BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Wednesday, 22 February, 2006, 09:03 GMT 14:03 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
عسکری مزار کو نقصان، ہزاروں مشتعل
 
عسکری مزار کا دھماکے کے بعد کا منظر
عسکری مزار کا دھماکے کے بعد کا منظر
عراق کے شہر سامرا میں ایک بم دھماکے میں اہلِ تشیع کے لیئے انتہائی محترم عسکری مزار کو نقصان پہنچا ہے جس کے نتیجے میں مظاہرے شروع ہو گئے ہیں۔

یہ دھماکہ بدھ کو صبح کے وقت کیا گیا جب چند نامعلوم مسلح افراد مزار کے اندر گھس آئے اور انہوں نے متعدد بارودی دھماکے کیے۔ دو مسلح افراد نے دھماکوں سے پہلے مزار کے محافظوں پر قابو پالیا۔ دھماکوں کے نتیجے میں مزار کا بالائی حصہ تباہ ہو گیا۔

اس جگہ پر شیعہ فرقے کے دو اماموں کے مزار ہیں جن میں امام علی الہادی شامل ہیں اور ان کی زیارت کے لیے دنیا بھر سے زائرین یہاں آتے ہیں۔ اس جگہ پر اہلِ تشیع کے دسویں اور گیارہویں اماموں کی نشانیاں موجود ہیں جو پیغمبر اسلام کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔

بغداد سے بی بی سی کے نمائندے جان برین کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کا مقصد شیعہ اور سنی آبادی کے درمیان کشیدگی میں اضافہ کرنا ہے۔ دھماکے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی لیکن دھماکے کے بعد ہزاروں لوگ جمع ہو گئے۔
شیعہ رہنما آیت اللہ علی سیستانی نے ایک ہفتہ کے سوگ کا اعلان کیا ہے۔

ابھی تک کسی تنظیم نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ یہ دھماکہ برطانوی سیکرٹری خارجہ جیک سٹرا کے عراق کے دورے کے اگلے دن پیش آیا ہے۔

انہوں نے اپنے اس دورے میں سیاسی گروپوں پر زور دیا کہ وہ فرقہ وارانہ فساداد کو پس پشت ڈال کر قومی حکومت بنائیں۔

 
 
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد