BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت:
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
ہولوکاسٹ سے منکر مؤرخ رہا
 
ڈیوڈ ارونگ
ڈیوڈ ارونگ نے کہا ہے کہ انہوں نے ہولوکاسٹ پر اپنی سوچ بدل لی ہے
آسٹریا کی ایک عدالت نے یہودیوں کی نسل کشی یا ہولوکاسٹ سے انکار کرنے والے برطانوی مؤرخ ڈیوڈ ارونگ کو پروبیشن پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے برطانوی مؤرخ کو رہا کرنے اور ان کی تین سال کی سزا کو بڑھانے جیسے دلائل سنے۔

اڑسٹھ سالہ ارونگ کو فروری میں جیل بھیج دیا گیا تھا اور ان کے مقدمے پر پوری دنیا میں بحث ہوئی کہ آیا آزادی اظہار کی کوئی حد بھی ہے۔

انیس انانوے میں انہوں نے آسٹریا میں کہا تھا کہ آشوچ میں گیس چیمبرز نہیں تھے۔ تاہم بعد میں انہوں نے کہا کہ ان سے غلطی ہوئی تھی۔

ویانا میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ان کی تین سال کی سزا کو ایک سال کر دیا گیا ہے اور دو سال کی سزا معطل کر دی گئی ہے۔

ابھی تک پروبیشن کی شرائط معلوم نہیں ہوئی ہیں یعنی کہ ارونگ آسٹریا چھوڑ کر کہیں جا سکتے ہیں کہ نہیں۔

تاہم ان کے وکیل ہربیرٹ شیلر کا کہنا ہے کہ ’وہ آزاد ہیں اور وہ جا سکتے ہیں اور وہ جائیں گے‘۔

ارونگ کی سزا کے خلاف استغاثہ اور صفائی کے وکلاء نے اپیلیں کی ہیں۔ دونوں کا موقف ہے کہ سزا غلط ہے۔ اسغاثہ زیادہ سزا کا مطالبہ کرتا رہا ہے جب کے ارونگ کے وکلاء اس میں کمی چاہتے ہیں۔ یہ قانون 1992 میں بنا تھا اور اس کے تحت ہولوکاسٹ سے انکار کرنے کی سزا عمومی طور پر دس سال قید ہے۔

ارونگ کو کو گزشتہ سال نومبر میں جنوبی آسٹریا سے گرفتار کیا گیا تھا۔ اس وقت وہ دائیں بازو کے طالبِ علموں کے ایک گروہ کو لیکچر دینے جا رہے تھے۔

 
 
اسی بارے میں
ہولوکاسٹ کے منکر کی اپیل
20 February, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد