http://www.bbc.com/urdu/

Tuesday, 23 December, 2008, 03:37 GMT 08:37 PST

صحافی کا احتجاج، شو کمپنی کے مزے

ترکی کی جوتا ساز کمپنی بیدان کا کہنا ہے کہ اس ماہ کے اوائل میں بغداد میں امریکی صدر بش کو جوتے مارنے کے واقعہ کے بعد اس کا کاروبار چمک اٹھا ہے۔

کمپنی کا دعوٰی ہے کہ عراقی صحافی منتظر الزیدی نے اسی کے بنائے ہوئے جوتے پہنے ہوئے تھے۔ اور اب اسی برانڈ کی مقبولیت کے پیش نظر اس نے مزید ایک سو کاریگر بھرتی کیے ہیں اور جوتے کا نام بھی بدلنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ادھر عراقی حکام کا کہنا ہے کہ ایک غیر ملکی سربراہِ مملکت پر حملہ کرنے کے الزام میں مسٹر زیدی پر قائم مقدمے کی سماعت اکتیس دسمبر کو شروع ہوگی۔

ترکی کی کمپنی نے کہا ہے کہ صدر بش پر پھینکے جانے والے جوتے کی طرح کے جوتوں کے تین لاکھ آرڈر ملے چکے ہیں۔ یورپ اور اسلامی ممالک میں اس جوتے کی مانگ کے علاوہ امریکہ کی ایک کمپنی نے بھی اٹھارہ ہزار جوتوں کا آرڈر دیا ہے۔ انہوں نے کہا یورپ میں ایک کمپنی نے اس جوتے کو یورپ میں بیچنے کے لیے معاہدہ کرنے کی بھی پیشکش کی ہے۔

استبنول میں قائم بیدان شو کمپنی کے مالک رمضان بیدان نے کہا کہ اس جوتے کی طلب اتنے بڑے پیمانے پر ہے کہ ان کی کمپنی کو ایک سو اضافی کاریگر بھرتی پڑے ہیں۔ انہوں نے کہا یوں تو دنیا بھر سے آڈر ملے ہیں لیکن خاص طور پر یورپ، مشرق وسطیٰ اور جنوبی امریکہ میں ان کی بہت مانگ ہے جبکہ عراق میں اسکی مانگ میں چار گنا اضافہ ہوا ہے۔

اس جوتے کو پہلے ماڈل نمبر 271 کہا جاتا تھا لیکن اب اسے ’بش شوز‘ یا ’بائی بائی بش‘ کا نام دینے کے بارےمیں سوچا جا رہا ہے۔