BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Friday, 09 January, 2009, 19:34 GMT 00:34 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
’میری بیوی، بیٹوں کی لاشیں گھر میں‘
 
غزہ میں اب تک ساڑھے سات سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں
وہ غزہ شہر میں القدس ہسپتال میں بیٹھی تھی، ان کی ماں، چھتیس سالہ فاطمہ شمعونی انہیں دلاسہ دے رہی تھی۔ وہ ان بچوں کی اور اپنی بھی کہانی سناتے ہوئے سسکیاں لیتی رہی۔

امدادی کارکنوں کے مطابق یہ بچے بدھ کے روز چار دنوں کے بعد اپنے مرحوم والد اور بیہوش ماں کے قریب ملے تھے۔ یہ لڑکے ان تیس افراد میں سے تھے جن کے بارے میں فلسطینی ہلال احمر نے کہا کہ اس نے انہیں زیتون سے برآمد کیا۔


عالمی تنظیم انٹرنیشنل کمیٹی فار ریڈ کراس (آئی سی آر سی) نے کہا کہ طبی عملے نے ’دہلا دینے والا منظر‘ دیکھا کہ خوراک اور پانی کی کمی کے باعث کمزور اور زخمی لوگ گھروں میں لاشوں کے بیچ میں بیٹھے تھے۔

سب مر چکے تھے
  میرے دو بیٹے، خاوند، انکل، آنٹی اور برادر نسبتی ہلاک ہو گئے ہیں۔میرا ایک زخمی بیٹا رینگ کر پڑوسیوں کے گھر پہنچنے میں کامیاب ہو گیا اور اس نے مقامی ریڈیو سٹیشن فون پر امداد طلب کی۔ لیکن مدد دیر سے پہنچی۔ سب مر چکے تھے۔میں تیسرے روز بیہوش ہو گئی تھی اور آنکھ کھلی تو اپنے آپ کو ہسپتال میں پایا
 
فاطمہ شمعونی
آئی سی آر سی نے کہا کہ ایک گھر میں چار بچے جو کمزروی کے مارے کھڑے ہونے سے بھی قاصر تھے اپنی ماؤں کے پاس بیٹھے تھے جو مر چکی تھیں۔

یہ واضح نہیں کہ احمد اور سمیع بھی اسی گھر میں تھے۔ کیونکہ عین ممکن ہے فاطمہ کو بھی ابتدائی طور پر مردہ سمجھا گیا ہو۔ لیکن وہ کہتی ہیں کہ وہ اور ان کے بچے ان لوگوں میں شامل تھے جنہیں لمبے انتظار کے بعد مدد ملی۔

آئی سی آر سی نے اسرائیلی فوج پر الزام لگایا کہ وہ زخمیوں کے انخلاء اور طبی امداد کے بارے میں بین الاقوامی قوانین کا پاس کرنے میں ناکام رہی ہے۔

اس نے کہا کہ وہ اسرائیل سے تین جنوری سے اس علاقے میں پہنچنے کے لیے محفوظ راستے کی درخواست کر رہے تھے لیکن اس میں چار روز لگ گئے۔

فاطمہ شمعونی کے خاندان کے احاطے میں کیا بیتی ابھی واضح نہیں۔ بچ جانے والے افراد نے بی بی سی کو بتایا اس خاندان کے پینسٹھ میں سے چھبیس لوگ اسرائیلی فوجی کارروائی میں ہلاک ہو گئے۔

ان کے بمباری اور پھر ان کے گھروں کے گھیراؤ کی تفصیل کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

فاطمہ نے، جنہیں سینے میں چوٹ میں لگی تھی، کہا کہ ان کے دو بیٹے، خاوند، انکل، آنٹی اور برادر نسبتی ہلاک ہو گئے ہیں۔ ’میرا ایک زخمی بیٹا رینگ کر پڑوسیوں کے گھر پہنچنے میں کامیاب ہو گیا اور اس نے مقامی ریڈیو سٹیشن فون پر امداد طلب کی۔ لیکن مدد دیر سے پہنچی۔ ’سب مر چکے تھے۔‘ انہوں نے کہا کہ میں تیسرے روز بیہوش ہو گئی تھی اور آنکھ کھلی تو اپنے آپ کو ہسپتال میں پایا۔

خون بہتا رہا
 ہم نے ان کو بچانے کی کوشش کی لیکن ہمارے پاس فرسٹ ایڈ کا سامان نہیں تھا۔ ہم کئی روز تک بھوکے پیاسے رہے۔ چار روز تک زخمیوں کا خون بہتا رہا۔ ایمبولنس والوں نے آ کر جن لوگوں کو بچا سکتے تھے بچایا
 
فارس شمعونی
اسی خاندان کے ایک اور انتالیس سالہ فرد ہسپتال کے فرش پر بیٹھ کر کافی پیتے ہوئے بتایا کہ ان کی اہلیہ اور پانچ بچے ہلاک ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا اگر طبی امداد وقت پر مل جاتی تو کچھ لوگ بچ سکتے تھے۔

’ ہم نے ان کو بچانے کی کوشش کی لیکن ہمارے پاس فرسٹ ایڈ کا سامان نہیں تھا۔ ہم کئی روز تک بھوکے پیاسے رہے۔ چار روز تک زخمیوں کا خون بہتا رہا۔ انہوں نے کہا کہ ایمبولنس والوں نے آ کر جن لوگوں کو بچا سکتے تھے بچایا۔
’میری بیوی، میرے بیٹوں، عم زادوں کی لاشوں کے ٹکڑے اب بھی گھر میں بکھرے ہوئے ہیں‘۔

آئی سی آر سی نے کہا کہ زخمیوں کو ایک کلومیٹر تک ریڑھیوں پر ڈال کر لایا گیا جنہیں لوگ دھکیل رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے کھڑی کی گئیں بڑی بڑی دیواروں کی موجودگی میں ایمبولنسوں کا علاقے میں داخلہ ناممکن تھا۔

یروشلم میں آئی سی آر سی کی سربراہ کیٹرینا رِٹز نے کہا کہ تجربہ کار فلسطینی امدادی کارکنوں کی آنکھیں بھی موقع پر پہنچ کر بھیگ گئی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیلی فوجی مذکورہ گھر سے ایک سو میٹر کے فاصلہ پر تھے اور آئی سی آر سی سمجھتی ہے کہ ان فوجیوں کو امدادی اداروں کی درخواستوں کے بعد یہ ’معلوم تھا‘ کہ یہاں زخمی موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت اگر زخمیوں کے انخلاء میں سکیورٹی کے اعتبار سے کچھ تحفظات بھی ہوں پھر بھی کم سے کم ایسے لوگوں کو طبی امداد، کھانا پانی فراہم کرنا چاہیے اور انہیں محفوظ رکھنا چاہیے۔

اسرائیلی فوج نے کہا کہ وہ اس واقع کی تفتیش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ حماس کے ساتھ جنگ کی حالت میں ہے جو جان بوجھ کر فلسطینی شہریوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ لڑائی کے دوران عالمی امدادی اداروں کے ساتھ قریبی رابطہ رکھتی ہے تاکہ شہریوں کو امداد فراہم کی جا سکے۔

 
 
غزہ تیرہواں دن
غزہ،حملوں کا تیرہواں دن، تصاویر
 
 
باراک اوباما اوباما کی خاموشی
غزہ: لڑائی پر خاموشی ،افسوس کا اظہار
 
 
یو این یو این ڈائری
غزہ سفارتکاری میں آئندہ چوبیس گھنٹے اہم
 
 
حماس کی تباہی؟
حماس کی تباہی میں عربوں کی دلچسپی کیوں؟
 
 
غزہ حملوں کا بارہواں دن
غزہ پر حملوں کا بارہواں دن، تصاویر
 
 
اسی بارے میں
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد