BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Saturday, 02 December, 2006, 15:16 GMT 20:16 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
لگاتار تین کار بم حملے، 50 ہلاک
 
ایک عینی شاہد نے بتایا کہ دھماکے ایک سبزی کی مارکیٹ میں ہوئے
عراقی پولیس کے مطابق دارالحکومت بغداد کے مرکز میں یکے بعد دیگرے تین کار بم حملوں میں کم از کم پچاس عراقی مارے گئے ہیں۔

شہر کے مصروف بازار میں ان تین لگاتار دھماکوں کے نتیجے میں 80 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

شیعہ اکثریتی علاقے الصدریہ میں یہ بم 100 میٹر کے فاصلے پر نصب کیے گئے تھے اور تقریباً ایک ہی وقت پر پھٹے۔

ایک عینی شاہد نے بتایا کہ دھماکے ایک سبزی کی مارکیٹ میں ہوئے جہاں اس وقت زیادہ تر خواتین خریدار موجود تھیں۔ ’دھماکے بعد وہاں لاشیں ہی لاشیں بکھر گئیں‘۔

یہ پر تشدد کارروائیاں ایسے وقت پر ہوئی ہیں جب بعقوبہ میں امریکی اور عراقی افواج نے ایک آپریشن کے دوران 30 سے زائد مشتبہ افراد کو گرفتار کیا ہے۔

دریں اثناء ایک با اثر شیعہ لیڈر عبدالعزیز الحکیم نے، جن کی جلد ہی صدر بش سے ملاقات متوقع ہے، عراق کے مسئلے پر انٹرنیشنل کانفرنس بلانے کی تجویز کو رد کر دیا ہے۔

عبدالعزیز الحکیم عراق میں اسلامک ریوولوشن کی سپریم کونسل کے رہنما ہیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان کی اس تجویز کو ’غیر معقول، غلط اور غیر قانونی‘ قرار دیا ہے۔

لاشیں ہی لاشیں
 دھماکے ایک سبزی کی مارکیٹ میں ہوئے جہاں اس وقت زیادہ تر خواتین خریدار موجود تھیں۔ دھماکے بعد وہاں لاشیں ہی لاشیں بکھر گئیں۔
 
عینی شاہد

دو ہی روز پہلے صدر بش نے عراقی وزیر اعظم نوری المالکی سے ملاقات کی ہے اور فرقہ واریت پر قابو پانے کے لیے مذاکرات کیے ہیں۔

دیگر واقعات میں بغداد کے یرموک ہسپتال کے نزدیک ایک شخص کی فائرنگ کی زد میں آکر نو افراد ہلاک ہوگئے۔

بغداد میں بس کے انتظار میں کھڑے لوگوں پر ایک ٹرک نے چڑھائی کر دی جس کے نتیجے میں بیس لوگ ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔ پولیس اس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔

کوفی عنان کی تجویز کے مطابق عراق سے باہر ایک بین الاقوامی کانفرنس بلائی جائے جس میں عراق کی تمام سیاسی جماعتوں کو دعوت دی جائے تا کہ سب مل کر عراق کی بگڑی صورت حال کے لیے حل تلاش کر سکیں۔

لیکن عبدالعزیز الحکیم کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کا حل گھر میں ہی تلاش کیا جائے۔

پیر کو عبدالعزیز کی صدر بش سے ملاقات متوقع ہے جس میں عراق کی صورت حال پر قابو پانے کے لیے غور کیا جائے گا۔

امریکی فوجی بیان کے مطابق بعقوبہ پر یہ چھاپہ شہر کو محفوظ بنانے کی ایک کوشش ہے۔ بعقوبہ شہر میں سنی اور شیعہ دونوں مسلک کے لوگ آباد ہیں اور یہاں عراقی فوجیوں کے خلاف سنی مزاحمت کار اکثر حملے کرتے رہتے ہیں۔

 
 
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد