BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Sunday, 11 January, 2009, 02:58 GMT 07:58 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
غزہ:’فاسفورس بموں کا استعمال‘
 
غزہ
غزہ کے کئی علاقوں پر اسرائیل نے شدید فضائی اور زمینی حملے کیے ہیں
غزہ سے آنے والی اطلاعات کے مطابق اسرائیل نے علاقے پر ٹینکوں سے شدید بمباری اور فضائی حملے کیے ہیں۔ ان حملوں میں کم از کم دس فلسطینی ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔

اسرائیل نے رات بھر میں غزہ پر ساٹھ فضائی حملے کیے ہیں اور اسرائیلی کابینہ حملوں میں شدت لانے پرغور کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔

فلسطینی طبی عملے کا کہنا ہے کہ خان یونس شہر کے مشرق میں واقع خوزہ کے علاقے میں اسرائیلی فوج نے فاسفورس (گندھک) کے بم پھینکے ہیں جن میں کم از کم پچاس افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ واضح رہے کہ بین الاقوامی قانون کے مطابق عام شہریوں کے خلاف گندھک کے بم استعمال کرنے پر پابندی ہے۔

اسرائیلی فوج کی ایک ترجمان نے گندھک کے بموں کے استعمال کی خبروں کی دو ٹوک تردید کی ہے اور کہا ہے کہ اسرائیل غزہ میں جو کچھ بھی استعمال کر رہا ہے وہ قانون کے مطابق ہے۔

حماس کے مطالبات
خالد مشعل
 ہمارا مطالبہ ہے کہ سب سے پہلے جنگ بندی ہو کیونکہ نہ تو یہ برابر کی جنگ ہے نہ ہی فائرنگ کا تبادلہ۔ دوئم تمام دشمن فوج فوراً غزہ سے نکل جائے۔سوئم غزہ کی ناکہ بندی ختم کی جائے کیونکہ یہی چیز ایک سال سے زیادہ عرصے سے پورے خطے کی دھماکہ خیز صورت حال کے پیچھے ہے اور چہارم کہ سب سے پہلے رفاہ اور پھر غزہ کو جانے والے تمام راستے کھولے جائیں
 
حماس کے رہنما خالد مشعل

اسرائیلی ذرائع کے مطابق حماس کے شدت پسندوں نے اسرائیلی علاقوں پر تیس راکٹ پھینکے ہیں جن میں ایشکیلون کے علاقے میں ایک اسرائیلی زخمی ہوا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے اسرائیلی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ انہوں نے اب تک 550 شدت پسند ہلاک کر دیے ہیں جبکہ اسرائیل تیرہ افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں سے زیادہ تر فوجی ہیں۔

سولہ دن کی مسلسل بمباری کے بعد جس میں پونے 300 بچوں سمیت 820 سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہو گئے ہیں اسرائیل نے غزہ پر پرچیاں گرائی ہیں اور لوگوں کو فون کیے ہیں جن میں غزہ کے لوگوں کو فوجی کارروائی مزید تیز کرنے کی دھمکی دی گئی ہے جن کے بعد یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ اسرائیل اس لڑائی میں نئے حربے اختیار کرنے والا ہے۔

غزہ پر فضا سے پھینکی جانے والی پرچیوں اور فون کے ذریعے دیئے جانے والے پیغاموں میں عربی زبان استعمال کی گئی اور غزہ کے لوگوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ حماس کی عمارتوں کے قریب نہ جائیں۔

ہفتے کو اسرائیل نے ایک درجن سے زائد حماس سے متعلق عمارتوں کو نشانہ بنایا جن میں مبینہ طور پر راکٹ داغنے کے اڈے، ہتھیاروں کے ذخیرے اور سمگلنگ کی سرنگیں شامل تھی۔

دریں اثناء فلسطینی تنظیم حماس کے شام میں جلاوطن رہنما خالد مشعل نے کہا ہے کہ مقبوضہ غزہ پر حملہ کر کے اسرائیل نے گفتگو اور تصفیے کے تمام امکانات ختم کردیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب بھی فلسطینیوں نے گفتگو سے معاملات طے کرنے کی کوشش کی، انہیں صرف اور صرف تلخی ہاتھ آئی۔

خالد مشعل کے بقول اگر اسرائیل فوجی کارروائی روک دے اور غزہ کا محاصرہ ختم کر دے تو ہی جنگ بندی ہوسکتی ہے۔

انہوں نے کہا: ’ہمارا مطالبہ ہے کہ سب سے پہلے جنگ بندی ہو کیونکہ نہ تو یہ برابر کی جنگ ہے نہ ہی فائرنگ کا تبادلہ۔ دوئم تمام دشمن فوج فوراً غزہ سے نکل جائے۔سوئم غزہ کی ناکہ بندی ختم کی جائے کیونکہ یہی چیز ایک سال سے زیادہ عرصے سے پورے خطے کی دھماکہ خیز صورت حال کے پیچھے ہے اور چہارم کہ سب سے پہلے رفاہ اور پھر غزہ کو جانے والے تمام راستے کھولے جائیں۔‘

فلسطینی خواتین
غزہ کی پٹی کے شمال میں واقع جبلیہ کیمپ پر اسرائیلی حملے کے بعد پریشان فلسطینی عورتیں

قاہرہ میں جنگ بندی کے مذاکرات میں غزہ کی سرحد پر ایک غیرملکی فورس کی تعیناتی کی بھی تجویز ہے اور فلسطینی صدر بھی اس کے حامی ہیں۔ لیکن خالد مشعل نے ایسی کسی بھی فورس کی تعیناتی کو مسترد کر دیا ہے۔

’ہم کوئی عالمی فورس قبول نہیں کریں گے کیونکہ یہ عالمی فورس اسرائیلی سلامتی کو تحفظ دینے آئے گی اور وہ مزاحمت میں رکاوٹیں پیدا کرے گی۔ اگر ایسی کوئی بھی عالمی فورس ہم پر تھوپنے کی کوشش ہوئی تو ہم اسے قابض فوج کے طور پر دیکھیں گے۔‘

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ تیسرے مرحلے میں اسرائیل کی فوج غزہ میں آبادی والے علاقوں اور مہاجرین کیمپوں میں داخل ہونے کا سوچ رہی ہے جس میں شہریوں اور اسرائیل فوج کے جانی نقصان کا خطرہ بڑھ جائے گا۔

فلسطینی طبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ہفتے کو تشدد کے بدترین واقعہ میں آٹھ افراد جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ عام شہری تھے اسرائیل فوج کے ایک ٹینک کا شیل لگنے سے ہلاک ہو گئے۔

غزہ میں بی بی سی کے نامہ نگار حمزا ابو قمر نے اطلاع دی ہے کہ ریڈ کراس کے کارکنوں نے تیرہ خواتین اور بچوں کو غزہ کے شمالی علاقوں سے نکالا ہے جب کہ اسرائیل فوج نے انہیں وہاں سے لاشیں اُٹھانے سے روک دیا۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے ہفتے کو ستر سے زیادہ فضائی، زمینی اور بحری حملے کیے۔

ایک اسرائیل فوجی ترجمان نے کہا کہ ہلاک ہونے والوں میں حماس کے ایک سینیئر اہلکار امیر منسی بھی شامل ہیں جو کہ اسرائیل پر راکٹ حملوں میں ملوث رہے ہیں۔

اب تک چار ہزار کے قریب فلسطینی زخمی ہو چکے ہیں

 
 
’لاشوں کے ٹکڑے‘
’میری بیوی، بیٹوں کی لاشیں گھر میں ہیں‘
 
 
قرارداد کا متن
غزہ فائربندی، سکیورٹی کونسل کی قرارداد
 
 
تباہی ہی تباہی
ایسے مناظر کے دل دہل جائے: ریڈ کراس
 
 
غزہ تیرہواں دن
غزہ،حملوں کا تیرہواں دن، تصاویر
 
 
حماس کی تباہی؟
حماس کی تباہی میں عربوں کی دلچسپی کیوں؟
 
 
غزہ اسرائیل کیا چاہتا ہے؟
حماس سے چھٹکارا یا انتخابات کی تیاری
 
 
اسرائیل چاہتا کیا ہے؟
فوجی کارروائی کے پیچھے اسرائیلی مقاصد کیا ہیں
 
 
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد