BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Tuesday, 21 November, 2006, 08:24 GMT 13:24 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
عراق، شام تعلقات بحال کرنے کا فیصلہ
 
شام کے وزیر خارجہ ولید المعلم نے دو ہزار تین کے بعد عراق کا پہلا دورہ کیا
عراق اور شام نے بیس سال کے بعد سفارتی تعلقات بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کا اعلان بغداد میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے کیا۔

عراق کے وزیرِ خارجہ ہوشیار زبیری کے شامی ہم منصب ولید معلم جو اتوار سے بغداد میں ہیں، عراق پر امریکی یلغار کے بعد شام کی طرف سے عراق آنے والے پہلے اعلیٰ سطحی عہدیدار ہیں

دنوں ملکوں کے درمیان صدام حسین کے اقتدار میں انیس سو بیاسی میں منقطع ہوگئے تھے۔

ادھر عراق میں استحکام کے لیے ایران اور شام کو شامل کرنے کی کوشش بظاہر رو بہ عمل ہوتی نظر آ رہی ہے اور عراق کے صدر جلال طالبانی ایران کے صدر محمود احمدی نژاد کی دعوت پر ان سے بات چیت کے لیے ہفتے کے روز ایران جائیں گے اور متوقع طور پر اس بات چیت کا محور عراق کی سلامتی کی صورتحال ہوگی۔

اطلاعات ہیں کہ ممکنہ طور پر شام کے صدر بشار الاسد بھی اس بت چیتمیں شامل ہوں گے تاہم ابھی اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

ادھر شام کے وزیر خارجہ ولید المعلم نے دو ہزار تین کے بعد اپنے پہلے دورۂ عراق میں وزیر اعظم نور المالکی اور صدر طالبانی اور دیگر سیاستدانوں سے بات چیت کی ہے۔

دریں اثنا انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کی طرف سے صدام حسین کے مقدمے کو غیر منصفانہ قرار دیے جانے کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی منصفانہ تھی اور صدام حسین کو اپنے دفاع کا مکمل حق تھا جبکہ عدالت کی کارروائی تمام دنیا نے دیکھی۔

 
 
اسی بارے میں
احمدی نژاد شام کے دورے پر
19 January, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد