BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Friday, 10 November, 2006, 19:29 GMT 00:29 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
عراق میں ہلاکتیں 100000: وزیر
 
عراق میں تشدد کا سلسلہ رکتا نہیں دکھائی دیتا
عراق کے وزیر صحت کا کہنا ہے کہ وہاں جاری تشدد میں ایک لاکھ سے ڈیڑھ لاکھ کے درمیان سویلین مارے گئے ہیں۔

یہ تعداد ہسپتالوں اور مردہ خانوں میں لائے جانے والی لاشوں کی گنتی کے اندازوں پر مبنی ہے۔

عراق میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد کے بارے میں سرکاری سطح پر کوئی اعداد و شمار نہیں تیار نہیں کیے جاتے۔

عراقی وزارت صحت ان لوگوں کے زیراثر ہے جو امریکہ مخالف ایک ریڈیکل شیعہ رہنما کے حامی سمجھے جاتے ہیں۔

وزیر صحت علی الشماری نے کہا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں اندازہ اس بات پر مبنی ہے کہ لگ بھگ سو لاشیں روزانہ ہسپتالوں اور مردہ خانوں میں لائی جاتی ہیں۔

گزشتہ اکتوبر برطانوی طبی جریدے دی لانسیٹ نے ایک مطالعے میں کہا تھا کہ عراق میں اب تک چھ لاکھ پچپن ہزار افراد مارے گئے ہیں۔

اس سے کچھ قبل غیرسرکاری تنظیم ’عراق باڈی کاؤنٹ‘ نے ایک مطالعے کے بعد کہا تھا کہ ہلاکتوں کی تعداد پچاس ہزار ہے۔

جمعرات کے روز بغداد کے مرکزی مردہ خانے کے سربراہ نے کہا تھا کہ تشدد میں ہلاک ہونے والوں کی لگ بھگ ساٹھ لاشیں انہیں روزانہ موصول ہورہی ہیں۔

 
 
امریکی اہلکار کا بیان
عراق امریکی ’تکبر اور بیوقوفی‘ کا ثبوت
 
 
دعراق پینٹاگون کا انکشاف
عراق میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی تعداد
 
 
مردہ خانے کم پڑ گئے
بغداد کے مردہ خانوں میں لاشوں کی تعداد بڑھ گئی
 
 
اسی بارے میں
655000 عراقی ہلاک ہوئے: سروے
11 October, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد