BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Thursday, 18 December, 2008, 19:00 GMT 00:00 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
’منتظر نے معافی مانگ لی‘
 
     منتظر الزیدی
جرم ثابت ہونے پر %یدی کو پندرہ سال تک جیل کی سزا ہو سکتی ہے
عراقی وزارتِ عظمیٰ کے دفتر نے کہا ہے کہ صدر بش پر جوتا پھیکنے والے صحافی نے عراقی وزیراعظم سے معافی مانگ لی ہے۔

وزیراعظم کے ترجمان یٰسین مجید کے مطابق مقامی ٹی وی کے صحافی منتظر الزیدی نے وزیراعظم نوری المالکی کے نام ایک خط لکھا ہے، جس میں انہوں نے اپنی ’غلیظ حرکت‘ پر وزیراعظم سے معافی طلب کی ہے۔

مسٹر زیدی اتوار کو نیوز کانفرنس کے دوران صدر بش پر جوتا پھینکنے کے بعد سے حراست میں ہیں۔ ان کے اس اقدام نے انہیں عرب دنیا کے کچھ حصوں میں ہیرو بنا دیا ہے۔

عراقی حکام نے ان کے اس اقدام کو شرمناک قرار دیا ہے۔ مسٹر زیدی پر ’ایک صدر کے خلاف جارحیت‘ کا الزام عائد کیا گیا ہے اور جرم ثابت ہونے پر انہیں پندرہ سال تک جیل کی سزا ہو سکتی ہے۔

یٰسین مجیدی نے کہا کہ مسٹر زیدی نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ ’ہر چند کے میرا انتہائی غلیظ اقدام قابلِ معافی نہیں ہے لیکن مجھے یاد آتا ہے کہ جب دو ہزار پانچ کے موسمِ گرما میں میں نے عالی مرتبت کا انٹرویو کیا تھا تو آپ نے مجھ سے کہا ’یہ تمہارا ہی گھر ہے، آتے رہنا‘ اس لیے میں آپ کے پدری جذبات سے درخواست کرتا ہوں کہ مجھے معاف کر دیں‘۔

’یہ اطلاع مطلقاً غیر درست ہے
 ’یہ اطلاع مطلقاً غیر درست ہے۔ یہ جھوٹ ہے۔ منتظری میرا بھائی ہے اور میں اسے اچھی طرح جانتا ہوں۔ وہ معافی نہیں مانگ سکتا،مانگی بطی ہب گی تو دباؤ ہو گا
 
بھائی

تاہم خبر رساں ادارے رائٹر کے مطابق مسٹر زیدی کے ایک بھائی نے خط کے بارے میں بے یقینی کا اظہار کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’یہ اطلاع مطلقاً غیر درست ہے۔ یہ جھوٹ ہے۔ منتظری میرا بھائی ہے اور میں اسے اچھی طرح جانتا ہوں۔ وہ معافی نہیں مانگ سکتا‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’اور اگر انہوں نے معافی مانگی بھی ہے تو یہ ضرور کسی نے کسی دباؤ کا نتیجہ ہو گی‘۔

منتظر الزیدی کو حراست میں لیے جانے کے بعد ایک عدالت میں پیش کیا گیا ہے اور اس کے جج دھیا الکنعانی کا کہنا ہے کہ مسٹر زیدی کے جوتوں کو امریکی اور عراقی سکیورٹی ایجنٹوں اور دھماکہ خیز اشیا کے ماہرین نے تباہ کر دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں جوتوں کو ثبوت کے طور پر مقدمے کا حصہ بنانے کو ترجیح دیتا لیکن اب چونکہ مسٹر زیدی خود اس کا اعتراف کر چکے ہیں اور اس واقعے کی ٹیلی ویژن پر بھی دکھایا جا چکا ہے تو ان تفتیش جاری رکھی جا سکتی ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ عدالت سے مسٹر زیدی کی ضمانت پر رہائی کی درخواست کی گئی تھی لیکن یہ درخواست منظور نہیں کی گئی۔

 
 
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد