BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Thursday, 14 February, 2008, 08:47 GMT 13:47 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
’مغنیہ مطلوب ترین، تیز ترین اور شاطر دہشتگرد‘
 

 
 
جہاز کا اغوا
مغنیہ نہایت تیز اور شاطر دہشت گرد تھے: امریکی اہلکار
عماد فائز مغنیہ کئی دہائیوں سے امریکی جاسوس اور سپیشل فورسز کے جال میں نہیں آ رہے تھے۔ وہ دنیا کے مختلف ملکوں میں دہشت گردی کی وارداتوں میں امریکہ اور انٹرپول کو مطلوب تھے۔

کچھ امریکی حکام انہیں ’نامعلوم دہشت گرد‘ کہتے ہیں کیونکہ ان کے نہایت قریبی ساتھیوں کے علاوہ کسی نے انہیں نہیں دیکھا تھا۔

بیس نہایت مطلوب افراد کی تصاویر میں امریکی ایف بی آئی کے پاس مغنیہ کی تصویر بیس سال پرانی ہے اور کہا جاتا ہے کہ سرجری کے ذریعے انہوں نے اپنے چہرے کو بالکل تبدیل کر لیا تھا۔

اسامہ بن لادن سے پہلے امریکہ کے لیے مغنیہ دنیا کے مطلوب ترین انسان تھے۔

ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ سنہ انیس سو تراسی کے لبنان میں امریکی بیرکوں پر خودکش حملے کا منصوبہ مغنیہ نے بنایا تھا۔ اس کے علاوہ اسی کی دہائی میں امریکی سفارتخانے پر دو حملے اور امریکیوں کے اغوا کے پیچھے بھی انہیں کا ہاتھ بتایا گیا تھا۔

انیس سو پچاسی میں ٹی ڈبلیو ای کے جہاز کا اغوا بھی مغنیہ کی منصوبہ بندی تھی۔

مغنیہ کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ انیس سو بانوے میں اسرائیلی سفاتخانے پر بم حملے کے پیچھے بھی انہی کا ہاتھ تھا جس میں انتیس افراد ہلاک ہوئے تھے۔

مغنیہ کی ابتدائی زندگی کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ہیں سوائے اس کے کہ وہ انیس سو باسٹھ میں مشہور شیعہ خاندان میں پیدا ہوئے اور یاسر عرفات کے ساتھ کام کیا اور پھر اسلامک جہاد کے نام سے تنظیم قائم کی۔ وہ حزب اللہ کے رہنماء بھی رہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ مغنیہ جیسے تیز اور شاطر دہشت گرد انہوں نے نہیں دیکھا۔

 انیس سو باسٹھ میں مشہور شیعہ خاندان میں پیدا ہوئے اور یاسر عرفات کے ساتھ کام کیا اور پھر اسلامک جہاد کے نام سے تنظیم قائم کی۔ وہ حزب اللہ کے رہنماء بھی رہے۔
 

امریکی سی آئی اے کی سابق اہلکار کا کہنا ہے ’مغینہ ایک دروازے سے داخل ہوتا اور دوسرے سے نکلتا، روزانہ گاڑی تبدیل کرتا، فون پر کسی سے ملاقات کا وقت طے نہیں کرتا ۔۔۔ وہ ایک تیز اور شاطر دہشت گرد تھا۔‘

حزب اللہ کے ماہر ڈاکٹر میگنس کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے حزب اللہ ایک تنظیم کے طور پر ابھری اسی طرح مغنیہ پسِ پردہ جاتے رہے۔ ’ان کا ایک قدم حزب اللہ میں تھا اور دوسرا ایرانی انٹیلیجنس میں۔‘

انہوں نے کہا کہ مغنیہ نے حزب اللہ اور حماس کے درمیان مفاہمت میں ایک اہم کردار ادا کیا۔ اور ان کی موت حزب اللہ کے لیے ایک بہت بڑا نقصان ہے۔

 
 
حزب اللہ اسرائیل کا درد سر
حزب اللہ اور اسرائیل کا ایک تقابلی جائزہ
 
 
بمباری اور انخلاء
وویک راج نے لبنان میں کیا دیکھا؟
 
 
حزب اللہ: اگلا قدم ؟
آنے والے ہفتوں میں اہم ترین سوال یہی ہوگا
 
 
نصر اللہ حزب اللہ کی مقبولیت
عرب دنیا میں سنی شیعہ ہورہے ہیں؟
 
 
شیخ حسن نصراللہ حزب اللہ کا دعوٰی
نئے مشرقِ وسطیٰ کاامریکی منصوبہ ناکام
 
 
اسی بارے میں
آٹھ اسرائیلی فوجی ہلاک
13 July, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد