BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Sunday, 23 July, 2006, 17:14 GMT 22:14 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
حزب اللہ: حقیقی قوت کا راز
 

 
 
حزب اللہ کو عوام میں مقبولیت ہے
لبنان پر اسرائیل کی شدید بمباری اور ملک کے جنوب میں فوج کشی کو بارہ روز سے زیادہ ہونے کو آئے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں دارالحکومت بیروت کا ایک بڑا علاقہ کھنڈر بن چکا ہے۔ ہوائی اڈہ تباہ ہوچکا ہے، بہت سے شہر تاراج ہوگئے ہیں۔

بندگارہیں مسمار ہوگئی ہیں۔ ساڑھے تین سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں جن میں اقوام متحدہ کے مطابق ایک تہائی بچے ہیں۔ پانچ لاکھ سے زیادہ افراد اپنے گھروں سے بے گھر ہوگئے ہیں۔ جنوبی لبنان سے جو لوگ اپنی جان بچانے کے لیے فرار ہورہے ہیں وہ اسرائیلی بمباری کا نشانہ بن رہے ہیں۔ غرض پورا لبنان اسرائیلی محاصرہ میں ہے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ لبنان پر اس کے حملوں کا مقصد اول اپنے ان دو فوجیوں کی رہائی ہے جو حزب اللہ نے دو ہفتہ قبل پکڑ لیے تھے اور دوم ہمیشہ ہمیشہ کے لیے شدت پسند تنظیم حزب اللہ کا قلع قمع کرنا ہے جس کے سامنے چھ سال قبل جنوبی لبنان پر قابض اسرائیلی فوج کو گھٹنے ٹیک دینے پڑے تھے اور اس پورے علاقہ سے جس پر اسرائیلی فوجیں اٹھارہ سال تک مسلط رہیں ہتک آمیز انداز سے پسپا ہونا پڑا تھا۔

تو سوال یہ ہے کہ بارہ روز ہوگئے، لبنان تباہ ہوگیا، لبنانی فوجیں نہایت بے بسی اور بے کسی کے عالم میں یہ تباہی دیکھ رہی لیکن حزب اللہ ہے کہ بدستور اسرائیل کے خلاف ڈٹی ہوئی ہے، لبنان میں اسرائیلی فوجی دستوں کا مقابلہ کر رہی ہےاور اسی کے ساتھ شمالی اسرائیل میں حیفہ اور دوسرے شہروں کو اپنے راکٹوں سے نشانہ بنا رہی ہے۔

کیا طاقت ہے اس کی اور کیا راز ہے اس کی قوت کا؟ اس کا جواب تلاش کرنے سے پہلے ان حالات کا ذکر ضروری ہے جن کے پس منظر میں یہ تنظیم نمو دار ہوئی۔

حزب اللہ: سیاسی مقبولیت
 سن بانوے میں حزب اللہ کی قیادت سنبھالنے کے بعد حسن نصراللہ نے اپنی تنظیم کو لبنانی سیاست کے شہہ دھارے میں لانے کے لیے ’مزاحمت ووٹ کے ذریعہ‘ کا نعرہ دیا۔ نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ حزب اللہ لبنان کی سیاست میں ایک مضبوط اور مقبول جماعت کی حیثیت سے ابھری اور پچھلے سال کے عام انتخابات میں حزب اللہ نے اٹھارہ فی صد ووٹ حاصل کیے اور پارلیمنٹ میں اسے پندرہ نشستیں ملیں۔ وزیراعظم فواد سنیورا کی کابینہ میں حزب اللہ کے دو وزیر شامل ہیں-
 
حزب اللہ انیس سو بیاسی میں مختلف اسلامی تنظیموں کے اتحاد کی صورت میں اس زمانہ میں قائم ہوئی تھی جب بیروت کے ایک بڑے علاقہ اور جنوبی لبنان پر اسرائیلی فوجیں قابض تھیں۔ بنیادی طور پر اس تنظیم کے قیام کا مقصد لبنان میں شیعوں کی قوت کو منظم اور مجتمع کرنا تھا۔ لبنان میں گو شیعوں کی تعداد پینتیس سے چالیس فی صد ہے لیکن اکثریت ان کی بہت غریب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لبنان کی سیاست میں جس پر عیسائی اور سنی اشرافیہ حاوی رہی ہے انہیں محرومی کا سامنا کرنا پڑا ہے اور انہیں بہت کم اثر حاصل رہا ہے۔

لبنان کے آئین میں بھی شیعوں کو اختیارات اور عہدوں کے لحاظ سے تیسرا درجہ دیا گیا۔ صدر کا عہدہ عیسائیوں کے لیے مخصوص ہے۔ وزیر اعظم سنی ہوتا ہے اور شیعوں کی اشک شوئی کے لیے انہیں پارلیمنٹ کے اسپیکر کا عہدہ دیا گیا ہے-

بانی حزب اللہ کے ممتاز شیعہ شاعر اور مقتدر رہنما محمد حسین فضل اللہ تھے جنہوں نے اس تحریک کے لیے وجدان ایران کے اسلامی انقلاب سے حاصل کیا تھا- اس کے پہلے سیکرٹری جنرل حسین موسوی تھے جو سن بانوے میں اسرائیل کے مزائیل کے حملہ میں جاں بحق ہو گئے تھے۔ ان کی ہلاکت کے بعد بتیس سالہ حسن نصر اللہ نے حزب اللہ کی قیادت سنبھالی۔

حسن نصر اللہ کی قیادت میں حزب اللہ نے ملک کی سیاست میں شیعوں کو مؤثر آواز دینے اور ان کی طاقت کے اظہار کے لیے بیک وقت دو محاذوں پر علم کاوش بلند کیا۔ ایک لبنان کے شیعوں کی غربت اور ناداری کے خاتمہ کے لیے ان کی فلاح بہبود کے شعبہ میں کام شروع کیے۔ ہسپتال اور شفاخانےقایم کیے۔ تعلیمی اداروں کا جال پھیلایا۔ شیعہ بے روزگاروں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کیےاور بڑے پیمانہ پر خیراتی کام شروع کیے۔

اسی کے ساتھ اپنے اخبارات اور جریدوں کا اجراء کیا اور المنار کے نام سے اپنی الگ ٹیلیوژن چینل قایم کیا۔ ان عوامل کی بنا پر حزب اللہ کی جڑیں لبنانی شیعوں میں مضبوطی سے پیوست ہوگئیں۔

دوسرا محاذ جنوبی لبنان پر اسرائیل کے فوجی تسلط کے خاتمہ کا تھا۔ لیکن اس محا ذ پر نبرد آزما ہونے سے پہلے حزب اللہ نے لبنان میں تعینات امریکی فوجوں اور فرانسیسی اور اطالوی امن دستوں کو نشانہ بنایا۔ سن تراسی میں حزب اللہ کے خود کش بمباروں نے بیروت میں امریکی فوجوں کی بیرکوں پر حملے کیے اور دو سو اکتالیس فوجیوں کو ہلاک کردیا جس کے بعد لبنان سے امریکی فوج ایسی پسپا ہوئی کہ اس نے لبنان کا پھر کبھی رخ نہیں کیا-

اسرائیلی بمباری میں سات لاکھ سے زائد لوگ بےگھر ہوئے ہیں
امریکی قوت کے خلاف اس کامیابی کے بعد حزب اللہ نے اٹھارہ سال سے قابض اسرائیلی فوج اور اس کے اتحادی لبنانی عیسائی عسکری تنظیموں کو للکارا- اس مقصد کے لیے حزب اللہ نے وادئ بقاع میں اپنے چھاپہ ماروں کی تربیت کے لیے وسیع پیمانہ پر مراکز قایم کیے۔ اس عمل میں وجدان انہوں نے ویت نام کے ویت کانگ چھاپہ ماروں کی حکمت عملی سے حاصل کیا اور عملی تربیت میں ایران کے پاسداران انقلاب نے اہم رول ادا کیا۔ ایران کی مالی اعانت بھی اس میں شامل رہی۔

فوجی ماہرین اس بات کو اگر معجزہ نہیں تو نہایت تعجب خیز ضرور قرار دیتے ہیں کہ حزب اللہ کے چھاپہ ماروں نے اسرائیلی فوجوں کے خلاف ایسی موثر جنگ لڑی کہ سن دو ہزار میں اسرائیلی فوجوں کو جنوبی لبنان سے پسپا ہونا پڑا- اس جنگ میں اسرائیل کے نو سو سے زیادہ فوجی ہلاک ہوئے- ان ماہرین کے نزدیک کسی عرب فوج نے اسرائیل کو ایسی خفت آمیز شکست نہیں دی جیسی حزب اللہ کے چھاپہ ماروں نے جنوبی لبنان میں اسرائیل کو دی ہے۔ اسی جنگ میں حزب اللہ کے چھیالیس سالہ سربراہ کا اٹھارہ سالہ بیٹا ہادی بھی جاں بحق ہوا جس کے بعد انہوں نے اپنے دوسرے بیٹے کو بھی حزب اللہ کے سپرد کردیا-

پچھلے چھ برس میں حزب اللہ نے اپنی فوجی قوت میں زبر دست اضافہ کیا ہے- بتایا جاتا ہے کہ اس نے تیرہ ہزار راکٹ جمع کیے جن میں سے کئی ہزار فجر پنجم اور زلزال راکٹ اسرائیل کے اندر پچاس کلو میٹر تک مار کر سکتے ہیں اور تل ابیب تک پہنچ سکتے ہیں- بتایا جاتا ہے کہ حزب اللہ نے ویت کانگ کے چھاپہ ماروں کی طرح جنوبی لبنان میں سرنگوں کا جال بچھا رکھا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اسرائیل کی زبردست بمباری کے باوجود حزب اللہ کی قوت برقرار ہے۔ یہی حکمت عملی اب غزہ میں حماس کے چھاپہ مار اختیار کر رہے ہیں۔

پچھلے بارہ روز میں حزب اللہ نے شمالی اسرائیل میں راکٹوں کے پانچ سو حملے کیے ہیں جن سے تیس سے زیادہ اسرائیلی ہلاک ہوئے ہیں اور آدھے سے زیادہ اسرائیلی شمالی اسرائیل سے فرار ہو گئے ہیں۔

شیعہ قوت کو منظم کرنا تھا
 حزب اللہ انیس سو بیاسی میں مختلف اسلامی تنظیموں کے اتحاد کی صورت میں اس زمانہ میں قائم ہوئی تھی جب بیروت کے ایک بڑے علاقہ اور جنوبی لبنان پر اسرائیلی فوجیں قابض تھیں۔ بنیادی طور پر اس تنظیم کے قیام کا مقصد لبنان میں شیعوں کی قوت کو منظم اور مجتمع کرنا تھا۔
 

سن بانوے میں حزب اللہ کی قیادت سنبھالنے کے بعد حسن نصراللہ نے اپنی تنظیم کو لبنانی سیاست کے شہہ دھارے میں لانے کے لیے ’مزاحمت ووٹ کے ذریعہ‘ کا نعرہ دیا۔ نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ حزب اللہ لبنان کی سیاست میں ایک مضبوط اور مقبول جماعت کی حیثیت سے ابھری اور پچھلے سال کے عام انتخابات میں حزب اللہ نے اٹھارہ فی صد ووٹ حاصل کیے اور پارلیمنٹ میں اسے پندرہ نشستیں ملیں۔ وزیراعظم فواد سنیورا کی کابینہ میں حزب اللہ کے دو وزیر شامل ہیں-

یہ امر قابل ذکر ہے کہ پچھلے انتخابات میں حزب اللہ نے عیسائی عسکری تنظیم کے رہنما مائیکل عون سے اتحاد کیا تھا اور اب بھی وہ اس کے اتحادی ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ حزب اللہ کو ایران اور شام دونوں کی بھر پور حمایت حاصل ہے۔ حزب اللہ کی قیادت کے روحانی پیشوا ایران کے رہبر اعلی آیت اللہ خامنہ ای ہیں۔ خود حسن نصر اللہ قم کے تعلیم یافتہ ہیں۔ ان کی شخصیت کو عام طور پر آیت اللہ خمینی اور انقلابی رہنما چے گویرا کا امتزاج قرار دیا جاتا ہے۔

اسامہ بن لادن کی تنظیم القاعدہ سےحزب اللہ کی کبھی نہیں بنی اور نہ حزب اللہ نے القاعدہ کی حکمت عملی سے اتفاق کیا۔ گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کے حملوں کی حزب اللہ نے کھلم کھلا مذمت کی تھی-

امریکہ، برطانیہ، اسرائیل اور بیشتر مغربی ممالک حزب اللہ کو دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہیں لیکن پورے عالم اسلام اور عرب دنیا میں حزب اللہ کو مزاحمتی تحریک تصور کیا جاتا ہے۔ فلسطینی اسے اپنی جدو جہد آزادی میں سب سے بڑا اتحادی قرار دیتے ہیں اور دنیا بھر میں مزاحمتی تنظیمیں حزب اللہ کو سب سے بڑی مؤثر اور طاقت ور چھاپہ مار تنظیم تسلیم کرتی ہیں جس کی جڑیں عوام میں گڑی ہوئی ہیں۔

اسی بناء پر فوجی ماہرین یہ اعتراف کرتے ہیں کہ اگر موجودہ جنگ میں اسرائیل حزب اللہ کی فوجی قوت ختم کرنے میں کامیاب بھی ہوگیا تب بھی حزب اللہ ایک عوامی تحریک کی صورت میں عوام میں زندہ رہے گی اور ممکن ہے پھر منظم ہوکر ابھرے۔

 
 
حزب اللہ کے کارکنحزب اللہ کیا ہے؟
لبنان کی مزاحمتی تحریک اور اس کے مقاصد
 
 
فضائی یا زمینی حملے؟
لبنان میں زمینی آپریشن کی ضرورت کیوں؟
 
 
احتجاج، اشتعال
اسرائیلی حملے: تباہی ہی تباہی
 
 
ٹینکغلط فہمی کس کی؟
لبنان میں لڑائی خطرناک موڑ پر پہنچ گئی
 
 
اسی بارے میں
لبنان کی کمزور آرمی
23 July, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد