BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Tuesday, 24 January, 2006, 05:07 GMT 10:07 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
زلزلہ متاثرین، نیویارک میں کنسرٹ
 

 
 
بھارتی نژاد فنکار جارج میتھیوز نے کنسرٹ کی قیادت کی
بھارتی نژاد فنکار جارج میتھیوز نے کنسرٹ کی قیادت کی
دو سو سال پہلے انگریزی کلاسکی موسیقی کے مشہور کمپوزر لڈوگ وین بیت ہوون نے آپس میں نبرد آزما دو قوموں کی موسیقی کے ملاپ کے ذریعے امن اور ایک دوسرے کو قبول کرنے کا پیغام دیا۔

دو سو سال بعد اسی پیغام کے ذریعے بھارتی نژاد فنکار جارج میتھیوز جنوبی ایشیاء میں زلزلے سے متاثر لاکھوں لوگوں کی مدد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اسی سلسلے میں انہوں نے پیر تئیس جنوری کو نیویارک کے کارنیگی حال میں انگریزی کلاسیکی موسیقی کا ایک کانسرٹ منعقد کیا۔

اس کانسرٹ میں بیت ہوون کی نائنتھ(نویں) سمفونی بجائی گئی۔

اس سمفونی کے انتخاب کے بارے میں مسٹر میتھیوز کہتے ہیں:
’بیت ہوون یہ کہہ رہا ہے کہ یہ ایک فرد کی آواز نہیں بلکہ ایک معاشرے کی آواز ہے جو اپنے برادر معاشرے کو آواز دے رہا ہے۔ ہمیں جرمن موسیقی سنائی دیتی ہے۔ جس کے ساتھ ملائی گئی ترک موسیقی نے، جو کہ اسلامی دنیا کی موسیقی ہے، اسے مزید نکھار دیا ہے۔ جس وقت بیت ہوون نے یہ سمفونی کمپوز کی آسٹرو ہنگیرین سلطنت اور ترک سلطنت کے درمیان جنگ جاری تھی۔ بیت ہوون نے یہ دو قسم کی موسیقی ملا کر اس وقت ہی کہ لیے نہیں بلکہ ہمارے لیے بھی یہ سبق چھوڑا ہے کہ مختلف قسم کےلوگ مل کر رہ سکتے ہیں۔‘

آرکسٹرا یعنی سازندوں اور کورس یعنی گلوکاروں کو ملا کر اس کانسرٹ میں ڈھائی سو کے قریب فنکاروں نے شرکت کی جن میں امریکہ کے کئی بڑے نام شامل ہیں۔

نیویارک فل ہارمونک کے کانسرٹ ماسٹر گلین ڈکٹرو اس کانسرٹ کے بھی کانسرٹ ماسٹر تھے۔ انگریزی کلاسیکی موسیقی بجانے والے آرکسٹراز میں نیویارک فل ہارمونک دنیا بھر میں مشہور ہے اور گلین ڈکٹرو کا نام انگریزی کلاسیکی موسیقاروں میں صف اول میں شمار ہوتا ہے۔ وہ وائلن بجاتے ہیں۔

خود جارج میتھیوز کا خاندان کیرالا سے تعلق رکھتا ہے لیکن دوسری جنگ عظیم کے دوران وہ سنگاپور چلا گیا اور میتھیوز سنگاپور ہی میں پیدا ہوئے۔

ستر کی دہائی میں میتھیوز بھارت واپس آئے اور مڈل اور ہائی سکول کیرالا میں مکمل کیا اور ایک سال آندھرا پردیش کے کرشن مورتی سکول رشی ویلی میں بھی تعلیم حاصل کی۔

وہاں سے میتھیوز برطانیہ چلے گئے اور پھر امریکہ میں یونیورسٹی کی تعلیم حاصل کی۔

میتھیوز نے سنگاپور میں بچپن میں پیانو سیکھا اور پھر کیرالا میں اپنے والدین کے چرچ میں ایک کوائر بنایا جس کے بارے میں وہ کہتے ہیں :’تیرا سال کی عمر میں یہ میرا پہلا کنڈکٹنگ ایکسپیرئیینس (موسیقی کنڈکٹ کرنے کا تجربہ) تھا۔ مجھے اس وقت کنڈکٹنگ کی تھیوری یا موسیقی کی تھیوری نہیں آتی تھی صرف شوق کے بل پر یہ کام کیا۔”

مسٹر میتھیوز ایک طرح سے حیران بھی تھے اور خوش بھی کہ ان کا یہ کانسرٹ ان کا امیدوں سے زیادہ بڑا ہو گیا۔

’ملک بھر سے موسیقاروں کا یوں اکٹھے پرفارم کرنا ایک بہت خاص تجربہ ہے۔ یہ لوگ ایک دوسرے کو جانتے ہیں مگر انہوں نے ایک دوسرے کے ساتھ کام نہیں کیا۔”

اس کانسرٹ کے ذریعے جمع کردہ رقم ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز نامی بین الاقوامی تنظیم کو دی جائے گی۔ یہ تنظیم دنیا کے ستر سے زائد ممالک میں ضرورت مند لوگوں کو صحت کی سہولیات فراہم کرتی ہے۔ بھارت اور پاکستان میں بھی یہ تنظیم زلزلے سے متاثرہ افراد کی مدد کر رہی ہے۔ اس تنظیم کو 1999 میں امن کا نوبل انعام بھی دیا گیا تھا۔

 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد