BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Saturday, 30 September, 2006, 10:35 GMT 15:35 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
’بش نےعراقی مزاحمت کوچُھپایا‘
 

 
 
بوب وُڈورڈ
مزاحمت کار جانتے تھے کہ ان کی کارروائیاں کس قدر مؤثر ہیں: بوب وڈورڈ
ممتاز امریکی صحافی بوب وُڈورڈ نے دعوٰی کیا ہے کہ بُش انتظامیہ عراق میں مزاحمت کاروں کی کارروائیوں کی صحیح صورتحال خفیہ رکھ رہی ہے۔ یہ دعوٰی انہوں نے اپنی نئی کتاب (State of Denial) میں کیا ہے جو کہ پیر کو منظرعام پر آ رہی ہے۔

بوب وڈورڈ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ وائٹ ہاؤس میں پالیسی سازوں تک سب سے زیادہ رسائی رکھنے والے صحافی ہیں۔

کتاب کے مارکیٹ میں آنےسے پہلے ایک تعارفی انٹریو میں انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ صدر جارج بُش کو مشورے دینے والوں میں امریکہ کے سابق وزیرخارجہ ہنری کیسنجر بھی شامل ہیں۔

بوب وڈورڈ کی نئی تصنیف ان کی گزشتہ کتابوں کے سلسلے کی ہی کڑی ہے جن میں قارئین کو بتایا گیا تھا کہ وائٹ ہاؤس کے پالیسی سازوں میں کس نے کیا کہا تھا، تاہم ان کتابوں میں انہوں نے جارج بُش پر زیادہ تنقید نہیں کی تھی۔یہاں تک کہ بُش کے حامی تجویز کرتے رہے ہیں کہ بُش کو بہتر جاننے کے لیئے لوگوں کو بوب وڈورڈ کی کتابیں پڑھنی چاہئیں۔

لیکن لگتا ہے کہ بوب کی نئی کتاب پہلے کی نسبت خاصی تہلکہ خیز ہوگی کیونکہ اس میں اگر کچھ اور ہو نہ ہو مصنف کا یہ دعوٰی کہ بُش انتظامیہ عراق میں جاری مزاحمت کی اصل نوعیت کو لوگوں سے چھپا رہی ہے، انتظامیہ کی سیاسی ساکھ کے لیئے خاصی نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

’ (ہر پالیسی بحث کے) کچھ پرائیوٹ پہلو ہوتے ہیں اور کچھ وہ جو لوگوں تک پہنچتے ہیں، لیکن ہوتا یہ کہ جو حصہ پرائیویٹ ہوتا ہے اس پر ’خفیہ‘ کی مہر لگا دی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ یہ حصہ ہر کسی سے مخفی رہنا چاہیئے۔‘

بوب وڈورڈ کا کہنا ہے کہ عراق میں مزاحمت کار جانتے تھے کہ ان کی کارروائیاں کس قدر مؤثر ہیں لیکن یہ بات امریکی عوام سے چھپائی گئی ہے۔

بوب وڈورڈ کے اس بیان کے جواب میں وائٹ ہاؤس نے کہا کہ ان کی کتاب بچوں کے کھانے والے لچھے (کینڈی فلوس) کی طرح ہے جو دیکھنے میں تو جاندار لگتے ہیں ہے لیکن ہاتھ لگانے پر پگھل جاتے ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ عراق میں ہونے والی ہلاکتوں کے بارے میں امریکہ میں تمام لوگ جانتے ہیں۔

یہ تنقید اپنی جگہ لیکن بوب کی کتاب خوب بِکے گی کیونکہ یہ بات واضح ہے کہ اس میں تفصیلی معلومات کا ایک خزانہ ہے اور وائٹ ہاؤس بھی کتاب میں کیئے گئے دعوؤں کو مکمل رد نہیں کر رہا۔

بوب وڈورڈ کتاب میں کہتے ہیں کہ اس وقت ان کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا جب نائب صدر ڈک چینی نے انہیں بتایا کہ مشہور سابق وزیرخارجہ ہنری کسنجر کی خدمات، جو ویتنام کی جنگ کے دوران صدر نکسن اور صدر فورڈ کے ساتھ تھے، صدر بُش کو بھی حاصل ہیں۔ بوب وڈورڈ کہتے ہیں ’ ہنری کسنجر واپس آ چکے ہیں، بلکہ حقیقت یہ ہے ان کی حیثیت صدر بش کے گھرانے کے فرد جیسی ہو گئی ہے۔ اگر وہ شہر میں ہوں تو وہ صدر بُش کو کال کر سکتے ہیں اور اگر صدر بُش فارغ ہیں تو وہ انہیں بُلا لیں گے۔‘

بوب وڈورڈ کے مطابق عراق کے بارے میں کسنجر کا پیغام تھا کہ امریکہ کی فتح ہی وہاں سے امریکہ کی واپسی کی واحد بامعنی حمکت عملی ہو سکتی ہے۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے بوب کہتے ہیں ’ہے ناں زبردست، ہنری کسنجر دوبارہ ویتنام کی جنگ لڑتے ہوئے!‘

پیر کو بازار میں آنے والی کتاب کے بارے میں توقع یہی ہے کہ یہ ’بیسٹ سیلر‘ ہو گی۔

 
 
اسی بارے میں
بش کی موت دکھانے پر تنازعہ
01 September, 2006 | فن فنکار
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد