BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Thursday, 30 November, 2006, 09:15 GMT 14:15 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
’سات ماہ میں اپنی حفاظت کرلیں گے‘
 
 صدر بش اور نوری المالکی
صدر بش اور نوری المالکی ملاقات سے قبل امریکی میمو اخباروں کے ہاتھ لگ گیا جس میں عراقی وزیرِ اعظم پر شکوک کا اظہار کیا گیا ہے
امریکی صدر جارج بش سےملاقات کے بعد عراقی وزیر اعظم نوری المالکی نے کہا ہے کہ عراقی فوج اور پولیس جون 2007 تک ملک میں سکیورٹی کی ذمہ داری سنبھالنے کے قابل ہوں گی۔

امریکی نشریاتی ادارے اے بی سی کو دیئے گئے انٹرویو میں عراقی وزیر اعظم نے کہا امریکی افواج عراق میں ’مشن کی کامیابی‘ تک وہاں موجود رہیں گی لیکن جون 2007 تک عراقی سکیورٹی فورسز ملکی انتظام سنبھالنے کے قابل ہو جائیں گی۔

اردن میں ملاقات کے بعد امریکی صدر بش اور عراقی صدر نوری المالکی نے عراق کو تین خود مختار حصوں یا ’زونز‘ میں تقسیم کرنے کی تجاویز کو رد کر دیا تھا۔

امریکی خبررساں ادارے اے پی کے مطابق دونوں رہمناؤں نے جمعرات کی صبح اردن میں ملاقات کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس کی جس میں صدر بش نے کہا کہ وہ اور نوری المالکی اس بات پر متفق ہیں کہ عراق کو تقسیم نہیں کیا جانا چاہیے۔

صدر بش نے کہا کہ ان سے ملاقات کے دوران عراقی وزیراعظم نوری المالکی نے واضح کیا کہ عراق کو تقسیم کرنے کی جو تجاویز دی جا رہی ہیں عراقی عوام ان سے اتفاق نہیں کرتے۔

صدر بش نے کہا کہ عراقی وزیر اعظم نے اس خدشہ کا اظہار بھی کیا کہ عراق کی تقسیم سے فرقہ وارانہ تشدد میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔

صدر بش اور نوری المالکی کے درمیان یہ ملاقات جس کے عراق میں شیعہ رہنما مقتدالصدر کے حامی مخالف تھے، دو گھنٹے تک جاری رہی۔

نوری المالکی نے پریس کانفرس میں بظاہر شام اور ایران کو عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ ہر اس ملک اور خصوصاً عراق کے ہمسایہ ملکوں کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہیں جو عراقی حکومت کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔

صدر بش اور وزیر اعظم نوری المالکی نے عراق کی سیکورٹی کی ذمہ داریاں عراقی عوام کے حوالے کرنے کے عمل کو تیز تر کرنے کی ضرورت پر بھی اتفاق کیا۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان جمعرات کی صبح ہونے والی یہ ملاقات بدھ کی رات کوہونی تھی لیکن پہلے سے طے شدہ یہ ملاقات التواء کا شکار ہوگئی تھی۔

پریس کانفرنس میں صدر بش نے نور المالکی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک مضبوط شخصیت کے مالک جو عراق کو ایک جمہوری اور خودمختار ملک کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں۔

امریکی صدر اور عراقی وزیرِ اعظم دونوں اردن میں ہیں اور انہوں نے عراق کے مسئلے پر اردن کے شاہ عبداللہ کے ساتھ بھی تبادلۂ خیال کیا ہے۔

صدر بش اور نوری المالکی کے درمیان بدھ کی ملاقات کے ملتوی ہونے سے قبل یہ خبریں آئیں تھیں کہ عراق میں مقتدیٰ الصدر کے حامی سیاسی گروپ نے اس میٹنگ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے حکومت سے اشتراک معطل کر دیا ہے۔
صدر بش سے ملاقات کے مخالف گروپ میں تین کے قریب ارکان پارلیمان اور چند وزراء شامل ہیں۔

پریس کانفرنس کے دوران صدر بش کو عراق سے امریکی فوج کے انخلا کے بارے میں کئی سوالوں کا سامنا کرنا پڑا۔ صدر بش نے ان سوالوں پر کہا کہ امریکی فوج اس وقت تک عراق میں رہے گی جب تک ان کا ’کام مکمل نہیں ہو جاتا۔‘

صدر بش نے ایک مرتبہ پھر اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ عراق کو القاعدہ کے لیے محفوظ پناہ گاہ نہیں بننیں دیں گے۔

نورالمالکی نے عراق میں موجود مزاحمت کاروں کی حزب اللہ کے ہاتھوں تربیت کی خبروں کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ نے ان خبروں کی تردید کر دی ہے۔

 
 
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد