http://www.bbc.com/urdu/

ایران کے صدارتی امیدوار

ایران کے صدارتی انتخابات میں آٹھ امیدوار حصہ لے رہے ہیں اور عام طور پر خیال کیا جا رہا ہے کہ سابق صدر علی اکبر ہاشمی رفسنجانی یہ انتخاب جیت جائیں گے۔

یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اگر ووٹنگ کی شرح زیادہ رہی تو اس بات کا بھی امکان ہے کہ موجودہ صدر خاتمی کے معاون مصطفیٰ معین بھی جیت جائیں۔

علی اکبر ہاشمی رفسنجانی

ستر سالہ ہاشمی رفسنجانی گزشتہ چالیس برس سے ایرانی سیاست میں سرگرم ہیں۔ وہ دو بار ایران کے صدر منتخب ہو چکے ہیں جبکہ 1980 سے 1989 تک وہ ایرانی اسمبلی کے سپیکر بھی رہے ہیں۔ اس وقت رفسنجانی مجلس کے سربراہ ہیں۔ اس کونسل کا کام ایوان اور مجلسِ نگہبان کے درمیان اختلاف کی صورت میں تصفیہ کروانا ہے۔

بطورِ صدر انہوں نے ایران میں سیاسی ترقی سے زیادہ معاشی ترقی پر زور دیا جس پر ان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ سے ملک میں معاشرتی تبدیلی کی راہ میں رکاوٹ پیدا ہوئی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے واقعات سامنے آئے۔

ہاشمی رفسنجانی 1988 میں ایران عراق جنگ کے آخری برس ایرانی افواج کے کمانڈر مقرر ہوئے اور انہوں نے ہی اس جنگ کے خاتمے کے لیے اقوامِ متحدہ کی قرارداد قبول کی تھی۔

1990 کے اوائل میں لبنان سے غیر ملکی مغویوں کی رہائی میں بھی رفسنجانی نے اہم کردار ادا کیا تھا۔

ہاشمی رفسنجانی اسلامی جمہوریہ ایران کے خالق آیت اللہ العظمیٰ امام خمینی کے ہم جماعت بھی رہ چکے ہیں۔

مصطفیٰ معین

سابقہ وزیر مصطفیٰ معین اس وقت موجودہ ایرانی صدر کے مشیر ہیں۔ اور وہ ہاشمی رفسنجانی اور صدر خاتمی کے پہلے دورِ اقتدار میں ایرانی کابینہ میں ثقافت اور اعلیٰ تعلیم کے وزیر رہ چکے ہیں۔

اپنی وزارت کے دوران انہوں نے تین مرتبہ استعفیٰ دیا۔ دو مرتبہ نامنظور کیے جانے کے بعد تیسری مرتبہ ان کا استعفیٰ قبول کر لیا گیا تھا۔ مصطفیٰ معین نے پہلی مرتبہ 1999 میں طلبہ کے جلوسوں پر تشدد کی بنا پر استعفیٰ دیا جبکہ 2003 میں وزارت کے کام میں دخل اندازی کی بنا پر وہ مستعفیٰ ہو گئے تھے۔

مصطفیٰ معین 1951 میں نجف آباد میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے 1980 میں گریجویشن کی اور بعد ازاں 1996 میں تہران یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔

علی لاریجانی

1957 میں پیدا ہونے والے ڈاکٹر علی لاریجانی آیت اللہ مرزا ہاشم امولی کے صاحبزادے ہیں۔ وہ 1994 سے 2004 تک ایران کے سرکاری ریڈیو کے سربراہ رہ چکے ہیں۔ اس سے قبل وہ صدر رفسنجانی کی حکومت میں وزیرِ ثقافت بھی رہ چکے ہیں۔

اسلامک کوارڈینیشن کونسل نے انہیں اپریل میں اپنا امیدوار منتخب کیا تھا اور اس وقت وہ سکیورٹی معاملات کے لیے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنئی کے مشیر ہیں۔

محمود احمد نژار

تہران کے موجودہ میئر محمود احمد نژار کو اس صدارتی انتخاب میں قدامت پسند سیاسی گروہ ’ آبادگاران‘ کی حمایت حاصل ہے جنہیں موجودہ اسمبلی میں اکثریت حاصل ہے۔

ان کی ویب سائٹ کے مطابق وہ اس طلبہ تنظیم کے بانی ممبر تھے جس نے 1979 میں تہران میں امریکی سفارت حانے پر قبضہ کیا تھا۔ مئی 2003 میں میئر بننے کے بعد سے وہ صدر خاتمی سے اپنے اختلافات کے لیے جانے جاتے رہے ہیں۔

محمود احمد نژار 1956 میں پیدا ہوئے اور وہ تہران یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہیں۔

مہدی کروبی

1937 میں پیدا ہونے والے علامہ مہدی کروبی ایک کہنہ مشق سیاستدان ہیں اور وہ 16 برس تک ایرانی مجلس کے رکن اور 8 برس تک سپیکر رہ چکے ہیں۔ مہدی کروبی کو اصلاح پسندوں کا حامی سمجھا جاتا ہے۔

آیت اللہ خمینی کے انتقال کے بعد مہدی کروبی کی اصلاحی کوششوں کو دھچکا پہنچا تھا جب قدامت پسندوں کی طاقت میں اضافہ ہو گیا تھا۔ مہدی کروبی نے 1997 میں محمد خاتمی کے صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد اصلاح پسندوں کے حمایت کا اعلان کیا تھا۔

محسن مہر علی زادے

صدر خاتمی کے نائب محسن علی زادے ایران کی فزیکل ایجوکیشن آرگنائزیشن کے سربراہ ہیں۔ وہ اپنے آپ کو ’ آزاد اصلاح پسند‘ قرار دیتے ہیں۔

محسن علی زادے 1993 سے 1995 تک ایران کے جوہری توانائی کی تنظیم کے نائب سربراہ رہے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ 1992 میں روس سے بشر نیوکلیئر پاور سٹیشن معاہدہ علی زادے نے ہی کیا تھا۔

علی زادے1997 سے 2001 تک ایرانی صوبے خراسان کے گورنر بھی رہ چکے ہیں۔ 1956 میں پیدا ہونے والے محسن علی زادے ایک مکینیکل انجینیئر ہیں۔

محمد باقر قالیباف

43 سالہ ڈاکٹر باقر قالیباف ایک قدامت پسند امیدوار ہیں۔ وہ ان 24 افراد میں سے ہیں جنہوں نے 1999 میں طلبہ کے مظاہروں پر قابو پانے کے لیے صدر خاتمی کو خط لکھا تھا۔

انہیں 2000 میں پولیس کا سربراہ مقرر کیا گیا اور انہوں نے پہلی مرتبہ ایرانی پولیس میں خواتین کو بھرتی کیا۔ڈاکٹر قالیباف نے 2001 میں تہران یونیورسٹی سے جیو پالیٹکس میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی تھی۔