٹر کوپن ہیگن میں اس وقت پچیس مختلف غیر ملکی زبانوں میں تعلیم دی جاتی ہے جن میں اردو اور گورمکھی بھی شامل ہیں اور ان زبانوں کی کتابیں طلباء میں مفت تقسیم کی جاتی ہیں-

تارکین وطن کی یہ منفرد لائبریری انیس سو تہتر میں کوپن ہیگن کے مضافات میں گنٹافٹے نامی شہر میں قائم ہوئی تھی لیکن کم جگہ ہونے کی وجہ سے انیس سو چوہتر میں اسے موجودہ عمارت میں منتقل کر دیا گیا۔

انیس سو پچھتر میں ڈنمارک کے اس تجربے سے متاثر ہو کر سویڈن اور ناروے میں بھی ایسی ہی تارکین وطن کی مخصوص لائبریریوں کا قیام عمل میں آیا-

ناروے میں ایسی پہلی لائبریری کے قیام میں اردو کے دو معروف لکھاریوں آنجہانی ہر چند چاولہ اور مرحوم سعید انجم نے نہایت اہم کردار ادا کیا تھا۔

لائبریری پہنچنے پر میری ملاقات لائبریری کی مرکزی انچارج بینڈکٹے کراو شوارز اور انکی معاون کرسٹین سن سے ہوئی اور ان دونوں خواتین نے مجھے اس لائبریری کے قیام اور تدریجی مراحل سے آگاہ کیا-

یہیں پر میری ملاقات اردو کے شعبے کی جواں ہمت سربراہ اور پروجیکٹ ڈائریکٹر روبینہ کوثر سے ہوئی جن کے ذمے اردو زبان کی کتابوں اور موسیقی وغیرہ کا کام ہے۔ سچ بات تو یہ ہے کہ مجھے اس لائبریری میں اردو کے علاوہ پاکستان کی علاقائی زبانوں کی کئی ایسی کتابیں بھی ملی ہیں جو پاکستان کی کسی مرکزی یا علاقائی لائبریری میں بھی موجود نہیں۔

یوں تومیں تارکین وطن کی ساری زبانوں کی کتابیں دیکھ رہا تھا لیکن ظاہر ہے کہ میری زیادہ دلچسپی اردو میں تھی۔ روبینہ کوثر نے بتایا کہ یوں تو اس لائبریری میں پچاس زبانوں میں مواد موجود ہے لیکن اردو سمیت تیس بڑی زبانوں کاادب اور موسیقی خاص طور پر قابل ذکر ہے۔

تارکین وطن کی اس منفرد اور مخصوص لائبریری کو عوامی لائبریریوں کی قومی لائبریری براۓ غیرملکی ادب کا نام بھی دیا گیا ہے۔اگر کسی شہر کی مقامی لائبریری میں طلب کردہ مواد نہیں تومقامی لائبریری کا عملہ کسی دوسری عوامی لائبریری یا عوامی لائبریریوں کی قومی لائبریری براۓ غیرملکی ادب سے مواد منگوانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔تمام عوامی لائبریریوں کے پاس عوامی لائبریریوں کی قومی لائبریری براۓ غیرملکی ادب کے اردو کیٹلگس موجود رہتے ہیں۔

تارکین وطن کی اس لائبریری براۓ غیرملکی ادب میں اردو ادب کا ایک کثیرالتعداد ذخیرہ ہے جس میں کوئی چودہ ہزار کے قریب کتابوں کی جلدیں ہیں اور کتابوں کے علاوہ موسیقی کی کیسٹیں، ویڈیو فلمیں، رسالے اور ساؤنڈبکس شامل ہیں ۔ فی الحال یہ مجموعہ تقریباً 7200 کتابیں براۓ بالغان، تقریباً 4800 بچوں کی کتابیں اور 300 ساؤنڈبکس پر مشتمل ہے ۔ اسکے علاوہ تقریباً 700 سی ڈی اور موسیقی کی کیسٹیں بالغان کیلیۓ، تقریباً 70 سی ڈی اور موسیقی کی کیسٹیں بچوں کیلیۓ اور تقریباً 400 ویڈیو فلمیں براۓ اطفال و بالغان موجود ہیں۔

قومی لائبریری براۓ غیرملکی ادب کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ ڈنمارک میں بسنے والے اہل اردو کیلیے انکا پسندیدہ ادب اور موسیقی جمع کرے اسلیۓ ہم پاکستان کے ادبی منظر نامے میں ظاہر ہونے والے نۓ ادب پر بھی نظر رکھی جاتی ہےاور اسکی خریداری کی جاتی ہے اہل اردو اپنی زبان، ثقافت، تہذیب وتمدن اور ادب سے اپنا رشتہ قائم رکھ سکے-

یہیں مجھے اردو کے نامور شاعر فیض احمد فیض کا ایک نادر مجموعہ کلام بھی ملا جو دراصل انکی نظموں کا پہلا مجموعہ ’سارے سخن ہمارے‘ ہے جو 1982میں 750محدود نسخوں کی تعداد میں لندن سے یاسمین حسین اور خواجہ شاہد حسین نے شائع کیا تھا-

اسکا سرورق مقبول فدا حسین نے بنایا تھا اور اس کا انتساب فیض صاحب نے خود اپنے ہاتھ سے لکھا تھا-اس مجموعے کی متعدد خصوصیات میں سے ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ شاعر اور مجموعے کے نام کے علاوہ کتاب کے صفحات کے بیرونی کونے خالص سونے سے مزین ہیں اور کہا جاتا ہے کہ ایسے چند ہی نسخے اب دنیا میں دستیاب ہیں۔

یہاں قرآن مجید کی کیسٹیں اور سی ڈی موجودہیں جو قرآن مجید سیکھنے اور تلفظ درست کرنے میں مددگار ثابت ہو تی ہیں۔

تارکین وطن کی قومی لائبریری براۓ غیرملکی ادب میں بچوں کی کتابوں کا ایک بہت بڑا ذخیرہ ہےجن کے ذریعے وہ اردو زبان اور پاکستانی ثقافت سے رشتہ قائم رکھ سکتے ہیں۔