BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Tuesday, 13 January, 2009, 00:59 GMT 05:59 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
اسرائیلی پیشقدمی جاری، جنگ بندی کی تازہ اپیل
 
 غزہ
غزہ شہر سے اسرائیلی ٹینکوں اور بھاری مشین گنوں کی فائرنگ کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں

غزہ پر اسرائیلی فوجی کارروائی اٹھارہویں دن میں داخل ہو گئی ہے اور اسرائیلی فوج پہلی مرتبہ غزہ شہر کے اندرونی حصوں کی جانب پیش قدمی کر رہی ہے۔

ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے ایک مرتبہ پھر جنگ بندی کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل اور حماس کو غزہ میں لڑائی فوری طور پر ختم کر دینی چاہیے۔

اسرائیل اور حماس گزشتہ ہفتے سلامتی کونسل کی فوری جنگ بندی کی قرارداد کو رد کر چکے ہیں۔ بان کی مون کا کہنا تھا کہ ’میرا پیغام سادہ اور واضح ہے، جنگ رک جانی چاہیے۔ اس لڑائی میں بہت زیادہ لوگ مر چکے ہیں اور بڑے پیمانے پر انسانیت مشکلات کا شکار ہے‘۔بان کی مون غزہ میں جنگ بندی کی کوششوں کے لیے بدھ کو مشرقِ وسطٰی کا دورہ بھی کر رہے ہیں۔

منگل کو غزہ شہر میں اسرائیلی ٹینکوں اور بھاری مشین گنوں کی فائرنگ کی آوازیں سنی جا سکتی ہیں اور اسرائیلی فوجیوں نے غزہ کے جنوبی اور مشرقی نواح میں مزید پیش قدمی کی ہے جبکہ شہر کے مغربی حصہ کو گولہ باری کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

اسرائیلی حملوں میں اب تک اب تک نو سو سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں

اسرائیل نے حماس کی جانب سے دو اسرائیلی ٹینکوں کی تباہی کے دعوے کو رد کر دیا ہے۔حماس کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ شہر کے مختلف علاقوں میں اسرائیل سے جنگ میں مصروف ہے۔ سوموار کو بھی رات گئے تک غزہ سے اسرائیلی علاقے پر قریباً تیس راکٹ پھینکے گئے۔

اسرائیلی وزیراعظم ایہود اولمرٹ کا کہنا ہے کہ راکٹ حملے رکنے تک فلسطینی شدت پسندوں کو اسرائیل کے ’آہنی ہاتھ‘ کا سامنا کرنا پڑے گا جبکہ حماس کے سینئر رہنما اسماعیل ہنیہ نے کہا ہے کہ ان کی تنظیم’ فتح کے قریب‘ ہے۔ اپنے ایک ریکارڈ شدہ ویڈیو پیغام میں ہنیہ نے کہا کہ ’ سترہ دن کی اس احمقانہ جنگ کے بعد بھی غزہ نہ تو ٹوٹا ہے اور نہ ہی ٹوٹے گا‘۔

فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ تقریباً تین ہفتے سے جاری اس اسرائیلی فوجی آپریشن میں اب تک نو سو دس فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں جن میں دو سو بانوے بچے اور پچھہتر عورتیں بھی شامل ہیں۔ اسی دوران اسرائیل کے دس فوجی اور تین شہری بھی مارے گئے ہیں۔

اسرائیل نے تاحال بین الاقوامی صحافیوں کو غزہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی ہے۔ امدادی اداروں کا بھی کہنا ہے کہ غزہ میں حالات بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں اور غزہ کے پندرہ لاکھ رہائشیوں کو فوری طور پر خوراک اور ادویات پہنچانے کی ضرورت ہے تاہم انہیں امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک اکیس ہزار افراد بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ دس لاکھ سے زائد افراد بجلی سے محروم ہیں۔

یورپی یونین نے کہا ہے کہ وہ غزہ کے لیے بین الاقوامی امدادی کانفرنس طلب کرنے کے لیے تیار ہے۔ یورپی یونین کے صدر ملک جمہوریہ چیک کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق اس کانفرنس میں غزہ کے شہریوں کی امداد کے علاوہ علاقے کی طویل المدتی تعمیرِ نو کے منصوبوں پر بھی بات کی جانی چاہیے۔


 
 
زخمی بچی غزہ پر غضب
فوجی کارروائی، مظاہرے اور غزہ کے مظلوم
 
 
 غزہ اسرائیل کا اعتراف
یو این سکول پر حملہ ایک غلطی تھی
 
 
عباس کی کشمکش
غزہ پر بمباری اور صدر عباس کی کارکردگی
 
 
’لاشوں کے ٹکڑے‘
’میری بیوی، بیٹوں کی لاشیں گھر میں ہیں‘
 
 
قرارداد کا متن
غزہ فائربندی، سکیورٹی کونسل کی قرارداد
 
 
غزہ اسرائیل کیا چاہتا ہے؟
حماس سے چھٹکارا یا انتخابات کی تیاری
 
 
حماس کی تباہی؟
حماس کی تباہی میں عربوں کی دلچسپی کیوں؟
 
 
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد