BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Sunday, 15 October, 2006, 13:45 GMT 18:45 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
عراق: 15 عراقی 5 امریکی ہلاک
 
عراق
کار بم اور سڑک کنارے نصب بم عراق میں معمول بن چکے ہیں۔
عراق کے شمالی شہر کرکوک میں سلسلہ کار بم دھماکوں میں کم سے کم آٹھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ بظاہر ان میں تین بموں کا نشانہ پولیس تھی جبکہ چوتھا بم دھماکہ اساتذہ کے ایک تربیتی مرکز کے قریب ہوا۔

سنیچر کے روز بغداد اور فلوجہ میں پانچ امریکی فوجی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

اس سے قبل بغداد میں وزارت داخلہ کے سینیئر افسر کے قافلے کو بھی دو بموں کا نشانہ بنایا گیا جس میں سات افراد ہلاک ہو گئے۔

گزشتہ ہفتے کے دوران بغداد سے دو سو پچاس کلومیٹر دور واقع شہر کرکوک میں، جہاں مختلف فرقوں کے لوگ رہتے ہیں، عراقی اور امریکی فوجیں ایک بڑی کارروائی میں مصروف رہی ہیں۔

پولیس کے مطابق سنیچر کو ہونے والے دھماکے پانچ پانچ منٹ کے وقفہ سے ہوئے اور ان میں سے دو خود کش دھماکے تھے۔

ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ ان دھماکوں میں کرکوک کے دو اعلٰی اہلکار، شہر کی پولیس اورایمرجنسی پولیس کے سربراہان، زخمی ہوئے جبکہ ان کے کچھ محافظ ہلاک ہو گئے۔

شہر میں ہونے والے تیسرے دھماکے میں گشتی پولیس کی گاڑی کو سڑک کے کنارے نصب بم کا نشانہ بنایا گیا۔ چوتھا دھماکہ ایک کالج کے قریب ہوا لیکن رائٹرز کے مطابق پولیس کا خیال ہے کہ اس بم کا نشانہ بھی قریب واقع عراقی سکیورٹی کا ہیڈ کوارٹر تھا۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے ہلاک ہونے والوں کی تعداد کے بارے میں یقین سے نہیں کہا جا سکتا کیونکہ کچھ اطلاعات میں ان کی تعداد گیارہ بھی بتائی جا رہی ہے۔

بغداد میں اتوار کے روز ہونے والے دھماکے میں پانچ راہگیروں کے علاوہ دو سکیورٹی اہلکار اس وقت ہلاک ہوئے جب وزارت داخلہ میں مالی امور کی سربرا حالہ شاکر سالم کی گاڑیوں کا قافلہ شہر کے مشرقی علاقے مثتنصریہ سے گزر رہا تھا۔حالہ شاکر سالم دھماکے میں زخمی ہوئی ہیں۔

ریکارڈ فوجی ہلاکتیں
 بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ان ہلاکتوں کے بعد اس ماہ کے دوران عراق میں مارے جانے والے فوجیوں کی تعداد تقریباً پچاس ہو گئی ہے جو جنوری دو ہزار پانچ سے اب تک کسی ایک ماہ میں ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔
 

سنیچر اور اتوار کے دنوں میں بغداد کے مغربی شہر بلد میں بھی فرقہ وارانہ پرتشدد کارروائیوں کے واقعات ہوئے۔ شہر میں بیس سے زیادہ سنی افراد کے ہلاک ہو جانے کے بعد وہاں کرفیو نافذ کر دیا گیا تھا۔ ان ہلاکتوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ شیعہ فرقہ کے سترہ افراد کے سر قلم کرنے کے جواب میں ہوئی ہیں۔

ہلاکتوں کی ان خبروں سے علیحدہ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ سنیچر کے روز پانچ امریکی فوجی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ ان میں چار بغداد میں دو واقعات میں ہلاک ہوئے جبکہ پانچواں فلوجہ میں مارا گیا۔

بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ان ہلاکتوں کے بعد اس ماہ کے دوران عراق میں مارے جانے والے فوجیوں کی تعداد تقریباً پچاس ہو گئی ہے جو جنوری دو ہزار پانچ سے اب تک کسی ایک ماہ میں ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

عراق میں سنیچر اور اتوار کے روز ہونے والے واقعات سے محسوس ہوتا ہے کہ ماہ رمضان میں جاری پرشدد کارروائیوں میں ایک نئی تیزی آ گئی ہے۔

 
 
اسی بارے میں
655000 عراقی ہلاک ہوئے: سروے
11 October, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد