BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Tuesday, 06 January, 2009, 02:12 GMT 07:12 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
’ہلاک شدگان میں پچیس فیصد بچے‘
 
فلسطینی بچہ
’ہلاک ہونے والوں میں پچیس فیصد عورتیں اور بچے ہیں جبکہ زخمیوں میں ان کی تعداد پینتالیس فیصد ہے‘
غزہ میں وسائل کی شدید کمی سے دوچار ہسپتالوں میں لائے جانے والے زخمیوں اور ہلاکشدگان کا رش لگا ہوا ہے جبکہ اسرائیلی فوج کی فلسطینی جنگجو تنظیموں کے خلاف کارروائی جاری ہے۔

اس دوران تین اسرائیلی فوجی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ اس طرح زمینی کارروائی کے بعد ہلاک ہونے والے اسرائیلیوں کی تعداد آٹھ ہو گئی جن میں چار فوجی تھے۔

فلسطینی طبی شعبے کے حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے غزہ میں زمینی کارروائی شروع ہونے کے بعد سے عام شہریوں اور بچوں سمیت کم سے کم نوے لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا ہلاک ہونے والے بچوں کی تعداد چھبیس ہے۔

غزہ کے لوگوں کے لیے صورتحال دن بدن خراب ہو رہی ہے۔ انہیں پانی، ایندھن، خوراک کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ اقوام متحدہ کے ایک اہلکار نے کہا کہ خوراک کی فوری ضرورت ہے اور لوگوں کو شدید بھوک کا سامنا ہے۔ غزہ کے لوگوں کے لیے صورتحال دن بدن خراب ہو رہی ہے۔ انہیں پانی، ایندھن، خوراک کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ اقوام متحدہ کے ایک اہلکار نے کہا کہ خوراک کی فوری ضرورت ہے اور لوگوں کو شدید بھوک کا سامنا ہے۔

غزہ شہر کے شمال کے نواحی علاقوں میں فریقین کے درمیان شدید چھڑپیں جاری ہیں۔ دریں اثناء لڑائی رکوانے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں لیکن اسرائیل نے فائربندی کا مطالبہ مسترد کر دیا ہے۔

’دو جنگجو ہلاک‘
 زیادہ تر مریض جو میں نے دیکھے عام شہری تھے۔ کئی سو لوگ جو میں نے دیکھے ہیں ان میں صرف دو جنگجو تھے
 
ڈاکٹر گلبرٹ
فرانس کے صدر نکولا سرکوزی نے جو خطے کے دورے پر ہیں غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی ممکن بنانے کے لیے لڑائی روکنے کی اپیل کی ہے۔

فلسطینی طبی شعبے کے ذرائع کے مطابق گزشتہ دس روز میں اسرائیلی حملہ شروع ہونے کے بعد سے پانچ سو سے زیادہ لوگ ہلاک اور تقریباً پچیس سو لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ ان اعداد و شمار کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

غزہ کے سب سے بڑے ہسپتال الشفاء میں کام کرنے والے دو غیرملکیوں میں سے ایک ناروے کے ڈاکٹر گلبرٹ نے کہا کہ پیر کو ہسپتال میں بڑی تعداد میں انتہائی زخمی حلات میں لوگ لائے گئے ہیں۔

انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ان میں سے بہت سے ایسے مریض ہیں جن کے اعضاء کٹنے ہیں، سر کی چوٹیں ہیں۔۔۔۔۔اور ظاہر ہے کہ کسی بھی ہسپتال کے لیے یہ ایک انتہائی مشکل صورتحال ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر طبی سامان کی فراہمی بحال نہ ہوئی تو مزید آپریشن کرنا مشکل ہو جائے گا۔

’لوگ طبی سامان کی کمی کی وجہ سے مر رہے ہیں۔ آپریشن کرنے والےتمام کمرے بھر چکے ہیں۔ کل تک ہم ایک کمرے میں دو مریضوں کے آپریشن کر رہے تھے۔’یہ مکمل بربادی ہے‘۔

اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ عام شہریوں کو نشانہ نہیں بنا رہا اور وہ حماس پر الزام لگاتا ہے کہ وہ گنجان آباد علاقوں میں کارروائی کر کے شہریوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

انسانی بحران
 غزہ کے لوگوں کے لیے صورتحال دن بدن خراب ہو رہی ہے۔ انہیں پانی، ایندھن، خوراک کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ اقوام متحدہ کے ایک اہلکار نے کہا کہ خوراک کی فوری ضرورت ہے اور لوگوں کو شدید بھوک کا سامنا ہے
 
ڈاکٹرگلبرٹ نے کہا کہ زیادہ تر مریض جو انہوں نے دیکھے عام شہری تھے۔ انہوں نے کہا کہ کئی سو لوگ جو انہوں نے دیکھے ہیں ان میں دو جنگجو تھے۔ انہوں کہا کہ ہلاک ہونے والوں میں پچیس فیصد عورتیں اور بچے ہیں جبکہ زخمیوں میں ان کی تعداد پینتالیس فیصد ہے۔

اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے پیر کو چالیس ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جن میں حماس کے رہنماؤں کے گھر اور ’سمگلنگ‘ کے لیے استعمال ہونے والی سرنگیں شامل ہیں۔

غزہ سے محدود معلومات حاصل ہو رہی ہیں کیونکہ اسرائیل نے غیر ملکی صحافیوں کے وہاں داخلے پر پابندی لگا رکھی ہے۔

حماس اور اسلامی جہاد کا کہنا ہے کہ ان کے جنگجو اسرائیلی فوجیوں کا مشین گنوں اور راکٹوں سے مقابلہ کر رہے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے کہا کہ حماس نے پیر کو بیس راکٹ اسرائیلی علاقوں میں فائر کیے۔

اسرائیلی وزیر دفاع ایہود براک نے کہا کہ حماس کو ’بڑا دھچکا‘ لگا ہے۔انہوں نے کہا کہ اسرائیلی کارروائی ابھی جاری رہے گی۔ انہوں نے اسرائیلی ارکان پارلیمان سے کہا کہ ہمارے مقاصد ابھی حاصل نہیں ہوئے ہیں۔

غزہ میں حماس کے ایک اعلیٰ رہنما محمود ظہر نے ٹیلی ویژن پر فلسطینیوں سے خطاب میں کہا کہ ’ہم اسرائیل کے خلاف کامیابی کی طرف بڑھ رہے ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلیوں نے فلسطینیوں کے بچوں کو مار کر اپنے بچوں کا قتل جائز کر دیا ہے‘۔

غزہ کے لوگوں کے لیے صورتحال دن بدن خراب ہو رہی ہے۔ انہیں پانی، ایندھن، خوراک کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ اقوام متحدہ کے ایک اہلکار نے کہا کہ خوراک کی فوری ضرورت ہے اور لوگوں کو شدید بھوک کا سامنا ہے۔

’دس لاکھ لوگ بجلی کے بغیر رہ رہے ہیں۔ ہسپتال جینریٹروں کی مدد سے چل رہے ہیں۔ یہ میری نظر میں انسانی بحران ہے‘۔

 
 
اسی بارے میں
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد