BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Saturday, 21 October, 2006, 02:53 GMT 07:53 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
حکمتِ عملی بدل سکتی ہے: بش
 
امارہ میں مہدی ملیشیا اور محارب گروہ میں جھڑپ میں اکتیس افراد ہلاک ہوئے
صدر جارج بش نے کہا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ وہ عراق میں فوجی حکمتِ عملی کی تبدیلی کی منظوری دے دیں لیکن اس کے باوجود بھی، امریکہ کی مجموعی پالیسی میں کوئی فرق نہیں آئے گا۔

صدر بش ہفتے کو فوج کے سینئر جرنیلوں سے وڈیو کانفرنس کرنے والے ہیں جس میں اس بات پر غور کیا جائے گا کہ عراق میں حالیہ دنوں میں تشدد کی جو لہر آئی ہے اسے کس طرح کم کیا جا سکتا ہے۔ اس بات پر بھی غور ہوگا کہ آیا عراق میں فوجی حکمتِ عملی بدلی جائے یا نہیں۔

ادھر عراق کے وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ امارہ شہر میں دفاعی حکمتِ عملی میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ عراقی شہروں کا کنٹرول عراق فوج کے ہاتھوں میں دینا بہت اہم مسئلہ ہے جس پر غور کی ضرورت ہے۔

امارہ میں امریکہ کے مخالف شیعہ رہنما مقتدی الصدر کی مہدی ملیشیا نے امارہ شہر پر بڑا حملہ کیا ہے جس میں اکتیس افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ ملیشیا اپنی ایک حریف شیعہ جماعت کے ساتھ ساتھ مقامی پولیس سے بھی برسرِ پیکار ہوئی ہے۔

لیکن امریکی وزیرِ دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ کا کہنا ہے کہ یہ امریکہ پالیسی کا حصہ ہے کہ آہستہ آہستہ بین الاقوامی فوج عراق کے شہروں کا کنٹرول عراقی حکام کے حوالے کر دے۔

دریں اثناء رائے عامہ کے نئے جائزوں کے مطابق دو تہائی امریکیوں کا خیال ہے کہ صدر بش کی عراق پالیسی ناکام ہوگئی ہے۔ رائے عامہ کی اس تبدیلی کا براہِ راست اثر اگلے ماہ امریکہ میں درمیانی مدت کے انتخابات پر پڑ سکتا ہے اور حکمراں ریپیبلیکن پارٹی کو نقصان ہو سکتا ہے۔

اکتوبر کے مہینے میں ہی تہتر امریکی فوجی ہلاک ہوئے ہیں

واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار نے بتایا ہے کہ صدر بش کے پاس تین ہفتے سے بھی کم وقت رہ گیا ہے جس میں انہیں امریکی قوم کو بتانا ہوگا کہ وہ جو کر رہے ہیں وہ درست پالیسی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو ان کی صدارت کا اثر کم تر ہو جائے گا۔

ادھر عراق کے شعیہ و سنی علماء اور رہنماؤں نے ملک میں فرقہ وارانہ تشدد کے خاتمے کے لئے سعودی عرب کے شہر مکہ میں ایک معاہدے پر دستخط کئے ہیں۔معاہدے کا اہتمام اسلامی ممالک کی تنظیم نے کیا تھا۔

گزشتہ روز امریکی فوج نے کہا تھا کہ بغداد میں تشدد کے خاتمے کے لئے سکیورٹی کا جو منصوبہ تیار کیا گیا تھا وہ توقع کے برعکس ناکام ہوگیا ہے اور اب اس پر نظرِ ثانی کی جا رہی ہے۔

فوجی ترجمان میجر جنرل ولیئم کالڈویل نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ گزشتہ ماہ کے خاتمے کے بعد سے بغداد میں تشدد کے واقعات میں ’بائیس فیصد حوصلہ شکن‘ اضافہ ہوا ہے۔

صدر جارج بش نے کہا تھا کہ تشدد میں اضافے کے باعث امریکی فوج اور عوام کے حالات کا موازنہ ویت نام کی صورتِ حال سے کیا جا سکتا ہے۔

تاہم انہوں نے اس بات سے انکار کیا کہ عراقی اور امریکی فوجیوں کی بڑھتی ہوئی ہلاکتوں کا مطلب یہ ہے کہ عراق میں امریکی امن کوششیں ناکام ہو رہی ہیں۔

صدر بش سینئر جرنلیوں سے وڈیو کانفرنس کے ذریعے بات چیت کریں گے

بغداد میں سکیورٹی کا آپریشن جون میں شروع ہوا تھا جس میں عراق اور امریکی فوج نے ملک کر تشدد کو روکنا تھا۔ اس مقصد کے لئے بغداد میں ہزاروں کی تعداد میں اضافی فوجی تعینات کیئے گئے تھے۔

اس کارروائی کا مقصد پہلے بغداد اور بعد میں پورے ملک میں عراقی حکومت کی اتھارٹی کو قائم کرنا تھا تاکہ آہستہ آہستہ امریکی فوج کا انخلاء ممکن ہو سکے۔

 
 
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد