BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Sunday, 25 January, 2009, 23:58 GMT 04:58 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
خانہ جنگی خاتمے کے قریب: جنرل
 
لیفٹیننٹ جنرل سارتھ فونسیکا
جنرل فونسیکا نے کہا ہے کہ تقریباً پچانوے فیصد کام مکمل ہو چکا ہے
سری لنکا کی فوج کے کمانڈر نے اشارہ دیا ہے کہ ملک میں قریب پچیس برس سے جاری خانہ جنگی اب ختم ہونے کے قریب ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل سارتھ فونسیکا ملک کے شمال مشرق میں تامل علیحدگی پسندوں کے قبضے میں آخری اہم قصبے ملا تیوا کا کنٹرول فوج کے سنبھالنے کے بعد سرکاری ٹیلیویژن پر قوم سے خطاب کر رہے تھے۔

حکومتی فوج تامل علیحدگی پسندوں کی ایک علیحدہ ملک کے لیے جاری جدوجہد کو مکمل طور پر کچلنے کے لیے گزشتہ کئی ماہ سے ملک کے شمال میں کاروائی کر رہی ہے۔

کولمبو سے بی بی سی کے نامہ نگار انبرا سین ایتھی راجن لکھتے ہیں کہ سری لنکا کی فوج کے سربراہ سارتھ فونسیکا کے ٹیلیویژن پر اپنے خطاب میں ملاتیوا کے قصبے پر فوج کے کنٹرول کے اعلان کے ساتھ ہی دارالحکومت کولمبو میں لوگوں نے آتش بازی کے ذریعے اپنی خوشی کا اظہار کیا۔

مسٹر فونسیکا نے اپنے خطاب میں کہا کہ ملاتیوا پر قبضے کے ساتھ ہی تامل علیحدگی پسندوں پر فتح کا پچانوے فیصد کام مکمل کرلیا گیا ہے۔

’الیفنٹ پاس‘
’الیفنٹ پاس‘ وہ جگہ ہے جو شمالی جافنا جزیرہ نما کو ملک سے دوسرے حصوں سے ملاتا ہے

فوج کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اب فوج ملا تیوا میں بچی کھچی مزاحمت کو ختم کرنے کا کام کر رہی ہے۔ گزشتہ کئی مہینوں سے جاری اِس فوجی کارروائی میں تامل علیحدگی پسندوں کو ہونے والی یکے بعد دیگرے ناکامیوں میں ملا تیوا میں شکست ان کے لیے ایک خاصہ بڑا دھچکہ ہے۔ اِس شکست پر تامل علیحدگی پسندوں کی جانب سے ابھی تک کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

فوج کے مطابق سنیچر کو تامل باغیوں نے فوج کی پیش قدمی کو روکنے کے لیے ڈیم کی دیوار توڑ دی تھی۔ ان دعوؤں کی تصدیق بھی نہیں کی جا سکتی کیونکہ شورش زدہ علاقوں میں صحافیوں کا داخلہ ممنوع ہے۔

سری لنکا کی حکومت قریب پچیس سال سے جاری اِس لڑائی میں کامیاب ہونے پر خاصی پرامید نظر آتی ہے۔ ہیں۔اس شورش کے دوران کم از کم ستر ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

کچھ اہلکاروں کا کہنا ہے کہ فوج اب محض چند ہفتوں میں ملک کے شمال کو تامل علیحدگی پسندوں کے اثر سے مکمل طور پر صاف کر دے گی لیکن کئی تامل باشندوں کا کہنا ہے کہ محض تامل علاقوں پر قبضہ کر لینے سے یہ تنازعہ ختم نہیں ہوسکتا بلکہ دیرپا امن کے لیے کسی سیاسی حل کی ضرورت ہے۔

 
 
’میں بزدل نہیں ہوں‘
سری لنکن ایڈیٹر کا قتل سے پہلے آخری اداریہ
 
 
قبضے کی اہمیت قبضے کی اہمیت
تامل ٹائیگرز کے مرکز پر فوج کا قبضہ کتنا اہم؟
 
 
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد