BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Sunday, 24 December, 2006, 15:44 GMT 20:44 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
صومالیہ، ایتھوپیا میں جنگ جاری
 
صومالیہ
ایتھوپیا صومالیہ کی حکومت کی عسکری مدد کر رہا ہے (فائل فوٹو)
ایتھوپیا نے تصدیق کی ہے کہ اس کے فوجی صومالیہ میں اسلامی انتہا پسندوں کے خلاف کارروائی میں مصروف ہیں جنہوں نے ملک کے بڑے حصے کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

ایتھوپیا کے وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ انتہا پسند تنظیم اسلامک کورٹس یونین یا یو آئی سی کے خلاف اپنی حفاظت کے لیے ان کی فوج نے کارروائی کا آغاز کیا تھا۔ اس سے قبل ایتھوپیا نے کہا تھا کہ اس نے صومالیہ میں صرف فوجی ٹرینرز بھیجے ہیں۔

عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ لڑائی کے دوبارہ آغاز کے پانچویں دن ایتھوپیا کے فوجی سرحد کے قریب بلیڈویانے نامی قصبے پر یو آئی سی کے اراکین پر بمباری کر رہے ہیں۔

شیخ حسن ڈیرو نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ اللہ کے دشمن ان کے شہریوں پر بم برسا رہے ہیں۔ اس علاقے کے رہائشی ایک شخص نے بتایا کہ وہ اپنے سروں پر بم برساتے جہازوں کو دیکھ رہے ہیں اور میدان میں گھمسان کی لڑائی ہو رہی ہے۔

یو آئی سی کے رہنما شیخ شریف (فائل فوٹو)

یو آئی سی نے ایتھوپیا کی فوج کو صومالیہ سے نکالنے کا اعلان کیا ہے جو اس کے مطابق کئی ماہ سے حکومتی فوج کے ساتھ مل کر اس کے خلاف کارروائی میں مصروف ہے۔ اسلامک گروپ نے سنیچرکو ایتھوپیا کے خلاف مذہبی جنگ میں غیر ملکی جنگجوؤں سے ساتھ دینے کی ایپل کی تھی۔ دارالحکومت مگادیشو سمیت ملک کے جنوبی علاقوں کا بڑا حصہ یو آئی سی کے کنٹرول میں ہے۔

اس سے قبل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے صومالیہ میں اسلامی انتہا پسندوں اور عبوری حکومت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر ’گہری تشویش‘ کا اظہار کرتے ہوئے فریقین پر زور دیا تھا کہ وہ امن مزاکرات کا دوبارہ آغاز کریں۔ سلامتی کونسل نے صومالیہ کی عبوری حکومت اور اور اسلامی شدت پسندوں پر زور دیا کہ وہ کوئی بھی انتہائی قدم اٹھانے سے گریز کریں۔

ریڈ کراس کے مطابق ان جھڑپوں میں اب تک درجنوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس سے قبل ایتھوپیا نے کبھی بھی اس بات کا اقرار نہیں کیا ہے کہ اس نے اپنی فوج ایتھوپیا بھیجی ہے۔

اقوام متحدہ کے ایک اندازے کے مطابق اس وقت صومالیہ میں ایتھوپیا کے آٹھ ہزار فوجی موجود ہیں جبکہ خیال کیا جا رہا ہے کہ مخالف ملک اریتریئن اسلامی گروہ کی مدد کے لیے دو ہزار فوجی بھیجے گا۔ تاہم اریتریئن کے صدر نے صومالیہ میں فوج بھیجنے کی تردید کی ہے۔

 
 
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد