BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Sunday, 25 January, 2009, 18:12 GMT 23:12 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
’اسرائیلی فوج کے لیے ریاستی تحفظ‘
 
غزہ میں اسرائیلی فوج
غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیوں کو بین لاقوامی چھان بین کا سامنا ہے

اسرائیل کے وزیراعظم ایہود اولمرٹ نے کہا ہے کہ اگر غزہ میں کارروائی میں شامل کسی اسرائیلی فوجی پر جنگی جرائم کا الزام لگایا گیا تو اسے بیرونِ ملک مقدمے کا سامنا کرنے سے بچانے کے لیے ریاستی تحفظ فراہم کیا جائے گا۔

ایہود اولمرٹ نے کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس میں کہا کہ ملک کے لیے اپنی جانیں خطرے میں ڈالنے والے فوجیوں کو بیرونِ ملک جنگی جرائم کے مقدمات کے بارے میں فکرمند ہونے کی ضروررت نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوجیوں کو یہ جان لینا چاہیے کہ ان کا عمل ملک کی حفاظت کے لیے تھا اور اسرائیل ان کی حفاظت کرے گا۔اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ ’ وہ کمانڈر اور فوجی جنہیں غزہ مشن پر بھیجا گیا یہ جان لیں کہ وہ کسی بھی ٹرائبیونل سے محفوظ ہیں اور اسرائیلی ریاست اس معاملے میں ان کی مدد کرے گی اور ان کی حفاظت کرے گی‘۔

خیال رہے کہ غزہ سے اسرائیلی فوج کے انخلاء کے بعد وہاں سے شہری ہلاکتوں کے ملنے والے شواہد کی بناء پر اسرائیلی فوج کی کارروائیوں کو بین لاقوامی چھان بین کا سامنا ہے۔

حقوقِ انسانی کے گروپوں کی جانب سے کی جانے والی شکایات میں اسرائیل کو بلاتفریق فائرنگ اور شہری آبادی پر سفید فاسفورس بموں کے استعمال کے الزامات لگائے گئے ہیں۔اسرائیل نے غزہ میں سفید فاسفورس بموں کے استعمال کا اعتراف تو کیا ہے لیکن اس کا کہنا ہے کہ اس نے کسی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی نہیں کی۔

اسرائیلی فوجیوں پر بلا تفریق فائرنگ کے الزامات لگے ہیں

بین الاقوامی قوانین کے مطابق میدانِ جنگ میں سفید فاسفورس کا استعمال کھلے میدان میں دھوئیں کی چادر تاننے کے لیے کیا جا سکتا ہے لیکن صحافیوں اور حقوقِ انسانی کی بین الاقوامی تنظیموں کے مطابق اسرائیل نے یہ بم پر ہجوم شہری علاقوں میں استعمال کیے۔

ادھر حماس کے اراکین غزہ کی پٹی میں نافذ غیر مستحکم جنگ بندی سے متعلق بات چیت کے لیے مصر کے اہلکاروں سے ملاقات کر رہے ہیں۔ حماس کے مخالف گروپ الفتح کے نمائندے بھی مفاہمت کی بات چیت دوبارہ شروع کرنے کے لیے مصر جانے والے ہیں۔

ایک طویل عرصے سے مصر فلسطین اور اسرائیل کے درمیان ایک مذاکرات کار کا کام کیا ہے۔ اسرائیل حماس کو ایک شدت پسند تنظیم قرار دیتا ہے اور اس کے ساتھ براہ راست بات چیت سے انکار کرتا آیا ہے۔ مصر کی سرکاری خبر ایجنسی کا کہنا ہے مصر کے خفیہ چیف عمر سلیمان حماس کے ایک وفد کے ساتھ ملاقات کریں گے۔ وہ اس سے پہلے جمعرات کوقاہرہ میں اسرائیلی ایلچی سے بھی بات چیت کر چکے ہیں۔

اس بات چیت کا مقصد جنگ بندی کا معاہدہ کر کے فی الوقت غزہ میں جنگ بندی کو مستحکم کرنا ہے لیکن حماس کو مطمئن کرنے کے لیے اس معاہدے میں ایسا منصوبہ شامل کرنا ہوگا جس کے تحت غزہ سرحد کو دوبارہ کھول دیا جائے۔

 
 
رائفل نہیں کانپی
’اسرائیلی فوجی کی رائفل کا نشانہ تین بچیاں‘
 
 
’یہ پل ٹوٹ رہا ہے‘
میری بیٹیوں کا کیا قصور تھا؟ غزہ کا غمزدہ ڈاکٹر
 
 
امیرۃ کِرچی کِرچی زندگیاں
’ٹوٹی ٹانگ کے ساتھ دو راتیں گلی میں گزاریں ‘
 
 
غزہ، کب کیا ہوا
فوجی کارروائی کے دوران پیش آنے والے اہم واقعات
 
 
غزہ کے مسئلے پر
فرانسیسی مسلمان اور یہودیوں میں تناؤ
 
 
 غزہ اسرائیل کا اعتراف
یو این سکول پر حملہ ایک غلطی تھی
 
 
یو این یو این ڈائری
غزہ سفارتکاری میں آئندہ چوبیس گھنٹے اہم
 
 
اسی بارے میں
بان کی مون غزہ کے دورے پر
20 January, 2009 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد