BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Tuesday, 14 November, 2006, 09:52 GMT 14:52 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
عراق: اغواء شدہ ملازمین رہا
 
تعلیمی ادارے اور سکیورٹی فورسز مزاحمت کارروں کا خاص نشانہ ہیں
بغداد میں منگل کی صبح وزارتِ تعلیم کی عمارت سے اغواء کیئے جانے والے افراد کو رہا کر دیا گیا ہے۔

ابتدا میں حکام نے وزارتِ تعلیم سے اغواء ہونے والوں کی تعداد سو بتائی تھی لیکن بعد میں کہا گیا کہ چالیس افراد کو اغواء کیا گیا ہے۔

عراقی وزارتِ داخلہ کے ایک ترجمان کے مطابق اغواء شدہ ملازمین کی رہائی، فوری پولیس کارروائی کی وجہ سے ممکن ہوئی ہے۔

کارروائی کے دوران عراقی حکام نے پولیس کے پانچ مقامی کمانڈروں کو بھی شاملِ تفتیش کر لیا تھا۔

تفصیلات کے بغداد میں فوجی طرز کی وردیوں میں ملبوس مسلح افراد نے وزارتِ تعلیم کے ایک تحقیقاتی ادارے سے بہت سے ملازمین کو اغواء کر لیا تھا۔

وزارت کے ترجمان نے بتایا تھا کہ نئی پک اپ گاڑیوں میں سوار مسلح افراد بغداد کے مرکزی حصے میں واقع ریسرچ ڈائریکٹریٹ میں گھس گئے۔

انہوں نے خواتین کو ایک کمرے میں جمع ہونے کا حکم دیا جبکہ مرد ملازمین کو اپنے قبضے میں کر لیا جن میں ادارے میں کام کرنے والے ملازمین، گارڈ اور ملاقاتی بھی شامل تھے۔ عراق میں تحقیقاتی اور تعلیمی ادارے مزاحمت کارروں کا خاص نشانہ ہیں۔

نامہ نگار کا کہنا ہے کہ عراق میں بہت سے افراد کا خیال ہے کہ اغواء کی ان وارداتوں کے پیچھے شیعہ مسلمانوں پر مشتمل سکیورٹی فورسز کے اراکین کاہاتھ ہے۔

پارلیمان کی تعلیمی کمیٹی کے سربراہ علاء مکی کا کہنا ہے کہ اغواء ہونے والے ملازمین میں شیعہ اور سنی دونوں افراد شامل ہیں۔

انہوں نے وزیراعظم اور وزراتِ داخلہ اور دفاع سے درخواست کی ہے کہ اس ’ناگہانی آفت‘ کے سدِ باب کے لیئے فوری اقدامات کیئے جائیں۔

عینی شاہدین نے بتایا تھا کہ مسلح افراد نے کرادہ ضلع میں واقع ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے اطراف کی سڑکوں کو بند کردیا تھا اور مغویوں کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں لگا کر انہیں اپنے ساتھ لے گئے تھے۔

عراق میں گزشتہ چند ماہ میں تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے

تعلیم کے وزیر کا کہنا ہے کہ سکیورٹی کی صورت حال میں بہتری آنے تک بغداد کی یونیورسٹیوں میں تعلیمی عمل بند رہے گا۔

اغواء کے وقت عمارت میں داخل ہونے والے ایک ملازم نے بتایا کہ مسلح افراد نے کار پارکنگ میں مرد سٹاف کو قطار میں کھڑا کیا ہوا تھا اور ان کے شناختی کارڈز چیک کر رہے تھے۔

ان کا کہنا تھا ’انہوں نے ان سب افراد کو پک اپ میں سوار کیا۔ اسی وقت میں نے دیکھا کہ گشت پر مامور پولیس کی دو گاڑیاں یہ سب دیکھ رہی تھیں مگر انہوں نے کچھ نہیں کیا‘۔

عینی شاہدین نے خبررساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ انہوں نے صرف سنی ملازمین کو اغواء کیا ہے۔ اغواء ہونے والوں میں چائے لانے والا بھی شامل ہے۔

عراق میں اعلیٰ تعلیم کے وزیر کا تعلق سنی عرب سیاسی بلاک سے ہے۔ ملک کی زیادہ تر وزراتوں پر فرقہ وارانہ سیاسی گروہوں کا قبضہ ہے۔

 
 
عراق باڈی کاؤنٹ
عراق میں ہلاکتیں 100000: وزیر
 
 
جسمانی تشددتشدد میں اضافہ
’عراق میں جسمانی تشدد صدام دور سے زیادہ ہے‘
 
 
عراق میں خونریزی
ہلاکتیں، مزاحمت: اعداد و شمار کے آئینے میں
 
 
بوب وُڈورڈ مزاحمت کوخفیہ رکھا
بش انتظامیہ کی عراق پالیسی کوخفیہ رکھا گیا
 
 
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد