BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Saturday, 10 January, 2009, 08:22 GMT 13:22 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
’اسرائیل چاہتا کیا ہے‘
 

 
 
غزہ
بظاہر جنگ ختم ہونے کے امکانات کم ہی ہیں

غزہ میں اسرائیلی فوجی آپریشن ’کاسٹ لیڈ‘ گزشتہ دو ہفتے سے جاری ہے تاہم اس عرصے میں کیا یہ واضح ہو سکا ہے کہ آخر اس کارروائی کے ذریعے اسرائیل کیا حاصل کرنا چاہتا ہے۔

گولہ باری کی مسلسل آوازوں کے بیچ اسرائیلی حکام اور وزراء بیان پر بیان جاری کررہے ہیں جن میں کئی امکانات کی طرف اشارہ کیا جارہا ہے۔

وزیر دفاع ایہود براک کا کہنا تھا ’اس آپریشن کا بنیادی مقصد دنیا کے اس حصے میں سکیورٹی سے متعلق حقائق کو تبدیل کرنا ہے‘۔

بظاہر اس بیان کا یہ مطلب ہے کہ اسرائیلی شہریوں کو غزہ کی پٹی سے فائر کیے جانے والے راکٹوں سے محفوظ رکھا جائے۔ اور اگر یہ راکٹ اب بھی فائر کیے جارہے ہیں تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ اسرائیل اب بھی اپنے مقصد پر قائم ہے۔

تاہم اسرائیلی اخبارات میں اسرائیلی کابینہ کے اپنے اندر پائے جانے والے اختلافات کی خبریں ہیں۔ ایہود براک محدود فوجی آپریشن کے حق میں ہیں جبکہ اسرائیلی وزیر خارجہ زپی لیونی کا خیال ہے کہ اس آپریشن کے ذریعے بڑے مقاصد حاصل کیے جائیں۔

جمعرات کے ہاٹز اخبار کی ایک سرخی کچھ یوں تھی ’غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوجی آپریشن روکنے کے مسئلے پر وزیر اعظم اور وزیر خارجہ کے درمیان شدید اختلافات‘۔

اسی روزنامے کے ایک کالم نویس اری شاوت لکھتے ہیں ’براک کا خیال ہے کہ کچھ عناصر اس حقیقت سے نظریں چرا رہے ہیں کہ حماس کو اقتدار سے ہٹانے سے غزہ پر قبضہ ممکن ہے‘۔

ابھی تک اسرائیلی حکام نے یہ عندیہ نہیں دیا ہے کہ وہ ان علاقوں پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں جنہیں اسرائیل نے تقریباً تین برس پہلے خالی کیا تھا۔

تاہم دسمبر کے اواخر میں ایہوں اولمرٹ کے نائب ہائم رامون نے بھی ’حماس کو حکومت سے الگ‘ کرنے کی بات کی تھی۔ لندن میں اسرائیلی سفیر ران پروسر نے بی بی سی کو بتایا تھا ’حماس کی غیر موجودگی میں ہمیں دونوں جانب کے ان افراد تک رسائی حاصل ہو سکے کی جو آگے بڑھنا چاہتے ہیں‘۔

زیادہ تر اسرائیلی حماس کو ہٹانے کے حق میں ہیں تاہم اسرائیلی عوام میں بھی غزہ میں کیے جانے والے زمینی آپریشن کے بارے میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔

اسرائیلی قومی سلامتی کونسل کے سابق سربراہ میجر جنرل ازی دیان کا کہنا تھا کہ ’اسرائیلی آپریشن کا مقصد غزہ کی پٹی کا گھیراؤ اور حماس حکومت کا خاتمہ ہونا چاہیئے‘۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ حماس کے بعد فلسطین میں حکومت کون بنائے گا تو ان کا جواب تھا کہ ’یہ میرا مسئلہ نہیں ہے۔ وہاں کی موجودہ حکومت کی نسبت میں وہاں سیاسی خلاء ہونے کو ترجیح دوں گا‘۔

غزہ کے اندر اسرائیلی آپریشن طول پکڑتا جارہا ہے اور تنازعے کو ختم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں ناکام ہوتی نظر آرہی ہیں۔ ان حالات میں کچھ حلقے یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ آخر اسرائیل کا مقصد کیا ہے اور کیا وہ خود یہ جانتا ہے کہ وہ کس سمت میں جارہا ہے۔

لندن کے ایک تھنک ٹینک ’چیٹم ہاؤس‘ کے ایک ایسوسی ایٹ فیلو یوسی میکل برگ کا کہنا ہے ’مجھے ایسے کوئی شواہد نظر نہیں آتے کہ یہ آپریشن مناسب طور پر سوچ سمجھ کر شروع کیا گیا ہو۔ اور اگر حماس کے بعد وہاں سیاسی خلاء پیدا ہوگیا تو یہ بھی ممکن ہے کہ حماس سے بھی زیادہ شدت پسند عناصر سامنے آئیں۔‘

ان کا یہ بھی خیال ہے کہ اسرائیل میں ایک ماہ بعد ہونے والے انتخابات شاید اس آپریشن کے لیے چنے گئے وقت اور ’ضرورت سے زیادہ‘ اقدامات کی وجوہات واضح کرسکیں۔

یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ انتخابات سے کچھ عرصہ قبل اسرائیل نے جنگ مسلط کی ہو۔

1996 میں شمون پیریز نے لبنان کے خلاف ’گریپس آف ریتھ‘ نامی آپریشن کیا تھا۔ جس کے بعد انہیں انتخابات میں ناکامی ہوئی۔

اس دفعہ رائے عامہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ کے باعث وزیر خارجہ زپی لیونی اور ان کے سیاسی مخالف لکود کے بنیامین ناتنیاہو کے درمیان فرق کم ہواہے۔

تاہم گولہ باری اب بھی جاری ہے اور بظاہر جنگ ختم ہونے کے امکانات کم ہی ہیں۔

 
 
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد