BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Thursday, 18 December, 2008, 10:00 GMT 15:00 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
جوتے کے پیچھے کا ’عام عراقی صحافی‘
 
منتظر الزیدی
منتظر الزیدی کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ وہ اس نوعیت کا احتجاج کرنے کی منصوبہ بندی کافی عرصے سے کر رہے تھے
صدر بش پر جوتے پھینکنے والے عراقی صحافی منتظر الزیدی کے رشتہ داروں اور ساتھیوں کا کہنا ہے کہ وہ امریکی فوج کی عراق میں موجودگی سے بہت خفا تھے۔

گزشتہ اتوار کو بغداد میں ایک پریس کانفرنس میں صدر بش پر جوتے پھینکنے کے بعد منتظر الزیدی پورے مشرقِ وسطیٰ میں ایک مقبول شخصیت بن چکے ہیں۔



لیکن دونوں ہی اس بات پر متفق ہیں کہ ان کے جوتے پھینکنے والے احتجاج اور رپورٹر کے طور پر ان کے کام کے پیچھے امریکی فوج کا عراق پر حملہ اور اس کے نتیجے میں ہونے والا تشدد ہے جسے وہ ناانصافی سے تعبیر کرتے ہیں۔

منتظر الزیدی کے قریبی دوست احمد آلیٰ نے اسلام آن لائن ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ ’وہ ایک عام عراقی ہیں جنہیں اپنے قومی وقار پر فخر ہے اور جو ملک کی دل دہلا دینے والی صورتِ حال سے رنجیدہ ہیں۔‘

’وہ قابض امریکی فوجوں اور ان کی مدد کرنے والے عراقی حکام کے بہت خلاف ہیں۔‘

قاہرہ میں قائم سیٹلائٹ ٹیلی ویژن نیٹ ورک بغدادیہ کے رپورٹر ہیں جہاں انہوں نے سن دو ہزار پانچ میں بغداد یونیورسٹی سے صحافت میں ڈگری حاصل کرنے کے بعد ملازمت اختیار کی تھی۔

ان کے ساتھیوں اور رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ البغدادیہ کے لیے ان کی زیادہ تر خبریں ان عورتوں اور بچوں سے متعلق تھی جو سن دو ہزار تین میں امریکی حملے کے بعد شروع ہونے والے تشدد کا نشانہ بنے۔

ایک عام سے رپورٹر تھے جو مغربی بغداد میں واقع ایک کمرہ کے گھر میں رہتے تھے۔ سن دو ہزار سات میں ان کا نام پہلے دفعہ اس وقت منظر عام پر آیا جب انہیں بغداد میں رپورٹنگ کرتے ہوئے اغواء کر لیا گیا۔

منتظر الزیدی کا فلیٹ
منتظر الزیدی ایک عام سے رپورٹر تھے جو مغربی بغداد میں واقع ایک کمرہ کے گھر میں رہتے تھے
عراقی ٹی وی کی اپیلوں کے بعد انہیں بغیر کوئی گزند پہنچائے رہا کر دیا گیا۔ اس وقت منتظر الزیدی نے کہا تھا کہ انہیں معلوم نہیں ہے کہ انہیں کس نے اغواء کیا تھا۔ تاہم ان کے خاندان نے ان کے اغواء کا الزام القاعدہ پر لگایا تھا۔

ان کے بھائی کے مطابق امریکی فوج نے ان کو جنوری میں رات بھر کے لیے حراست میں رکھا تھا اور ان کے فلیٹ کی تلاشی لی تھی لیکن بعد میں انہیں ایک معذرت نامے کے ساتھ رہا کر دیا گیا تھا۔

ان کے بھائی کے مطابق ان دونوں واقعات نے عراق میں امریکی فوج کی موجودگی کے بارے میں ان کے غصے کو اور شدید کر دیا۔

ان کا کہنا ہے کہ شیعہ ہونے کے باوجود ان کے بھائی کو ایران کے شیعہ علماء کے عراقی سیاست اور معاشرے پر عمل دخل سے شدید نفرت تھی جس میں امریکی حملے کے بعد اضافہ ہوا تھا۔

منتظر الزیدی کے رشتہ داروں کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے صدر بش پر جوتھ پھینکنے کا فیصلہ موقع پر ہی کیا جبکہ ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ وہ اس نوعیت کا احتجاج کرنے کی منصوبہ بندی کافی عرصے سے کر رہے تھے۔

ان کے ایک ساتھی نے نیو یارک ٹائمز کو بتایا کہ ’مجھے یاد ہے کہ سن دو ہزار سات کے آخر میں اس نے مجھے بتایا تھا کہ دیکھنا میں کس طرح بش سے معصوم عراقی لوگوں کے خلاف ڈھائے جانے والے ان کے مظالم کا بدلہ اپنے انداز میں لیتا ہوں۔‘

ان کے ایک اور ساتھی نے بتایا کہ جب انہوں نے ہمیں بتایا کہ وہ ایسا کریں گے تو ہمیں کوئی شک نہیں تھا کہ ایسا نہیں ہوگا۔

 
 
بش پر حملہ
جوتے پھینکے جانے پر پاکستانی صحافی کیا کہتے ہیں
 
 
’جوتے برائے بش‘
وائٹ ہاؤس کے سامنے ’جوتا مظاہرے‘ کا اعلان
 
 
’کوئی ناراضگی نہیں‘
صدر بش عراقی صحافی سے ناراض نہیں: ترجمان
 
 
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد