BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Saturday, 23 September, 2006, 07:47 GMT 12:47 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
عراق: خواتین سمیت 44 ہلاک
 
(فائل فوٹو)
عراق میں گزشتہ کئی ماہ سے پرتشدد کاروائیوں میں اضافہ ہوا ہے (فائل فوٹو)
عراق میں سنیچر کے روز بم دھماکے سمیت تشدد کے مختلف واقعات میں کم از چوالیس لوگ ہلاک ہو گئے ہیں۔

عراق میں پولیس حکام کا کہنا ہے کہ بغداد میں ایک کیروسین ٹینکر کے قریب ایک کار بم دھماکے میں 35 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس کے علاوہ تکرت شہر سے نو سر بریدہ لاشیں ملی ہیں۔

بم دھماکہ شیعہ اکثریتی علاقے صدر سٹی میں ہوا ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ مرنے والوں میں اکثریت خواتین کی ہے جو ماہ رمضان میں کھانا پکانے کے لیئے تیل لینے وہاں کھڑی تھیں۔ عراق کی سنی آبادی نے ماہ رمضان کے آغاز کے موقع پر پہلا روزہ رکھا ہے۔

دھماکے میں بیس افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ عراقی پولیس کے سعد عبدالصداء نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ انہیں اس ماہ کے دوران تشدد کے واقعات میں اضافے کے اشارے ملے ہیں۔ عراق میں شیعہ پہلا روزہ اتوار سے رکھیں گے۔

اقوام متحدہ نے عراق میں بڑھتی ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور اس کے مطابق جولائی میں مختلف حادثات میں تین ہزار چھ سو شہری ہلاک ہوئے ہیں جبکہ اسی سال اگست میں پر تشدد کارروائیوں میں اب تک تین ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

حادثے کے مقام پر لوگوں نے زخمیوں کو ایمبولینس تک پہنچانے کے لیئے کمبل استعمال کیے جہاں سے ان زخمیوں کو الصدر جنرل ہسپتال لے جایا گیا۔

ایک عینی شاہد کا کہنا تھا کہ ان افراد کا کیا قصور تھا؟۔ یہ غریب افراد گھروں میں جلانے کے لیئے ایندھن لینے وہاں کھڑے تھے۔ مرنے والوں میں خواتین اور بچے ہی ہیں۔

ابھی تک کسی گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے تاہم بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ِاسے ایک اور فرقہ وارانہ حملہ قرار دیا جا سکتا ہے اور اس علاقے میں شیعہ اور سنی فرقوں کے درمیان تصادم کی وجہ سے پرتشدد واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

دریں اثناء عراقی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے سنی مزاحمتی تنظيم انصار السنہ کے ایک اہم رہنما کو گرفتار کیا ہے۔

عراق کے وزیراعظم کے دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی اور اتحادی فوج نے تنظيم انصار السنہ کے ایک اہم رہنما منتصر حمود عليوي الجبوري کو گرفتار کیا ہے۔ انہیں ان کے دو ساتھیوں سمیت بغداد کے شمال مشرقی علاقے المقداديہ سے رات کو مارے گئے ایک چھاپے کے دوران حراست میں لیا گیا۔

 
 
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد