BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Wednesday, 17 December, 2008, 08:15 GMT 13:15 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
عراقی صحافی سے ناراض نہیں: بش
 
 عراقی صحافی
عراق میں منتظرالزیدی کی رہائی کے لیے مظاہرے ہو رہے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے کہا ہے کہ صدر جارج بش ان پر جوتا پھینکنے والے عراقی صحافی منتظر الزیدی سے ناراض نہیں ہیں۔

صدر بش کی ترجمان ڈانا پرینو نے کہا ہے کہ امریکی صدر کو عراق کے عدالتی نظام پر مکمل یقین ہے۔ صدر بش تو جوتے سے بچ گئے تھے لیکن ان کی ترجمان ڈانا پرینو جوتا کے پھینکے جانے کے بعد پیدا ہونےوالی بھگدڑ کے دوران آنکھ کے پاس خراشیں آئی تھی۔


منگل کو منتظر الزیدی کو ہائی جوڈیشل کونسل کے سامنے پیش کیاگیا۔ منتظر الزیدی کے بھائی نےالزام لگایا ہے کہ منتظر کو قید کے دوران ’تشدد‘ کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

عراق کی فوج نےان الزامات کی تردید کی ہے کہ منتظر الزیدی کو حراست میں تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

منتظر کے بڑے بھائی ضرغام زیدی نے بی بی سی کو بتایا کہ منتظر کو اتنا مارا گیا ہے کہ ان کا ایک ہاتھ اور کئی پسلیاں ٹوٹ گئی ہیں۔ منتظر کی ایک آنکھ پر بھی زخم ہے اور ان کو اندرونی زخم بھی آئے ہیں۔

عراقی حکام نے کہا ہے کہ منتظر پر عراق کے قوانین کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا لیکن ابھی تک یہ واضح نہیں کہ ان کے خلاف کیا الزامات عائد کیئے جائیں گے۔

عراقی قانونی ماہرین کے مطابق منتظرالزیدی پر ایک غیر ملکی رہنما اور ان کے ساتھ کھڑے عراقی وزیر اعظم نوری المالکی کی تضحیک کرنے کے جرم میں مقدمہ چلایا جا سکتا ہے اور ان کو زیادہ سے زیادہ دو سال قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق قاہرہ میں قائم البغدادیہ ٹی وی کے لیے کام کرنے والے غیر معروف صحافی منتظرالزیدی اب نہ صرف عراق میں بلکہ عرب دنیا میں بہت سے لوگوں کے ہیرو بن گئے ہیں۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ امریکہ کے انتہائی غیر مقبول صدر کو اس سے بہتر الوداع نہیں کہا جا سکتا تھا۔

منتظرالزیدی نے تین سال قبل ہی البغدایہ ٹی وی چینل میں ملازمت شروع کی تھی

منتظرالزیدی نے صدر بش پر پہلا جوتا پھینکتے ہوئے کہا کہ ’کتےعراق کے عوام کی طرف سے یہ الوادعی بوسہ ہے۔‘

ضرغام زیدی نے کہا کہ ان کے بھائی دانستاً عراق کے بنے ہوئے جوتے پہن کر گئے تھے جو بھورے رنگ کے تسموں والے جوتے تھے۔

صدر بش پر پھینکے جانے والے جوتے بغداد کے ایک مشہور بازار خیام سٹریٹ کی ایک دکان سے خریدے گئے تھے۔

تاہم تمام عراق عوام منتظرالزیدی کی اس حرکت سے متفق نہیں ہیں۔

 
 
بش پر حملہ
جوتے پھینکے جانے پر پاکستانی صحافی کیا کہتے ہیں
 
 
گرٹروڈ بیل عراق کی ’آزادی‘
خاتون نے عراق میں یہ سب پہلے بھی دیکھا
 
 
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد