BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Tuesday, 16 December, 2008, 13:40 GMT 18:40 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
بش پر جوتے پھینکے والے پر’تشدد‘
 
عراق میں منتظرالزیدی کی رہائی کے لیے مظاہرے ہو رہے ہیں۔
بغداد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران صدر جارج بش پر جوتے پھینکے والے صحافی منتظرالزیدی کے بھائی نے بتایا ہے کہ منتظر کو قید کے دوران ’تشدد‘ کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

منتظر کے بڑے بھائی ضرغام زیدی نے بی بی سی کو بتایا کہ منتظر کو اتنا مارا گیا ہے کہ ان کا ایک ہاتھ اور کئی پسلیاں ٹوٹ گئی ہیں۔ منتظر کی ایک آنکھ پر بھی زخم ہے اور ان کو اندرونی زخم بھی آئے ہیں۔

عراقی فوج کے ایک ترجمان نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ منتظرالزیدی فوج کی تحویل میں ہیں۔ تاہم ترجمان نے منتظر کے بارے میں مزید تفصیل بتانے سے بھی گریز کیا۔

منتظر نے صدر جارج بش پر جوتے پھینکے کے علاوہ انہیں ’کتا‘ بھی کہا۔

بی بی سی نے عراق کے اعلی ترین سکیورٹی حکام سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن ان سے رابطہ نہیں ہو سکا۔

منتظر کی رہائی کے لیے عراق کے مختلف شہروں میں ہزاروں افراد نے مظاہرے بھی کیے ہیں اور ان کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

ضرغام زیدی نے بغداد میں بی بی سی کی نمائندہ کیرولین وائٹ کو بتایا کہ ان کی معلومات کے مطابق منتظر کو کسی امریکی فوجی ہسپتال میں منتقل کیا جا رہا ہے۔

ضرغام زیدی نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ بہت سے وکلاء نے منتظر کی وکلات کرنے کی پیش کش کی ہے مگر منتظر کو حراست میں لیے جانے کے بعد سے اب تک عراق کے قومی سلامتی کے مشیر موافق الرباعی کے زیر کمان سکیورٹی فورسز نےانہیں کسی وکیل سے رابط کرنے کی اجازت نہیں دی ہے۔

عراقی حکام نے کہا ہے کہ منتظر پر عراق کے قوانین کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا لیکن ابھی تک یہ واضح نہیں کہ ان کے خلاف کیا الزامات عائد کیئے جائیں گے۔

عراقی قانونی ماہرین کے مطابق منتظرالزیدی پر ایک غیر ملکی رہنما اور ان کے ساتھ کھڑے عراقی وزیر اعظم نوری المالکی کی تضحیک کرنے کے جرم میں مقدمہ چلایا جا سکتا ہے اور ان کو زیادہ سے زیادہ دو سال قید کی سزا سنائی جاسکتی ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق قاہرہ میں قائم البغدادیہ ٹی وی کے لیے کام کرنے والے غیر معروف صحافی منتظرالزیدی اب نہ صرف عراق میں بلکہ عرب دنیا میں بہت سے لوگوں کے ہیرو بن گئے ہیں۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ امریکہ کے انتہائی غیر مقبول صدر کو اس سے بہتر الوداع نہیں کہا جا سکتا تھا۔

منتظرالزیدی نے تین سال قبل ہی البغدایہ ٹی وی چینل میں ملازمت شروع کی تھی

منتظرالزیدی نے صدر بش پر پہلا جوتا پھینکتے ہوئے کہا کہ ’کتےعراق کے عوام کی طرف سے یہ الوادعی بوسہ ہے۔‘

ضرغام زیدی نے کہا کہ ان کے بھائی دانستاً عراق کے بنے ہوئے جوتے پہن کر گئے تھے جو بھورے رنگ کے تسموں والے جوتے تھے۔

صدر بش پر پھینکے جانے والے جوتے بغداد کے ایک مشہور بازار خیام سٹریٹ کی ایک دکان سے خریدے گئے تھے۔

تاہم تمام عراق عوام منتظرالزیدی کی اس حرکت سے متفق نہیں ہیں۔

بغداد میں صحافیوں کی تنظیم عراقی یونین آف جرنلسٹ کے صدر نے کہا کہ منتظرالزیدی نے غیر صحافیانہ اور عجیب حرکت کی۔ تاہم انہوں نے وزیر اعظم نوری المالکی سے رحمدلی سے کام لینے کی اپیل کی۔

معیض الامی نے امریکی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ اگر منتظر نے غلطی کی ہے حکومت اور عدلیہ کو وسیع القلبی کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور منتظر کو رہا کر دینا چاہیے کیونکہ وہ ابھی نوجوان ہیں اور ان کی فیملی ہے۔

انہیں نے امید ظاہر کی کہ یہ مسئلہ عدالت تک جانے سے پہلے ہی ختم کر دیا جائے گا۔

صدر بش پر پھینکے جانے والے جوتوں کو خریدنے کے عرب دنیا سے بہت سے لوگ دلچسپی کا اظہار کر رہے ہیں۔

عراقی اخبارات میں چھپنے والی اطلاعات کے مطابق عراقی فٹ بال ٹیم کے سابق کوچ عدنان حماد نے صدر بش پر مارے جانے والے جوتوں کو ایک لاکھ ڈالر میں خریدنے کی پیشکش کی ہے جبکہ ایک سعودی شہری نے ان جوتوں کی قیمت ایک کروڑ ڈالر لگائی ہے۔

منتظرالزیدی بغداد کے رہنے والے ہیں اور گزشتہ تین سال سے البغدادیہ ٹی وی چینل سے منسلک ہیں۔

البغدادیہ کے پروگرام ڈائریکٹر مظاہر الخلفی نے منتظر کو ایک کھلے ذہن کا شخص قرار دیا اور کہا کہ انہیں عرب ہونے پر فخر ہے۔

انہوں نے کہا کہ منتظرالزیدی نے بغداد یونیورسٹی سے کمیونیکیش میں ڈگری حاصل کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ منتظرالزیدی کا عراق کے سابق صدر صدام سے کوئی تعلق نہیں ہے اور صدام کے دورے میں ان کے خاندان کے افراد کو گرفتار بھی کیا گیا تھا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ منتظرالزیدی کو دو مرتبہ مزاحمت کار اغواء کر کے لے گئے تھے اور انہیں دو مرتبہ امریکی فوج نے بھی سوالات کرنے کے لیے بلایا تھا۔

انہوں نے کہا کہ منتظر کو یرغمال بنائے جانے کے دوران بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا اور اتنا مارا گیا تھا کہ وہ بے ہوش ہو گئے تھے۔

 
 
بش پر حملہ
جوتے پھینکے جانے پر پاکستانی صحافی کیا کہتے ہیں
 
 
گرٹروڈ بیل عراق کی ’آزادی‘
خاتون نے عراق میں یہ سب پہلے بھی دیکھا
 
 
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد