BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Tuesday, 13 January, 2009, 02:25 GMT 07:25 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
’بیالیس فیصد مرنے والے بچےاورعورتیں‘
 
زخمی فلسطینی
’ہسپتال اس وقت انسانی مصائب کی صحیح تصویر کشی کر رہے ہیں‘
اقوام متحدہ کے رابطہ کار برائے ہنگامی امداد جان ہومز کا کہنا ہے کہ غزہ میں ہلاک ہونے والے افراد میں سے چالیس فیصد سے زائد بچے اور عورتیں ہیں اور علاقے میں جس بڑے پیمانے پر تشدد ہو رہا ہے اسے دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔

نیویارک میں ایک بریفنگ کے دوران جان ہومز کا کہنا تھا کہ غزہ میں اس وقت تشدد کی جو قیمت انسانی جانوں کی صورت میں ادا کی جا رہی ہے اس کا خیال ہی روح فرسا ہے۔

بی بی سی اردو کے نامہ نگار حسن مجتبٰی کے مطابق نیویارک میں ذرائع ابلاغ کو مشترکہ بریفنگ دیتے ہوئے اقوام متحدہ کی انسانی امدادی ایجنسی کے انڈر سیکرٹری جنرل جان ہومز اور اقوام متحدہ کی ہی انسانی امدادی ایجنسی’انرا‘ کے سربراہ جان گینک نے بتایا کہ اس وقت غزہ میں پانچ لاکھ لوگ پانی سے محروم ہیں اور انہیں پانی کی فوری فراہمی کا کوئي ذریعہ نہیں کیونکہ پانی کے تمام کنویں ان مقامات پر ہیں جہاں اس وقت جھڑپیں جاری ہیں۔

غزہ سے ویڈیو لنک کے ذریعے بات کرتے ہوئے جان گینک نے کہا کہ غزہ کا الشفا ہسپتال اس وقت انسانی مصائب کی صحیح تصویر کشی کر رہا ہے جہاں شدید زخمی اور انتہائي جھلسے ہوئے بچے اور حاملہ عورتیں داخل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ متعدد بچے اور عورتیں اپنے اعضا سے محروم ہو چکے ہیں۔

انہوں نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ اسرائيلی دعوؤں کے برعکس انہوں نے الشفا ہسپتال میں حماس کا کوئی بھی رہنما یا ان کی طرف سے چھپایا ہوا اسلحہ نہیں دیکھا اور نہ ہی انہیں ہسپتال میں حماس کی کمین گاہ ہونے کے کوئي شواہد ملے۔جان گینک نے بتایا کہ الشفاء ہسپتال میں اب غیر ملکی رضاکار اور طبی عملہ بھی فلسطینی طبی عملے کے شانہ بشانہ زخمیوں کی دیکھ بھال میں حصہ لے رہا ہے۔

اسی بریفنگ کے دوران جان ہومز کا کہنا تھا کہ فلسطینی وزارتِ صحت کے اعدادوشمار کے مطابق اب تک ہلاک ہونے والے افراد میں سے دو سو ستّر بچے اور ترانوے عورتیں ہیں اور یہ اعدادوشمار مرنے والوں کی کل تعداد کا بیالیس فیصد کے قریب بنتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ ان کے پاس ان اعدادوشمار کی آزادانہ تصدیق کے ذرائع موجود نہیں تاہم ان کے خیال میں ان اعدادوشمار پر یقین کیا جا سکتا ہے کیونکہ اس جنگ میں فلسطینی شہریوں کی ہلاکتوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگرچہ میڈیا میں غزہ میں زخمی ہونے والوں کے شدید جھلسے اور خون رستے جسموں کو اسرائیلی حملے فاسفورس بموں کا نشانہ بتایا گيا ہے لیکن وہ اپنے ذرائع سے تاحال اس کی تصدیق نہیں کر سکے کہ اسرائیل نے غزہ میں فاسفورس بم استعمال کیے ہیں۔

 
 
زخمی بچی غزہ پر غضب
فوجی کارروائی، مظاہرے اور غزہ کے مظلوم
 
 
 غزہ اسرائیل کا اعتراف
یو این سکول پر حملہ ایک غلطی تھی
 
 
عباس کی کشمکش
غزہ پر بمباری اور صدر عباس کی کارکردگی
 
 
’لاشوں کے ٹکڑے‘
’میری بیوی، بیٹوں کی لاشیں گھر میں ہیں‘
 
 
قرارداد کا متن
غزہ فائربندی، سکیورٹی کونسل کی قرارداد
 
 
غزہ اسرائیل کیا چاہتا ہے؟
حماس سے چھٹکارا یا انتخابات کی تیاری
 
 
حماس کی تباہی؟
حماس کی تباہی میں عربوں کی دلچسپی کیوں؟
 
 
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد