BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Monday, 12 January, 2009, 01:04 GMT 06:04 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
نو سو کے قریب ہلاکتیں، ریزرو فوج بھی میدان میں
 
غزہ
غزہ میں ہلاک ہونے والوں میں بچوں کی ایک بڑی تعداد شامل ہے

غزہ میں اسرائیلی کارروائی سترہویں دن میں داخل ہو گئی ہے اور اسرائیلی حکام نے پہلی مرتبہ بتایا ہے کہ غزہ میں جاری کارروائی میں اس کے ریزرو فوجی بھی حصہ لے رہے ہیں۔

ادھر اتوار اور پیر کی درمیانی شب اسرائیلی طیاروں اور توپخانے نے بارہ مرتبہ غزہ کو نشانہ بنایا جس کے بعد ہلاک شدگان کی کل تعداد نو سو کے قریب پہنچ گئی ہے۔

یروشلم میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کے ترجمان کیپٹن گائے سپگل مین نے کہا کہ اسرائیلی ریزرو فوجی باقاعدہ فوج کے شانہ بشانہ جنگ میں حصہ لے رہے ہیں۔

تاہم اسرائیلی حکام نے اس تاثر کو رد کر دیا ہے کہ ریزرو فوجیوں کی جنگ میں شمولیت کو غزہ میں اسرائیل کی جنگی مہم کا اگلا مرحلہ سمجھا جا سکتا ہے۔ اسرائیلی حکومت کے ترجمان مارک ریگیو کے مطابق ریزرو فوجیوں کو میدانِ جنگ میں بھیجنے کا مقصد حماس پر مزید دباؤ ڈالنا ہے۔

اس سے قبل اسرائیلی وزیراعظم ایہود اولمرٹ نے کہا ہے کہ فوجی کارروائی جاری رہے گی اور اسرائیل اپنی فوجی مہم کے مقاصد کے حصول کے نزدیک ہے۔

فلسطینی طبی شعبے کے حکام کے مطابق اتوار کو رات گئے تک غزہ کے علاقے میں اسرائیلی حملوں میں چالیس افراد مارے گئے جن میں سے سترہ غزہ شہر میں ہلاک ہوئے۔حکام کے مطابق سولہ دن قبل شروع ہونے والی اسرائیلی کارروائی کے دوران اب تک نو سو کے قریب افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں بچوں کی ایک بڑی تعداد شامل ہے۔ اسی عرصے کے دوران راکٹ حملوں اور جنگ میں تیرہ اسرائیلی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

غزہ میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں بچوں کی ایک بڑی تعداد شامل ہے

غزہ میں کام کرنے والے دو نارویجن ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ علاقے کے مرکزی ہسپتال کا نظام تباہی کے قریب ہے اور مریض بنیادی طبی سہولیات اور ماہر ڈاکٹروں کے نہ ہونے کی وجہ سے مر رہے ہیں۔ ڈاکٹر گلبرٹ اور ڈاکٹر فاس نے کہا ہے کہ ہسپتال میں لائے جانے والے مریضوں میں سے نصف عام شہری ہیں جن میں بچے بھی شامل ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اسرائیلی حملوں میں طبی عملے کے بارہ ارکان بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

اسرائیلی حکام نے کہا ہے کہ فلسطینی شدت پسندوں نے جنوبی اسرائیل میں اتوار کو بارہ راکٹ فائر کیے جبکہ گولان کی پہاڑیوں میں شام کی طرف سے بھی اسرائیلی فوج پر ہلکے ہتھیاروں سے فائرنگ کی گئی جس سے کوئی جانی نقصان تو نہیں ہوا لیکن ایک گاڑی تباہ ہو گئی۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ فائرنگ ان کے خیال میں فلسطینی گروپوں کی جانب سے کی گئی ہے اور میں شامی فوج ملوث نہیں ہے۔

اتوار کو یروشلم میں اسرائیلی کابینہ کا اجلاس بھی ہوا جس میں آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کیا گیا۔ ایہود اولمرٹ نے کابینہ کے اجلاس کے آغاز میں کہا کہ ’اب وقت ہے کہ اپنی کامیابیوں کو اپنے اصل ہدف حاصل کرنے کے لیے استعمال کریں‘۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنے ہدف کی طرف بڑھ رہا ہے لیکن اس کے لیے تحمل اور مستقل مزاجی چاہیے ہوگی۔

یروشلم میں بی بی سی کے ایک نامہ نگار نے کہا کہ اسرائیلی حکومت آئندہ کے لیے پالیسی پر غور کر ہی ہے اور اسرائیلی کمانڈروں کے بارے میں خیال ہے کہ ان کی بےصبری بڑھ رہی ہے۔

اسرائیلی فوج نے ان اطلاعات کی بھی تردید کی ہے کہ اس نے شہریوں پر گندھک کے بم بھینکے ہیں۔ اس سے پہلے فلسطینی طبی عملے نے کہا تھا کہ خان یونس شہر کے مشرق میں واقع خوزہ کے علاقے میں اسرائیلی فوج نے فاسفورس (گندھک) کے بم پھینکے ہیں جن میں کم از کم پچاس افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ واضح رہے کہ بین الاقوامی قانون کے مطابق شہریوں کے خلاف گندھک کے بم استعمال کرنے پر پابندی ہے۔

حماس کے مطالبات
خالد مشعل
 ہمارا مطالبہ ہے کہ سب سے پہلے جنگ بندی ہو کیونکہ نہ تو یہ برابر کی جنگ ہے نہ ہی فائرنگ کا تبادلہ۔ دوئم تمام دشمن فوج فوراً غزہ سے نکل جائے۔سوئم غزہ کی ناکہ بندی ختم کی جائے کیونکہ یہی چیز ایک سال سے زیادہ عرصے سے پورے خطے کی دھماکہ خیز صورت حال کی وجہ ہے اور چہارم کہ سب سے پہلے رفاہ اور پھر غزہ کو جانے والے تمام راستے کھولے جائیں
 
حماس کے رہنما خالد مشعل

اسرائیل نے غزہ پر پرچیاں گرائی ہیں اور لوگوں کو فون کیے ہیں جن میں غزہ کے لوگوں کو فوجی کارروائی مزید تیز کرنے کی دھمکی دی گئی ہے جس کے بعد یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ اسرائیل اس لڑائی میں نئے حربے اختیار کرنے والا ہے۔

غزہ پر فضا سے پھینکی جانے والی پرچیوں اور فون کے ذریعے دیے جانے والے پیغاموں میں عربی زبان استعمال کی گئی اور غزہ کے لوگوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ حماس کی عمارتوں کے قریب نہ جائیں۔

دریں اثناء فلسطینی تنظیم حماس کے شام میں جلاوطن رہنما خالد مشعل نے کہا ہے کہ مقبوضہ غزہ پر حملہ کر کے اسرائیل نے گفتگو اور تصفیے کے تمام امکانات ختم کردیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب بھی فلسطینیوں نے گفتگو سے معاملات طے کرنے کی کوشش کی، انہیں صرف اور صرف تلخی ہاتھ آئی ہے۔

خالد مشعل کے بقول اگر اسرائیل فوجی کارروائی روک دے اور غزہ کا محاصرہ ختم کر دے تو ہی جنگ بندی ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا ’ہمارا مطالبہ ہے کہ سب سے پہلے جنگ بندی ہو کیونکہ نہ تو یہ برابر کی جنگ ہے نہ ہی فائرنگ کا تبادلہ۔ دوئم تمام دشمن فوج فوراً غزہ سے نکل جائے۔سوئم غزہ کی ناکہ بندی ختم کی جائے کیونکہ یہی چیز ایک سال سے زیادہ عرصے سے پورے خطے کی دھماکہ خیز صورت حال کی وجہ ہے اور چہارم کہ سب سے پہلے رفاہ اور پھر غزہ کو جانے والے تمام راستے کھولے جائیں۔‘

قاہرہ میں جنگ بندی کے مذاکرات میں غزہ کی سرحد پر ایک غیرملکی فورس کی تعیناتی کی بھی تجویز ہے اور فلسطینی صدر بھی اس کے حامی ہیں۔ لیکن خالد مشعل نے ایسی کسی بھی فورس کی تعیناتی کو مسترد کر دیا۔

’ہم کوئی عالمی فورس قبول نہیں کریں گے کیونکہ یہ عالمی فورس اسرائیلی سلامتی کو تحفظ دینے آئے گی اور وہ مزاحمت میں رکاوٹیں پیدا کرے گی۔ اگر ایسی کوئی بھی عالمی فورس ہم پر تھوپنے کی کوشش ہوئی تو ہم اسے قابض فوج کے طور پر دیکھیں گے۔‘

اب تک چار ہزار کے قریب فلسطینی زخمی ہو چکے ہیں

 
 
’لاشوں کے ٹکڑے‘
’میری بیوی، بیٹوں کی لاشیں گھر میں ہیں‘
 
 
قرارداد کا متن
غزہ فائربندی، سکیورٹی کونسل کی قرارداد
 
 
تباہی ہی تباہی
ایسے مناظر کے دل دہل جائے: ریڈ کراس
 
 
غزہ تیرہواں دن
غزہ،حملوں کا تیرہواں دن، تصاویر
 
 
حماس کی تباہی؟
حماس کی تباہی میں عربوں کی دلچسپی کیوں؟
 
 
غزہ اسرائیل کیا چاہتا ہے؟
حماس سے چھٹکارا یا انتخابات کی تیاری
 
 
اسرائیل چاہتا کیا ہے؟
فوجی کارروائی کے پیچھے اسرائیلی مقاصد کیا ہیں
 
 
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد